سنبھالو دل محبت میں تو ایسا ہو ہی جاتا ہے
سنبھالو دل محبت میں تو ایسا ہو ہی جاتا ہے
جگر کی بیکلی سے درد پیدا ہو ہی جاتا ہے
رقیبو رشک کیا کرتے ہو گر اس کو محبت ہے
جسے دل پیار کرتا ہے وہ اپنا ہو ہی جاتا ہے
چمن میں جب کبھی میں بھول کر جا نکلتا ہوں
میرا دل پیار کرتا ہے وہ اپنا ہو ہی جاتا ہے
دکھائی کچھ نہیں دیتا عجب اندھیر چھایا ہے
چڑھا جن عشق کا سر جس کے اندھا ہو ہی جاتا ہے
بتوں کی صحبت و خدمت سے آخر کیا نتیجہ ہے
سولہ سکے کہ سنگ اپنا بھی سینہ ہو ہی جاتا ہے
نکل جاتے ہیں بلداروں کے سب بل عشق ہی تو ہے
جو آیا اس شکنجہ میں وہ سیدھا ہو ہی جاتا ہے
تمہاری زلف کا پھندا ہمارا ایک دشمن ہے
کہ دل پھنستے ہی اپنی جان کا لیوا ہو ہی جاتا ہے
حسینوں کو خدا جب حسن دیتا ہے من مانا
تو ان کو چاہنے والوں سے غمزہ ہو ہی جاتا ہے
عدو نے دم نہ مارا سنتے ہی یہ حال پوشیدہ
کہ گھر پر اس صنم کے روز شرما ہو ہی ہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.