Font by Mehr Nastaliq Web

کہیے کہیے آپ کو کیا بندہ پرور چاہیے

نا معلوم

کہیے کہیے آپ کو کیا بندہ پرور چاہیے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    کہیے کہیے آپ کو کیا بندہ پرور چاہیے

    دل کی خواہش ہے جگر کیسا ہے یا سر چاہیے

    قاصد شوق دروں لے جائے گا نامہ مرا

    پیک کی حاجت ہے مجھ کو نے کبوتر چاہیے

    رات دن کی کوچہ گردی سے تو کچھ حاصل نہیں

    گردشیں جس میں نہ ہوں ایسا مقدر چاہیے

    عشق میں صحرا نوردی نے کی ہے اختیار

    اب ہوس تکیہ کی ہے مجھ کو بستر چاہیے

    سن کے عرض مدعا دو شوق سے تم گالیاں

    میں کہتے جاؤں گا ہاں قند مکرر چاہیے

    ہجر کی شب اے خدا بس ہے یہی میری دعا

    اس اندھیری رات میں وہ ماہ پیکر چاہیے

    مختصر بھی جو لکھو ہمدم فسانہ ہجر کا

    کم سے کم اس کے لیے بھی ایک دفتر چاہیے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے