رات ہم اس بت کے قدموں پر جو سر دھرنے لگے
رات ہم اس بت کے قدموں پر جو سر دھرنے لگے
ہنس کے بولا جو نہ کرنا تھا سو تم کرنے لگے
نا صحو ہے خیر کل تو ہم کو کرتے تھے منع
آج اس کی عاشقی کا تم بھی دم بھرنے لگے
یہ تو ہم کیوں کر کہیں کچھ بھی نہ تھا ایمائے یار
ہم سے ناحق اس کے آگے مدعی لڑنے لگے
عشق میں کیا جانیے کیوں ہو گیا یہ ہول دل
جس سے کچھ خطرہ نہیں تھا اس سے بھی ڈرنے لگے
جب میں کہتا ہوں مرے گھر چلئے تب کہتا ہے یار
تم تو اب کچھ منہ لگانے سے بہت بڑھنے لگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.