بحمداللہ کھلا ہے نعت گوئی میں دہن اپنا
بحمداللہ کھلا ہے نعت گوئی میں دہن اپنا
بھلا کیوں کر نہ مقبول خدا ہو ہر سخن اپنا
میں مثل عندلیب زار لکھتا داستان عشق
نظر آتا جو باغ دہر میں غنچۂ دہن اپنا
ریاض نعت احمد میں یہی نغمۂ بلبل
رہے سرسبز یاد گل میں یا رب یہ چمن اپنا
نہال آرزو اپنا الٰہی یہ ثمر لائے
کرے گل گشت باغ دل میں ہو گل پیرہن اپنا
نزاکت اس گل خوبی میں یہ اللہ نے دی ہے
وفور شرم سے چہرہ چھپا لے یاسمن اپنا
گلاب و کیتکی کیوڑا گل نرگس بھی قرباں ہو
تصدق جان و دل کیوں کر نہ کر دے نسترن اپنا
زیارت خواب ہی میں ہو جو حاصل آپ کی شاہا
ملے قدموں سے منہ جا کر یہ یوسفؔ خستہ تن اپنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.