وہ قامت موزوں ہے کہ سرو چمنی ہے
اور وہ تن نازک ہے کہ برگ سمنی ہے
وہ سرخیٔ لب رشک عقیق یمنی ہے
اور وہ در دان ہے کہ ہیرے کی کنی ہے
عنبر کی طرح جس سے جہاں بس گیا سارا
وہ زلف معنبر ہے کہ مشک ختنی ہے
اے نور خدا ہوں میں تری دید کا طالب
موسیٰ کی طرح لب پہ جو رب ارنی ہے
رحمت کی نظر اپنے گنہ گار پہ شاہا
تو مطلبی ہاشمی مکی مدنی ہے
طوطی ترا بولا ہے وفا نعت نبی میں
بلبل نے اڑائی تری شیریں سخنی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.