Font by Mehr Nastaliq Web

کس سے کیجے عشق کوئی دل ربا ملتا نہیں

نا معلوم

کس سے کیجے عشق کوئی دل ربا ملتا نہیں

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    کس سے کیجے عشق کوئی دل ربا ملتا نہیں

    اور اگر ملتا بھی ہے تو با وفا ملتا نہیں

    ظلم نے پیسا ہو جس کو آسیائے چرخ میں

    روح کو کچھ نعش کا اس کی پتہ ملتا نہیں

    سیکڑوں بت خانے ڈھونڈھے اور ہزاروں مسجدیں

    کیا غضب ہے وہ بت کافر ادا ملتا نہیں

    طالب جنت ہے یہ اور طالب دیدار وہ

    رند کو کہتے ہیں کیوں ظاہر خدا ملتا نہیں

    ہم کہے دیتے ہیں پچھتاؤ گے ہم کو چھوڑ کر

    چاہنے والا ہمیشہ دل ربا ملتا نہیں

    لوٹ کر آنے میں قاصد کے ہوا عرصہ جو ہے

    خانۂ دلدارؔ کا شاید پتہ ملتا نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے