Font by Mehr Nastaliq Web

درد جب سے وہ یار جانی ہے

نا معلوم

درد جب سے وہ یار جانی ہے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    درد جب سے وہ یار جانی ہے

    سخت جانی سے زندگانی ہے

    بستر غم سے ہل نہیں سکتے

    ناتوانی سے ناتوانی ہے

    دل ہے سرگرم نالۂ و افغاں

    چشم مصروف جاں فشانی ہے

    درد ہے اپنے دل میں ساری رات

    اور غم عشق کی کہانی ہے

    جاں بہ لب مجھ کو دیکھ کر اے وائے

    اب تو سب کی یہی زبانی ہے

    حسین عاشق ہے یہ جو خشک ہیں لب

    رنگ چہرے کا ارغوانی ہے

    ہے یہ ظاہر اب ان کے نقشے سے

    بے طرح کچھ غم نہانی ہے

    ہے یہ افسوس اس نے دنیا کا

    ابھی دیکھا ہے کیا جوانی ہے

    اشک حسرت سوا قفس میں آہ

    نہ تو دانہ ہے اور نہ پانی ہے

    تجھ کو میں چھوڑ کر کے چاہوں

    کون تیرا جہاں میں ثانی ہے

    جاں بلب میں جو ہوں تو اے یارو

    کسی کی مجھ پہ مہربانی ہے

    یہی غم ہے تو دیکھیو جرأت

    جان بس کوئی دن میں جانی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے