درد جب سے وہ یار جانی ہے
سخت جانی سے زندگانی ہے
بستر غم سے ہل نہیں سکتے
ناتوانی سے ناتوانی ہے
دل ہے سرگرم نالۂ و افغاں
چشم مصروف جاں فشانی ہے
درد ہے اپنے دل میں ساری رات
اور غم عشق کی کہانی ہے
جاں بہ لب مجھ کو دیکھ کر اے وائے
اب تو سب کی یہی زبانی ہے
حسین عاشق ہے یہ جو خشک ہیں لب
رنگ چہرے کا ارغوانی ہے
ہے یہ ظاہر اب ان کے نقشے سے
بے طرح کچھ غم نہانی ہے
ہے یہ افسوس اس نے دنیا کا
ابھی دیکھا ہے کیا جوانی ہے
اشک حسرت سوا قفس میں آہ
نہ تو دانہ ہے اور نہ پانی ہے
تجھ کو میں چھوڑ کر کے چاہوں
کون تیرا جہاں میں ثانی ہے
جاں بلب میں جو ہوں تو اے یارو
کسی کی مجھ پہ مہربانی ہے
یہی غم ہے تو دیکھیو جرأت
جان بس کوئی دن میں جانی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.