دل وہ آباد نہیں جس میں تیری یاد نہیں
دل وہ آباد نہیں جس میں تیری یاد نہیں
ہے وہ کافر جو تیری راہ میں برباد نہیں
اے غم یار تیرے دم سے ہے تعمیر حیات
تو سلامت ہے تو ہستی میری برباد نہیں
ڈھونڈنے کو تجھے میرے نہ ملنے والے
وہ چلا ہے جسے اپنا ہی پتہ یاد نہیں
جام جب پینے لگے منہ سے کہا بسم اللہ
یہ نہ سمجھے کوئی رندوں کا خدا یاد نہیں
سر ہے سجدے میں تیرا دل میں طلب حوروں کی
فلسفہ رسم عبادت کا تجھے یاد نہیں
خاک اڑاؤ کہ یہ وہ دور رستم ہے لوگو
سب کو سب کی ہے خبر اپنا کیا یاد نہیں
اے جگرؔ ہے تیری ہستی کی حقیقت اتنی
مجھ میں ہے آباد اور میں کہیں آباد نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.