Font by Mehr Nastaliq Web

دل وہ آباد نہیں جس میں تیری یاد نہیں

نا معلوم

دل وہ آباد نہیں جس میں تیری یاد نہیں

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    دل وہ آباد نہیں جس میں تیری یاد نہیں

    ہے وہ کافر جو تیری راہ میں برباد نہیں

    اے غم یار تیرے دم سے ہے تعمیر حیات

    تو سلامت ہے تو ہستی میری برباد نہیں

    ڈھونڈنے کو تجھے میرے نہ ملنے والے

    وہ چلا ہے جسے اپنا ہی پتہ یاد نہیں

    جام جب پینے لگے منہ سے کہا بسم اللہ

    یہ نہ سمجھے کوئی رندوں کا خدا یاد نہیں

    سر ہے سجدے میں تیرا دل میں طلب حوروں کی

    فلسفہ رسم عبادت کا تجھے یاد نہیں

    خاک اڑاؤ کہ یہ وہ دور رستم ہے لوگو

    سب کو سب کی ہے خبر اپنا کیا یاد نہیں

    اے جگرؔ ہے تیری ہستی کی حقیقت اتنی

    مجھ میں ہے آباد اور میں کہیں آباد نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    تاج محمد اور شاد محمد نیازی

    تاج محمد اور شاد محمد نیازی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے