Font by Mehr Nastaliq Web

عدم سے کس لئے آیا ارے نادان پردیسی

نا معلوم

عدم سے کس لئے آیا ارے نادان پردیسی

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    عدم سے کس لئے آیا ارے نادان پردیسی

    بھروسہ کیا ہے دنیا کا ارے نادان پردیسی

    یہ کیوں ڈالے ہیں ڈیرے کس لئے یہ چھاؤنی ہے چھائی

    مسافر ہے تو دو دن کا ارے نادان پردیسی

    کہاں سے آیا جاتا ہے کہاں ایک بات سنتا جا

    یہاں پر بھی کبھی آنا ارے نادان پردیسی

    کئے سامان کیا کیا چند روزہ زندگانی پر

    یہ سب رہ جائے گا جھگڑا ارے نادان پردیسی

    نہ سو یوں خواب غفلت میں تماشا دیکھ دنیا کا

    کہ یہ دو دن کا ہے میلہ ارے نادان پردیسی

    یہاں مل جل کے رہ سب سے کہ ملنا ہی غنیمت ہے

    تجھے ہے خاک میں ملنا ارے نادان پردیسی

    عبادت کے لئے آیا ہے بچ بہکانے والوں سے

    نہ کھا پردیس میں دھوکہ ارے نادان پردیسی

    بہت لے جاتے ہیں پھل پھول سیر باغ عالم سے

    لیا تونے بھی کچھ ثمرہ ارے نادان پردیسی

    کہاں دارا کہاں جمشید سکندر کہاں اکبرؔ

    ہے سب کو خاک میں ملنا ارے نادان پردیسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے