Font by Mehr Nastaliq Web

وہ دیتے ہیں ہر اک کو گالیاں آہستہ آہستہ

نا معلوم

وہ دیتے ہیں ہر اک کو گالیاں آہستہ آہستہ

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    وہ دیتے ہیں ہر اک کو گالیاں آہستہ آہستہ

    کچھ اب بڑھتی چلی ان کی زباں آہستہ آہستہ

    مزہ مل جائے کشتے کو تمہارے دست نازک سے

    مری گردن پہ ہو خنجر رواں آہستہ آہستہ

    شب وصلت ہے آخر میں نہ رہ جاؤں کہیں محرم

    مؤذن دیجیو للہ اذاں آہستہ آہستہ

    ہزاروں دل بچھے ہیں آپ کے چلنے کے رستے میں

    قدم رکھنا ذرا اے جان جاں آہستہ آہستہ

    ابھی کم سن ہیں وہ فضل خدا سے جب جواں ہوں گے

    بڑھیں گی اور اس سے شوخیاں آہستہ آہستہ

    ہتھیلی میں سر اپنا لے کے چلئے بہر استقبال

    وہ آتے ہیں ہلالؔ ابر و کماں آہستہ آہستہ

    مأخذ :
    • کتاب : Guldasta-e-Qawwali (Pg. 24)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے