Font by Mehr Nastaliq Web

ہے بدن میں زخم ہزار ہا وہ ہے کون جاگہہ جہاں نہیں

نا معلوم

ہے بدن میں زخم ہزار ہا وہ ہے کون جاگہہ جہاں نہیں

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    ہے بدن میں زخم ہزار ہا وہ ہے کون جاگہہ جہاں نہیں

    مرے درد دل کو نہ پوچھیے کہ کہاں کہاں ہے کہاں نہیں

    یہ الم یہ صدمہ یہ رنج و غم ولے لب پہ آہ و فغاں نہیں

    وہ وہاں ہوں جس میں زباں نہیں وہ زباں ہوں جس میں بیاں نہیں

    دل و جان و جسم و جگر سبھی تپ غم سے جل گئے دفعتاً

    نہ کھلا کہ آگ کہاں لگی کسی جا سے اٹھتا دھواں نہیں

    کھلے گل کی طرح سے داغ ہیں مرے جسم زار و نزار پر

    وہ بہار ہوں جو سدا ہے وہ چمن ہوں جس میں خزاں نہیں

    رہ عشق میں جو گزر گیا تو کھلا یہ بسمل زار پر

    وہ زبان جس میں نہ سود ہے وہ ہوں سود جس میں زباں نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Naghma-e-Sheeri'n (Pg. 17)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے