ہے بدن میں زخم ہزار ہا وہ ہے کون جاگہہ جہاں نہیں
ہے بدن میں زخم ہزار ہا وہ ہے کون جاگہہ جہاں نہیں
مرے درد دل کو نہ پوچھیے کہ کہاں کہاں ہے کہاں نہیں
یہ الم یہ صدمہ یہ رنج و غم ولے لب پہ آہ و فغاں نہیں
وہ وہاں ہوں جس میں زباں نہیں وہ زباں ہوں جس میں بیاں نہیں
دل و جان و جسم و جگر سبھی تپ غم سے جل گئے دفعتاً
نہ کھلا کہ آگ کہاں لگی کسی جا سے اٹھتا دھواں نہیں
کھلے گل کی طرح سے داغ ہیں مرے جسم زار و نزار پر
وہ بہار ہوں جو سدا ہے وہ چمن ہوں جس میں خزاں نہیں
رہ عشق میں جو گزر گیا تو کھلا یہ بسمل زار پر
وہ زبان جس میں نہ سود ہے وہ ہوں سود جس میں زباں نہیں
- کتاب : Naghma-e-Sheeri'n (Pg. 17)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.