Font by Mehr Nastaliq Web

نہ مے شمشیر ہوتی ہے نہ نوک تیر ہوتی ہے

نا معلوم

نہ مے شمشیر ہوتی ہے نہ نوک تیر ہوتی ہے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    نہ مے شمشیر ہوتی ہے نہ نوک تیر ہوتی ہے

    نگاہ مست ساقی کی یہ سب تاثیر ہوتی ہے

    یہی دیکھا کہ ناکام اثر تدبیر ہوتی ہے

    جو ہونے والی ہوتی ہے بہر تقدیر ہے ہے

    ادھر تخریب کے ساماں ادھر تعمیر ہوتی ہے

    وہاں تقدیر ہستی ہے یہاں تدبیر ہوتی ہے

    یہ مانا لن ترانی ناز معشوقانہ ہے لیکن

    تمہارے دیکھنے والے کی بھی تحقیر ہوتی ہے

    عجب تاثیر یہ خاک فنا فی العشق میں دیکھی

    وہ جھنجھلا کر جھٹکتے ہیں بہ دامن گیر ہوتی ہے

    جو جل کر خاک ہو جاتا ہے دل سوز محبت سے

    وہ خاکستر نہیں اکسیر گر اکسیر ہوتی ہے

    قضا کو بھی ترس آتا نہیں ان کی مصیبت پر

    تمہارے مرنے والوں کی عجب تقدیر ہوتی ہے

    یہاں تک اعتبار عشق صادق ہے انہیں میرا

    خطا چاہے کسی کی ہو مجھے تعزیر ہوتی ہے

    شب فرقت میں بے تابی بھی محشر میں ہے رسوائی

    بہر صورت مری تشہیر پر تشہیر ہوتی ہے

    دعا میں لطف ملتا ہے نہیں معلوم یہ ہم کو

    وہ تاثیر ہوتی ہے کہ بے تاثیر ہوتی ہے

    خدا معلوم وہ کس مرتبے کے پینے والے تھے

    کہ جن کی خاک سے مے خانوں کی تعمیر ہوتی ہے

    نظر آتی ہے اپنی شکل میں شکل آپ کی مجھ کو

    مری تصویر گویا آپ کی تصویر ہوتی ہے

    ڈرا ہے عذاب حشر سے واعظ وہ کیا جانے

    خطا انساں سے بر اندازۂ تعزیر ہوتی ہے

    جدا انداز ہیں ہر گھر میں رعناؔ ساز وحدت کے

    کہیں ناقوس بجتا ہے کہیں تکبیر ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے