Font by Mehr Nastaliq Web

بہار کے شاعر اور ادیب

کل: 404

ممتاز عالمِ دین، صوفی، ادیب اور خانقاہ شہبازیہ، بھاگل پور کے سجادہ نشیں تھے، آپ کی معروف تصنیف کائناتِ تصوف ہے، جبکہ سبز حروف کے شجر اور برگِ ثنا حرف حرف آپ کے اہم نعتیہ مجموعے ہیں، آپ نے علم، تصوف اور ادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

عالمی صوفی مشن، دہلی کے صدر

مغربی چمپارن کے قصبہ بتیا کے ایک صوفی بزرگ جو حضرت دیوان شاہ ارزاں کے مرید اور شاعر تھے۔

علم و تصوف کی ممتاز شخصیت تھے، اہلِ بیت سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور مرثیہ، نوحہ و سلام کے شاعر تھے۔

صوفی منیری کے شاگرد عزیز

آستانہ حضرت پیر منصور، گیا کے امام و خطیب اور گیا کے معروف عالمِ دین

اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور شمس العلما کے خطاب سے سرفراز ادیب تھے، آپ کی سب سے معروف تصنیف "کاشف الحقائق" اردو تنقید کی اہم اور ابتدائی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر عبور کے باعث آپ کی تنقید علمی گہرائی، استدلال اور فکری توازن کی آئینہ دار ہے۔

خانقاہ امجدیہ، سیوان کے چشم و چراغ اور معروف تظمین نگار

شاہ اکبر داناپوری کے شاگرد

بولیے