اتر پردیش کے شاعر اور ادیب
کل: 1209
جرم محمدآبادی
- پیدائش : محمد آباد
- سکونت : کولکاتا
- Shrine : کولکاتا
اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی تھے، غزل آپ کی محبوب صنف تھی، تاہم نثر نگاری اور ادارت میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، ان کی اہم تصانیف میں تیرِ نظر، شعلۂ رنگیں، فردوسِ سخن، بہارِ غم اور رموزِ سخن شامل ہیں۔
جوش ملیح آبادی
- پیدائش : لکھنؤ
- سکونت : لکھنؤ
- Shrine : اسلام آباد
اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر
جوش بدایونی
اردو کے شاعر تھے جنہوں نے خود آموزی اور شعری ریاضت کے ذریعے ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے رام بہادر لعل جویا آنولوی سے اصلاحِ سخن لی جبکہ ان کی اہم تصانیف میں "بادۂ تاثرات"، "کیفِ سرمدی"، "نعت و مناقب" اور "آتشِ خاموش" شامل ہیں۔
جگرؔ وارثی
جگر مرادآبادی
ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لیے معروف
جگر بسوانی
اردو کے ممتاز شاعر تھے، ان کا تعلق بسواں، سیتاپور کے ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا اور شاعری کا ذوق انہیں اپنے والد شیخ امیر علی جزاؔ سے ورثے میں ملا، انہوں نے امیر مینائی کی شاگردی اختیار کی جس سے ان کے فن کو پختگی حاصل ہوئی، ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت، زبان کی شستگی اور جذبات کی لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔
جاوید وششٹھ
اردو کے ممتاز محقق، نقاد، شاعر اور ماہرِ دکنی ادب تھے، "شعلۂ تشنگی" اور "ایک تبسم ایک نظر" ان کے اہم شعری مجموعے ہیں جبکہ دکنی ادب کی تحقیق و تدوین میں ان کی خدمات نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔
جوان سندیلوی
اردو کے ممتاز شاعر تھے، جن کا تعلق سندیلہ، ہردوئی سے تھا، انہوں نے 1905ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا، ابتدا میں میر منصب علی سندیلوی اور بعد ازاں آرزو لکھنوی سے اصلاحِ سخن لی، ان کا شعری سرمایہ "کلیاتِ جوان" اور "رباعیاتِ جوان خوش رنگ" کی صورت میں شائع ہوا جو ان کے پختہ شعری ذوق اور فنی مہارت کا آئینہ دار ہے۔
بہرائچ کے ممتاز صوفی شاعر تھے جنہوں نے سلسلۂ وارثیہ کی روحانی روایت کو اپنی شاعری میں مؤثر انداز سے پیش کیا، حاجی وارث علی شاہ سے قلبی عقیدت اور روحانی وابستگی نے ان کے کلام کو عشقِ الٰہی، تصوف اور عرفان کے رنگ سے آراستہ کیا جو ان کی ادبی شناخت کا نمایاں وصف ہے۔
جوہر شیخ پوری
شیخ پورہ میں اردو کے صاحبِ طرز شاعر تھے۔
جوہرؔ دیوبندی
جوہر بجنوری
اردو کے ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، اظہار حسین خاں رامپوری سے اصلاحِ سخن حاصل کی اور 1940ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا، ان کا پہلا شعری مجموعہ "اوراقِ گل" 1986ء میں شائع ہوا جبکہ ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول اور حسنِ بیان کے باعث خاص شہرت رکھتی ہے۔
جوہر اکبرآبادی
حاجی وارث علی شاہ کے چہیتے مرید جنہوں نے پیرومرشد کے حکم پر جنگل میں زندگی گذاری
جامی چریا کوٹی
اردو کے نعت گو شاعر اور محکمۂ عدلیہ سے وابستہ ایک دیانت دار افسر تھے، آپ نے الہ آباد یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اور 1973ء میں ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے، آپ کی شاعری حمد، نعت، منقبت اور سلام پر مشتمل ہے جس میں عشقِ رسول اور دینی عقیدت نمایاں ہے۔
جمیل قادری
بریلی کے ممتاز نعت گو شاعر، واعظ اور مصنف تھے، آپ کو مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے بیعت و خلافت حاصل ہوئی، جنہوں نے آپ کو "مداح الحبیب" کا خطاب عطا فرمایا، آپ اپنی مشہور نعتیہ غزل "میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد" کی وجہ سے آج بھی اہلِ عشقِ رسول میں یاد کیے جاتے ہیں۔
جمیل مرصع پوری
جمیل احمد جمیل مرصع پوری 15؍ جولائی 1931ء کو پریاواں کے ایک گاؤں مرصع پور میں پیدا ہوئے جو پرتاب گڑھ میں مانک پور سے قریب ہے۔ مدرسہ اسلامیہ مرصع پور میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ان کے استاد انجم فوقی بدایونی تھے۔ ملک کے سرکردہ شعراء نے ان کے زمانے میں ان کی طرح ممبئی کا رخ کیا۔ شکیل، مجروح اور علامہ آرزو لکھنوی کی صحبت ملی۔ جس میں ان کا شاداب ہونا ضروری تھا ان دنوں 72سال کے ہونے کے باوجود شعر گوئی ترک نہیں کی۔ آج بھی ممبئی کی ادبی محفلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ حال ہی میں جمیل صاحب کا شعری مجموعہ ’’بے نام سی خوشبو‘‘ شائع ہوا۔ انہوں نے اپنے کلام کا انتخاب شائع کیا ہے۔ مختصر ہی سہی مجموعے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا پیش لفظ اردو ادب کے ممتاز شاعر قیصرالجعفری اور محقق و ناقد پروفیسر مجاہد حسین حسینی نے لکھا ہے۔ ان کی سچی اور کھری شاعری کا اعتراف انجم صاحب نے بھی اپنی تحریر میں کیا ہے۔ جمیل مرصع پوری کی شاعری تکلف اور تصنع سے بھی پاک ہے جیسے وہ خود ہیں۔ جمیل احمد جوانی میں بہت خوبصورت تھے۔ ہمیشہ چہکتے رہتے تھے۔ اس وجہ سے دوستوں میں اکثر ان کے حاسد تھے۔ بڑے شعراء کے درمیان ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا اس لئے بھی سرخرو تھے۔ چھوٹے بڑے سب سے اخلاص و محبت سے ملتے ہیں۔ مشاعرے اور ادبی پروگرام کراتے رہتے ہیں۔ ہر سال علامہ اقبال کی برسی مناتے ہیں۔ جس میں ممبئی اور اس کے اطراف کے بڑے بڑے شعراء اور ادباء شرکت کرتے ہیں۔ آوارہ سلطان پوری کے پڑوسی اور دوستوں میں تھے۔ جمیل مرصع پوری کہتے ہیں: ’’اردو کی ترقی کے لئے جدوجہد کرنا بڑا اہم کارنامہ ہے ورنہ اس عمر میں تو عموماً تھک ہار کر سوجاتے ہیں‘‘۔ پیشے کے اعتبار سے بھی وہ فن کارڈیزائنر ہیں۔ اب زیادہ عمر کی وجہ سے اپنا کام نہیں کر پاتے ہیں۔ ندیم صدیقی ان کے صاحبزادوں میں سے ہیں۔ جو ادبی دنیا میں کافی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ شکیل بدایونی سے کافی قریب رہے شکیل کی غریبی کا زمانہ بھی جمیل صاحب کو اچھی طرح یاد ہے۔ آج بھی مشاعرے میں پڑھتے ہیں اور نئی نسل کے شعراء ان کے اشعار بڑے احترام سے سنتے ہیں اور داد دیتے ہیں کیوں کہ انہوں نے زمانے کے ساتھ چلنا سیکھا ہے۔
جمیل بنارسی
اردو کے ممتاز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں شعر گوئی کا آغاز کیا، آپ بنارس کے علمی و ادبی ماحول میں پروان چڑھے، اردو و فارسی پر عبور رکھتے تھے اور شیخ عبدالغنی سے اصلاحِ سخن حاصل کی۔
جمال اکبرآبادی
جلیل مانکپوری
اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور استادِ سخن تھے، امیر مینائی کے شاگرد رہے اور بعد میں دکن کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں "فصاحت جنگ" کا خطاب پایا، ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص شہرت رکھتے ہیں۔
جلیل فتح گڑھی
بہترین نظم گو شاعر
جلال الدین احمد خان
رام پور کے ممتاز شاعر، عالم اور صوفی تھے، عربی و فارسی کے جید عالم تھے اور اردو و فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔
جلال لکھنوی
اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، قواعد داں اور لغت نگار تھے، ابتدا میں لکھنؤ اور بعد ازاں ریاستِ رام پور سے وابستہ رہے، جہاں ان کی علمی و ادبی خدمات کو خاص پذیرائی ملی، شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو زبان، عروض اور قواعد پر بھی اہم کام کیا اور متعدد دیوان، لغات اور علمی رسائل تصنیف کیے۔
جہاں آرا بیگم
مغلیہ سلطنت کے شہنشاہ شاہ جہاں کی صاحبزادی اور صوفی خاتون، مصنفہ و شاعرہ
شمالی ہند کے ممتاز سنت، صوفی اور صاحبِ تصنیف تھے، آپ کا تعلق بارہ بنکی کے گاؤں سرہدا سے تھا اور مسلکِ ستنامی سے وابستہ تھے، "گیان پرکاش"، "مہاپرلَے" اور "شبد ساگر" آپ کی اہم تصانیف ہیں جن میں روحانیت، معرفت اور اخلاقی تعلیمات کو عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
جدید بارہ بنکوی
اردو کے ممتاز مرثیہ نگار تھے، آپ بارہ بنکی میں پیدا ہوئے، شدید لکھنوی کے شاگرد تھے اور مرثیہ، سلام، رباعی اور قطعات میں طبع آزمائی کی، آپ کا معروف مجموعۂ مراثی "اعجازِ ناطق" 1978ء میں شائع ہوا۔
جامی بدایونی
فقر و تصوف کو نعتیہ شاعری کی روح بنانے والے صاحبِ سوز شاعر۔