Font by Mehr Nastaliq Web

بھارت کے شاعر اور ادیب

کل: 2757

ہندوستان کے مشہور صوفی اور خواجہ نظام الدین اولیا کے معاصر

ہندوستان کے جلیل القدر صوفی بزرگ جو خواجہ نظام الدین اؤلیا کے معاصر تھے، جن کی روحانی جولانگاہ علم، عشق، شاعری اور معرفت سے معمور تھی اور جن کی نظرِ کرم آج بھی دلوں کو سیراب کرتی ہے۔

امرتسر کے استاد، شاعر اور ادیب تھے، جو ہندو کالج میں پروفیسر رہے اور غزل سمیت مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کے ساتھ نعتیہ شاعری میں بھی محبت و عقیدتِ رسول کا اظہار کرتے تھے۔

موہیال برہمن خاندان کے ممتاز شاعر، ادیب اور صاحبِ فکر دانشور تھے، حکیم فیروزالدین فیروز طغرائی کے شاگرد رہے اور 1969ء میں پدم شری سے نوازے گئے۔

مولانا عبدالحق خیرآبادی کے حقیقی نواسہ اور مضطر خیرآبادی کے بڑے بھائی

مولانا فضل حق خیرآبادی کے نواسہ اور مضطر خیرآبادی کے بڑے بھائ

اردو کے ممتاز انقلابی شاعر اور مجاہدِ آزادی تھے، جنہوں نے شہرۂ آفاق نظم "سرفروشی کی تمنا" تخلیق کر کے تحریکِ آزادی کو ولولۂ تازہ بخشا اور اردو شاعری میں حب الوطنی، حریتِ فکر اور انقلابی جذبے کی روشن مثال قائم کی۔

نوح ناروی کے شاگرد، شاعری میں عوامی روز مرہ کو جگہ دی، غزلوں کے ساتھ اہم مذہبی اور ملی شخصیات پر نظمیں لکھیں

افسر الہ آبادی، ڈاکٹر باسط علی اور نوح ناروی کے یادگار

گلال صاحب کے مرید اور جانشین جن کے کئی گرنتھ ہیں جن میں سے ایک رام جہاز ہے جو ایک ضخیم کتاب ہے۔

شاہ اکبر داناپوری کے شاگرد اور مثنوی ’’جلوۂ عشق‘‘ اور ایک ناول ’’نیم ملا خطرۂ ایماں‘‘ کے مصنف

رساؔ رامپوری کے ممتاز شاگرد

شاد عظیم آبادی کے ممتاز شاگرد

ممتاز شاعر، نثر نگار اور ہومیوپیتھک معالج تھے، جو غزل کے ساتھ نعت گوئی میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے اور ان کے شعری مجموعوں ’’غنچہ و گل‘‘، ’’بیتابیاں‘‘ اور ’’سوغات‘‘ نے ادبی شناخت قائم کی۔

اردو کے ممتاز غزل اور نعت گو شاعر تھے، جن کی شاعری فکری پختگی، زبان کی لطافت اور عشقِ رسول کے سوز و گداز سے معمور ہے۔

حاجی وارث علی شاہ کے ممتاز مرید اور وحید الہ آبادی کے شاگرد رشید

ادبی میدان میں ایک انفرادی رنگ کے مالک، مایۂ ناز شاعر اور ہر دل عزیز صاحب تصنیف و تالیف تھے

اردو، ہندی اور اودھی کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، ادیب اور سیاست دان تھے، جن کی شاعری قومی یکجہتی، صوفیانہ فکر اور انسانی محبت کی ترجمان ہے۔

لکھنؤ کے معروف نعت گو شاعر

اپنے زمانے کے مشہور کھلاڑی، ڈرامہ نویس، وکیل، اچھے شہری اور نیک نفس انسان تھے۔

بیدم شاہ وارثی کے صاحبزادے

معروف نعت گو شاعر اور ’’بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ‘‘ کے لیے مشہور

غیر مسلم نعت گو شاعر تھے، جن کے سادہ، پُرخلوص اور ادبی وقعت کے حامل نعتیہ کلام کا ذکر فانی مرادآبادی، خادم سوہدروی اور خالد بزمی نے بھی اپنی تحریروں میں کیا ہے۔

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اور "جذبات الجنون" کے مصنف

حضرت شاہ اکبر داناپوری کے مرید و بھانجہ اور امارت شریعہ کے مشیرکار

دائرہ حضرت شاہ اجمل، الہ آباد کے سابق سجادہ نشیں اور معروف صوفی شاعر شاہ محمد اعظم الہ آبادی کے صاحبزادے

ممتاز شاعر، ماہرِ اردو و فارسی اور سندھ مسلم کالج کراچی میں شعبۂ اردو کے صدر تھے۔

ناسخ کا ایک گمنام شاگرد

بولیے