Font by Mehr Nastaliq Web

پاکستان کے شاعر اور ادیب

کل: 506

عہد اورنگزیب کی ایک شاعرہ

دبستانِ کراچی کے ممتاز غزل گو شاعر تھے، ان کی شاعری زبان کی سلاست، سادگی اور سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال ہے، غزل کے علاوہ نعت، منقبت اور سلام نگاری میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں، خصوصاً امام حسین کے حضور ان کے سلام عقیدت و محبت کے جذبات سے بھرپور ہیں۔

ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، آپ نے افقر موہانی، اثر لکھنوی اور جگر مرادآبادی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، قیامِ پاکستان کے بعد لاہور اور کراچی میں ملازمت کی، شاخِ گل، رنگ و نور اور رحمت لقب آپ کا شعری مجموعہ ہے، اپنی غزل "دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں" کے لیے مشہور۔

اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر ہیں، آپ نے حمد، نعت، منقبت اور اسلامی ادب میں نمایاں خدمات انجام دیں، پنجابی کافیوں میں صوفیانہ فکر نمایاں ہے، جبکہ پریم دے دھاگے اور دل نہیں مانتا آپ کی معروف تصانیف ہیں۔

ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم تھے، وہ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر رہے اور اردو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، ان کے معروف شعری مجموعوں میں سات ستارے، چراغِ آخرِ شب، محاصل اور فاصلوں کو تکلف شامل ہیں۔

سیالکوٹ کے ممتاز شاعر، صحافی اور ادیب تھے، آپ نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کی اور شاعری، سوانح نگاری اور سماجی موضوعات پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔

سلسلۂ چشتیہ سے وابستہ نعت گو شاعر تھے، "مولانا" تخلص کرتے اور خواجہ محمود تونسوی کے شاگرد تھے، ان کی معروف تصنیف ’’ذخیرۂ نعت‘‘ ہے۔

ابن انشا

1927 - 1978

اردو کے ممتاز شاعر، مزاح نگار، سفرنامہ نگار اور مترجم تھے، "اردو کی آخری کتاب"، "چاند نگر" اور "آوارہ گرد کی ڈائری" ان کی نمایاں تصانیف ہیں جبکہ "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" اور "کل چودھویں کی رات تھی" ان کی لازوال غزلوں میں شمار ہوتی ہیں۔

بولیے