دوسرے خط کا جواب
دلچسپ معلومات
ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۲؍فروری ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔
عزیز قلبی میاں ظہور مسلمہ، دعائے خیر۔
تمہارا خط ملا، میں بحمداللہ اب بالکل اچھا ہوں، کبھی کبھی شام کو چلہ شریف پیدل چلا جاتا ہوں، لکھنے پڑھنے کا کام ابھی شروع نہیں کیا ہے۔
تمہارا ان دوستوں کی یہ رائے بالکل غلط ہے کہ تصوف اسلامی اصول کے خلاف ہے اور ہندؤں کے دیدانت فلسفہ کا تراشیدہ ہے، حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا سورج چاند کی معبودیت سے انکار حق کو پہچاننے کی کوشش عرفان نہیں تو اور کیا ہے، رسولِ خدا کا یہ فرمان ’’جس نے اپنے نفس کو پہچانا خدا کو پہچانا‘‘ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ عرفان عین تصوف ہے،
فخر موجودات حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علم خلوتوں میں راز دارانہ طور پر اور بذریعۂ سرگوشی حضرت علی کرم اللہ وجہ کو تفویض فرمایا وہ علم باطنی تھا، یہی علم باطنی حضرت علی سے اوروں کو پہنچا، یہی آگے چل کر تصوف کے نام سے مشہور ہوا۔
خواجہ پارسا اپنی کتاب ’’فضل الخطاب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’جنید بغدادی کا قول ہے کہ ہمارا پیش رو اس امر تصوف میں وہ ہے جس نے اشارہ کیا ہے اس شے کی طرف جو دلوں میں آکر متضمن ہوتی ہے اور جس نے بعد رسول اللہ اس کے حقائق کی طرف ایما کیا وہ علی بن ابو طالب ہیں‘‘
امام فخرالدین رازی’’ اربعین‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’علمِ تصفیہ باطن میں تمام اصفیا کا نسب حضرت علی پر منتہی ہوتا ہے‘‘ پس حضرت علی اس علم کے مبدا، ماویٰ اور سرچشمہ ہیں، وہ اسلامی تصوف کے سب فرقوں کے پیشوا ہیں، پس اندریں حالات تصوف ویدانت فلاسفی کے اثر کا نتیجہ نہیں ہے، البتہ تمام مذاہب کے صوفیوں میں عرفان حق اور خدا شناسی کے بنیادی اصول قریب قریب ایک ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ تصوف شریعت کے منافی ہے، اس بارے میں یہ جاننا کافی ہے کہ خدا وند تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ فکر کی ہدایت فرمائی ہے تفکرون کے معنی فکر کرو، فکر کس باب میں، فکر اس کی صفات میں، یہ مراقبہ کیا ہے؟ یہی فکر ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک ساعت کی فکر برسوں کی عبادت سے بہتر ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ فکر ذکر سے بہتر ہے، اولیٰ و اعلیٰ چیز ہے، فکر تصوف کا ایک جزو اعظم ہے، شریعت تصوف کا پوست، طریقت استخواں ہے، حقیقت مغز ہے اور معرفت روغن ہے۔
شکیلہ کو دعا، بچوں کو پیار، مہر نور تو اب بہت تماشے کرتی ہوگی۔
تمہارا بہی خواہ؍ خادم حسن معینی گدڑی شاہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.