Font by Mehr Nastaliq Web

تیسرے خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

تیسرے خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے یکم مارچ ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    عزیزم سلمہ الرحمٰن دعائے خیر۔

    تمہارا خط ملا، شکیلہ کو دوا باقاعدہ پینی چاہیے، چھونی خاں یاد آتے ہیں۔

    تصوف کیا ہے یہ الفاظ میں سمجھانا تو بہت مشکل ہے، تصوف بھگتان ہے، اگر تم نے شکر کبھی نہ کھائی ہو اور میں تم کو شکر کا ذائقہ مختلف الفاظ اور مختلف طریقوں سے سمجھاؤں تو تم ہرگز نہ سمجھ سکو گے، شکر کھاتے ہی تم خود سمجھ جاؤ گے، شکر کا ذائقہ ایسا ہوتا ہے، اگر کسی نے سفیدی نہ دیکھی ہو اور وہ تم سے پوچھے کہ سفیدی کیسی ہوتی ہے تو تم کیا بتاؤ گے اور کیسے سمجھاؤ گے بہترین طریقہ یہی ہے کہ اس کو سفیدی دکھا دو، وہ دیکھتے ہی سمجھ جائے گا کہ سفید رنگ ایسا ہوتا ہے، الفاظ خاکے عطر کی خوشبو نہیں سنگھا سکتے نہ بھیرویں راگنی سنا سکتے ہیں۔

    پس جب کہ مادی پانچ حواسِ خمسہ کے احساسات الفاظ میں بیان نہیں کیے جاسکتے تو قلب و روح کے لطیف احساسات جو سرمایۂ تصوف ہیں، کس طرح الفاظ کے دائرہ میں لائے جاسکتے ہیں، آدمی لاکھ تصوف کی کتابیں پڑھے اور زبان سے تصوف تصوف کہے جائے لیکن وہ تصوف ہرگز نہیں سمجھ سکے گا۔

    غریب نواز فرماتے ہیں ’’تصوف اسم نہیں رسم ہے‘‘ اس میں ہمہ گیری ہے، ہر شے کے عرفان سے خالق تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

    تصوف کا مقصد طاقت، اثر، وقار، وجاہت، عزت، شہرت، نیک نامی نہیں ہے یہ تو دنیاوی خواہشات ہیں، یہ چیزیں تو خود بت ہیں اور انسان کو خود پرستی اور خود ستائش میں ڈال کر اس کو منزل مقصود سے دور کر دیتی ہیں۔

    انسان خدا وند تعالیٰ کا خلیفہ ہے، اس کا لقب خلیفتہ اللہ فی الارض ہے۔

    ’’انّیِ جَاعِلٌ فی الارض خلیفہ

    خدا وند تعالیٰ نے اس کو اپنی مخلوق میں ممتاز جگہ دی ہے، انسان کو علم ادراک، عقل عشق و محبت عرفان اور روحانی تصرفات عطا ہوئے ہیں، خدا وند تعالیٰ نے تمام عالم کو (کن فیکون) کے لفظ سے پیدا کیا یعنی ہر شے کو اپنی قوت کاملہ سے پیدا کیا، انسان کو بھی قوت ارادہ دی گئی اور معرفت بخشی گئی، تاکہ وہ اپنے خالق کو پہچانے، خود کو جانے اور خدا وند تعالیٰ کا جلوہ وکار پردازی ہر شے میں جلوہ نما دیکھے لیکن انسان جس مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا، اس کے فراموش کر بیٹھا، دنیا کی نظر فریبیوں اور دل آویزیوں نے اس کی نگاہ کو خیرہ کر دیا، وہ خود اپنے کو بھول گیا، اپنی جاہ و منزلت کو بھول گیا، اس نے تاریکی میں پناہ لی، خود غرض یاس و حرمان، نا امیدی، بے اعتقادی بغض و حسد، نفسانی خواہشات، جہالت، کینہ و غناد، آپس کے جھگڑے نفرت، خود پرستی و خود نمائی نے اس کی زندگی کو تلخ کر دیا، اس کی اندورونی کشمکش نے اس کو لاچار و مجبور بنا دیا، برے دنوں میں وہ شکوہ و شکایت زبان پر لانے لگا، اخلاقی حالت بگڑ جانے سے اس کو خالقِ پر بھروسہ نہ رہا، وہ شکوہ و شکایت زبان پر لانے لگا، اخلاقی حالت بگڑ جانے سے اس کو خالقِ پر بھروسہ نہ رہا، وہ آپس کا اتحاد بھی کھو بیٹھا، اس کا نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا، اب حضرتِ انسان ہر اس چیز کی جس سے اسے نقصان کا خوف یا نفع کی امید ہے پوجا پرستش کرنے لگا، وہ جدھر ہوا کا رخ دیکھتا ادھر ہو جاتا، وہ طاقت ور آدمی سے ڈرتا تھا کمزور پر ظلم کرتا، خود غرضی و خود بیتی نے اس کو اندھا کر دیا۔

    مختصریہ ہے کہ انسان انسانی معیار سے گر گیا اور اپنا جاہ و منصب یعنی خدا وند تعالیٰ کا روئے زمیں پر خلیفہ ہونا بھول بیٹھا۔

    انسان کو اس روحانی پستی، زبوں حالی، لاچارگی، بہائم کی زندگی سے نجات دلانے کے لیے تصوف حکیم بن کر آیا، اس نے تزکیۂ نفس و تصفیہ قلب کے ساتھ معرفت الٰہی اور خدا رسی کا درس دیا، خالق اور مخلوق کے درمیان مذہب کا رشتہ قائم کیا۔

    اہل تصوف اپنے نفس پر غالب آکر فاتح کہلائے تصوف ایک حال ہے، کیفیت ہے، وجدان ہے، طلب اس کی کنجی ہے، ذوق و شوق اس کی بقا ہے، عشق و محبت اس کا رکن اعظم جز لاینفک اور ذاتِ مطلق تک پہنچنے کا زینہ ہے، معرفت اس کی حضوصیت ہے، فنا فی الذات اس کا مقصد ہے اور بقا در بقا اس کا نتیجہ ہے۔

    تصوف ایک ایسا راستہ ہے جو عشق کی رہنمائی کے ساتھ مخلوق کو خالق کی طرف لے جاتا ہے بغیر عشق کے نہ طاعت در اصل طاعت نہ عبادت عبادت، کیوں کہ بغیر محبت کے حضوری قلب حاصل نہیں ہوتی اور عبادت بغیر حضوری قلب کے جسد بے جان ہے۔

    جب بہ برکت عشق انسان صبر و استقلال، زہد و ریاضت، خلوص و حقانیت، رضا و تسلیم کے منازل بالعمل طے کر لیتا ہے، اس وقت دل کا زنگ دور ہو کر قلب مجلی ہو جاتا ہے، سینہ روشن ہو جاتا ہے، آنکھیں عشق کی مستی سے پُر سرور ہوجاتی ہیں، روح میں درخشانی نظر آنے لگتی ہے، قلبی وائرلیس مادی وائرلیس سے بے نیاز ہو جاتی ہے، ظاہر و مخفی مقامات سے بات چیت کر لیتی ہے، قلبی دیڈیو کی سوئی گھمانے سے دور دراز کی آواز آنے لگتی ہے، قلبی آنکھ سے صرف مادی دور دراز کی چیزی ہی نظر نہیں آتیں بلکہ لطیف بلند مقامات نظر آنے لگتے ہیں، مشاہدہ عینی ہو جاتا ہے پس تصوف ماہیت قلب پر زور دیتا ہے، فہم و ادراک و احساس، عبد و معبود کا عرفان اس کا نصب العین ہے، مقام عشق میں بعد عجز و انکسار اظہار عبدیت ہے، مقام عینیت میں سوائے ذات مطلق اور کچھ نظر نہیں آتا، یہاں ربوبیت بشان توحید جلوہ گر ہے۔

    تصوف کاموں میں حارج نہیں ہے بشرطیکہ دل سے دوست کی یاد ہو اور ہاتھ پاؤں کام میں مصروف ہوں یعنی دل بیاد دست بکار پر عمل ہو۔

    تصوف ہمہ صفات الٰہی سے متصف کرکے انسان کو انسان کامل بناتا ہے، دوست کی دوستی میں تکلیف و راحت سے جو میسر آتا ہے اس کو دوست کا تحفہ و عطیہ سمجھا جاتا ہے اور شکرِ دوست بجالاتا ہے۔

    اب اس وقت شام کے ۵ ۱؍۲ بجے ہیں، یہ خط بند کرتا ہوں، تمہاری چچی نے پریشان کر رکھا ہے جو حال شکیلہ کا ہے وہی ان کا ہے، دونوں دوا نہیں پیتیں، دوا پینا بھی تو مسنون طریقہ ہے، ماہ نور روزانہ اسکول جاتی ہیں۔

    دعا گو؍ خادم حسن معینی گدڑی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے