Font by Mehr Nastaliq Web

دسویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

دسویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۸؍ اکتوبر ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    عزیز قلبی ظہور میاں سلمہ، دعائے خیر۔

    تمہارا خط ملا، میں اس دوران میں کافی مشغول رہا، حضرت قطب صاحب کے حالات ترتیب دے رہا ہوں، حضرت قطب صاحب کا پورا نام حواجہ قطب الدین بختیار کاکی ہے، آپ حضرت خواجہ غریب نواز کے خلیفۂ اعظم و جانشیں ہیں اور بابا فرید گنج شکر کے پیر و مرشد ہیں، حضرت قطب صاحب کے حالات میں اب تک کوئی مستند کتاب اردو میں نہ تھی، اس کمی کو پورا کرنے کی غرض سے یہ کتاب لکھی ہے، خدا کرے حضرت قطب صاحب یہ ادنیٰ خدمت قبول فرمائیں اور ناظرین اس کتاب سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں، یہ کتاب قطب الاقطاب حضرت قطب صاحب کے حالات زندگی، کمالات، کرامات اور اقوال، سیرت و سوانح پر پہلی مستند کتاب ہے، جدید تحقیقات و انکشافات کی روشنی میں ان روایات کی تصحیح کی گئی ہے جو اب تک غلط طور پر زبان زد خاص و عام ہونے کی وجہ سے مستند سمجھی جاتی تھیں، اس کتاب کے لکھنے کے سلسلہ میں جو کتابیں نظر سے گذریں ان کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ خواجگانِ چشت نے مذہبی، اخلاقی علمی و عملی خدمات انجام دے کر سرورِ عالم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور صحابۂ کرام کی علمی و اخلاقی وراثت کو ہندوستان کے باشندوں تک پہنچانے کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خواجگانِ چشت کو معلمِ حقیقی نے دعوت و تجدید و تبلیغ و تعلیم رشد و ہدایت کے لیے مخصوص فرما کر یہ خدمات تفویض کردی تھیں، انہوں نے جو اپنے گفتار و کردار سے معیاری زندگی کا ایک اعلیٰ نمونہ چھوڑا ہے، اس کا اثر ہماری تہذیب و تمدن، ہمارے افکار و خیالات، علمِ و ادب، ہماری شعر و شاعری، غرض زندگی کے ہر شعبے پر ایسا گہرا پڑا ہے کہ اس کے آثار آج تک نمایاں ہیں، میرا یہ خیال ہے کہ ان کی تعلیمات ہی مادہ پرستی، اقتدار طلبی کی اس دوڑ میں اور زندگی کی روز مرہ جد و جہد میں ہماری طبیعت کا اندرونی سکون قائم و برقرار رکھنے کے لیے کافی مواقر سرمایہ ہے۔

    ان شاءاللہ کتاب جلد مکمل ہو جائے گی، آج کل کتاب میں دھیان لگا ہوا ہے، تمام تر توجہ اس طرف ہے، تمہارے سوال کا جواب تو رہ ہی گیا، یہاں تمہارے لیے یہ جاننا کافی ہے کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ نجات کے اچھے ذریعہ ہیں، ان کے ذریعہ جنت حاصل ہوسکتی ہے لیکن فقیری میں ایک بڑا اور اہم وسیلہ شیخ ہے، شیخ یعنی پیر و مرشد راہ تصوف میں رہبر اور وسیلہ ہے، پیری مریدی کے معنی بیعت کے ہیں یعنی اپنا ہاتھ شیخ کے ہات پر رکھنا اور عہد کرنا۔

    صحابۂ کرام نے رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیر درخت بیعت کی ہے، یہ بیعت بیعت الشجر کہلاتی ہے، صحابہ کی رسول سے بیعت پیری مریدی کی ابتدا ہے۔

    تم کو طالبِ صادق پاکر میں نے یہ کوشش کی ہے کہ تم بخوبی سمجھ لو کہ تصوف کس لیے ضروری ہے اور اس سے کیا حاصل ہوتا ہے، اس کے موٹے موٹے متعلقات تمہارے لیے جاننا ضروری معلوم ہوتے ہیں، پیری مریدی در اصل ایک روحانی رشتہ ہے، یہ ایک ایسا رشتہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی نہیں ٹوٹتا، یہ محبت کا تعلق ہے، محبت کو فنا نہیں، جب محبت کو فنا نہیں تو محبت کے تعلق کو بھی کیسے فنا ہوسکتی ہے، مریدی ایک پاک اور پُر خلوص محبت کی زندگی کی راہوں پر چلنے کا نام ہے اور اس نئی زندگی کے نئے اصولوں کو اختیار کرنا ہے، مریدی اپنے آپ کو دوسرے کے حوالے کر دینا ہے، اپنی تقصیروں کی معافی چاہنا ہے، مریدی اخلاقِ ذمیمہ سے پرہیز کرنا ہے، مردی ہونا آن نہیں، مرید کرنا آسان نہیں، مریدی کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا اور ان پر عمل کرنا آسان نہیں، مریدی ایک پکا عہد کرنا ہے اور ابتدا اور آزمائش میں بھی اس عہد پر قائم رہنا ہے، مریدی گناہوں کی پناہ گاہ ہے، مریدی حصار دین و ایمان ہے۔

    حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کا فرمان ہے کہ ’’جب تک مرشد کی تربیت حاصل نہ ہوگی منزل پر نہیں پہنچے گا‘‘ مرید کے لیے پیر کی صحبت سب چیزوں سے زیادہ ضروری ہے، خواجہ غریب نواز اس باب میں فرماتے ہیں کہ ’’نیکیوں کی صحبت سب چیزوں سے زیادہ ضروری ہے خواجہ غریب نواز اس باب میں فرماتے ہیں کہ ’’نیکوں کی صحبت نیک کام سے بہتر ہے اور بروں کی صحبت بد کام سے بدتر ہے‘‘ مولانا روم اچھی صحبت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔

    صحبت صالح ترا صالح کند

    صحبتِ طالع ترا طالع کند

    اہلِ دل کی صحبت کے لیے مولانا روم فرماتے ہیں کہ

    یک زمانہ صحبت با اؤلیا

    بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

    اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مرید کے لیے صحبت مرشد سب سے زیادہ مفید ہے، سرور عالم کا فرمان ہے کہ ’’تنہا کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور دو سے وہ بہت دور رہتا ہے‘‘

    مرید کے لیے ترک مراد بہت ضروری ہے، حضرت خواجہ غریب نواز فرماتے ہیں کہ ’’لوگوں میں عاقل ترین وہ فقرا ہیں جنہوں نے درویشی اور نامرادی اختیار کر لی ہے، کیوں کہ اس میں مراد نامرادی ہے اور نامرادی مراد ہے بر خلاف اس کے کہ اہلِ غفلت نے صحت کو زحمت اور زحمت کو صحت خیال کر رکھا ہے، پس دانا وہ ہی ہے جو دنیاوی مراد ترک کرکے فقر و نامرادی اختیار کرے اور اپنی مراد چھوڑ کر نامرادی سے موافقت کرے، مرید کو چاہیے کہ حرص و ہوا کو ترک کرے، بغیر حرص و ہوا کو ترک کیے گوہرِ مقصود حاصل نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ ’’جس نے اپنی خواہشاتِ نفسانی کو روکا اس کا ٹھکانا بہشت ہے‘‘

    ’’جس کو معرفت حاصل ہوئی اور خدا کو پہچانا وہ کبھی حرص و ہوا میں نہیں پھنستا، وہ کوئی آرزو نہیں رکھتا، اس کی کوئی خواہش نہیں ہوتی، وہ کبھی سوال نہیں کرتا‘‘

    ایک شب حضرت خواجہ بایزید بسطامی نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا اور ان سے پوچھا ’’بایزید کیا چاہتے ہو؟‘‘ آپ نے عرض کیا’’ جو تو چاہتا ہے‘‘ اس پر فرمانِ باری تعالیٰ ہوا ’’اچھا جس طرح تو میرا ہے اسی طرح میں تیرا ہوں‘‘ اہلِ معرفت کی علامت ترک ہے، بغیر ترک کے کوئی معرفتِ حق کی بُو نہیں سونگھ سکتا، مال و منال، عزت و جاہ، شہرت و عظمت و مرتبہ یہ سب کیا ہے، یہ سب بڑے بڑے اندھی ہے، وہ ان بتوں کی پرستش میں مشغول ہے، در اصل یہ معبود خلائق بن گئے ہیں، اصل ترک ان بتوں کی محبت کو اپنے دل سے نکالنا ہے، ہمارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’دنیا کا ترک کرنا تمام عبادتوں کی جڑ ہے اور دنیا کی محبت تمام خطاؤں کی جڑ ہے، ترک بغیر غایت محبت کے حاصل نہیں ہوتا، محبت ایک عطیۂ الٰہی ہے جو ہر ایک کو نہیں دیا جاتا‘‘ حضرت سرمد فرماتے ہیں کہ

    سرمد غم عشق بوالہوس راند ہند

    سوز غم پروانہ مگس راند ہند

    عمرے باید کہ یاد آمد بہ کنار

    ایں دولت سرمد ہمہ کس راند ہند

    محبت خداوند تعالیٰ کی مخصوص توفیق کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، ہدایت پیر کی استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی، پس مرید کے لیے پیر کی خدمت اور صحبت ضروری ہے،

    حضرت خواجہ غریب نواز کا فرمان ہے کہ ’’اصلاح باطن کے لیے مرشد کامل سے رابطہ کی ضرورت ہے، فنافی الشیخ، فنا فی الرسول، فنا فی اللہ اور فنافی البقا اس کے مدارج ہیں‘‘ حضرت خواجہ غریب نواز کے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ نے نفی اثبات کے متعلق فرمایا کہ ’’نفی اپنے آپ کو نہ دیکھنا اور اثبات اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ہے کیوں کہ کوئی خود بیں خدا بیں نہیں ہوسکتا، پس نفی کی نفی کرنے والا ہونا چاہیے، ورنہ نفی کا کچھ فائدہ نہیں، اگر صرف یہ خیال کریں کہ ہستی صرف اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے تو مطلب حاصل ہوجاتا ہے‘‘ طالب شروع شروع میں اندھا ہوتا ہے، جب پیر کی استعاعت اور خداوند تعالیٰ کی مہربانی سے اس بینائی حاصل ہوتی ہے تو وہ دیکھا ہے، اس کا دیکھنا کیا ہوتا ہے اپنے آپ کو فراموش کر دینا اور مرشد کو دیکھنا ہوتا ہے، مرید کو چاہیے کہ اپنے شیخ یعنی پیر کے تصور میں ہمہ وقت رہے، فنا الشیخ کا درجہ اسی سے حاصل ہوتا ہے، اپنے پیر پر پورا پورا اعتقاد ہو اور پیر کے کسی حکم کی بجا آواری میں ہرگز تساہل و پس و پیش نہ کرے۔

    حضرت خواجہ غریب نواز کا مشہور واقعہ ہے کہ جب آپ کے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ جا رہے ہیں ان کا ساتھ چھوڑ دیا، جب آپ بتخانے پہنچے تو صرف خواجہ غریب نواز موجود تھے، صفائی یاروں نے ساتھ چھوڑ دیا مگر ذات کا یار ساتھ تھا، خواجہ غریب نواز نے اس کے مطلق پرواہ نہ کی کہ آپ کے پیر کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں، بالفاظ دیگر حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ نے غریب نواز کو بتخانے کے اندر بلایا اور پیر سے جو جو نعمتیں آپ کو ملیں وہ روزِ روشن کی طرح ظاہر ہیں، بس مرید پر پیر کے حکم کی بجا آوری ضروری ہے، چنانچہ حافظ صاحب شیرازی فرماتے ہیں۔

    بمئے سجادہ رنگیں کن اگر پیر مغاں گوید

    کہ سالک بے خبر نبود از راہ و رسم منزلہا

    جس نے اس پر عمل کیا وہ مراد کو پہنچا اور اس کو مقصد حاصل ہوا، جس نے ایسا نہیں کیا وہ محروم رہا۔

    مرید کو ایمانِ کامل حاصل ہونا چاہیے، اس کو مفلسی و ناداری و نامرادی سے نہ گھرانا چاہیے، نہ دل برداشتہ ہونا چاہیے، اس کا دل تنگی و گرانی سے آزاد ہونا چاہیے، اس کے لے بذل، وجود و سخاوت، ایثارقربانی بھی ضروری ہیں، جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’اپنی جانوں پر ایثار کرتے ہیں، اگر انہیں تنگی ہو‘‘ جب تک انسان اس چیز کو خرچ نہ کرے گا جس کو وہ سب سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، وہ ہرگز نیکی کے اعلیٰ درجہ کو نہیں پہنچے گا، خداوند تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے، حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو حکم ہوا کہ اس چیز کی قربانی کرو جس کو تم سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہو، وہ سوچتے رہے کہ وہ کیا چیز ہے جس کو وہ سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں، آخر کار انہیں معلوم ہوا کہ وہ سب سے زیادہ اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل کو عزیز رکھتے ہیں، انہوں نے بیٹے کی قربانی کا اہتمام شروع کیا اور جب ان کی گردن پر چھری چلائی تو ان کے بجائے مینڈھا پایا، حکم الٰہی کی تعمیل میں پورے اترے، امتحان میں ثابت قدم ثابت ہوئے، اعلیٰ مرتبہ پایا، ان کی یہ سنت امتِ محمدی پر ضروری ٹھہری۔

    حضرت مخدوم علی ہجویری جو داتا گنج بخش کے لقب سے مشہور ہیں، فرماتے ہیں کہ آدمی پر روح کے خرچ کرنے اور اپنے دوست سے ہاتھ اٹھا لینے (ترک دنیا) سے کوئی چیز زیادہ سخت نہیں ہے، خداوند بزرگ و بلند نے سب نیکیوں کی چابی اپنے محبوب کے بزدل کو بنایا ہے‘‘ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ’’ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے، یہاں تک کہ خرچ کرو اس چیز کو جو دوست رکھتے ہو‘‘

    خدا قربت اور حیات ابدی روح کے خرچ کرنے سے ہی مل سکتی ہے، خدا کے فرمان کو بجالانا، اس کے دوستوں کی فرماں برداری میں ہم وقت کمر بستہ رہنا اور اپنی خواہشات اور اپنے نفس کو ترک کرنا، بلا شک و شبہ یہ مشکل باتیں تو ہیں لیکن طالبِ صادق کے لیے ضروری باتیں یہی ہیں، اس مقام پر پہنچ کر ایثار ایک نیا مژدہ اور ایک نیا پیغام لاتا ہے چنانچہ اس کے متعلق حضرت داتا گنج بخش فرماتے ہیں کہ ‘’اور ایثار جو ترک نصیب ہے، اصل نصیب ہے‘‘

    ایک شخص مولانا رومی کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس کو کوئی نصیحت کریں، آپ نے فرمایا کہ ’’اے بیٹے اگر تو کرسکتا ہے تو سن، یہ کام جان کے خرچ کرنے کے سوا نہیں ہے اور اگر نہیں کرسکتا تو صوفیوں کے سخنوں میں مشغول نہ ہو اور جو اس سکے سوا ہے سب بیہودہ سخن ہے‘‘ جو روح کی قربانی دیتے ہیں ان کو یہ رتبہ ملتا ہے، ایثار اس کوچہ میں بڑی چیز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’جو شخص خواہش سے کسی چیز کی آرزو کرتا ہے اور جب اسے پائے تو ہات اٹھائے تو بالضرور خداوند تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے‘‘

    یہ بھی تمہارے لیے جاننا ضروری ہے کہ ایثار دو طرح پر ہوتا ہے ایک تو صحبت میں اور دوسرا محبت میں، صحبت کے ایثار کرنے میں ایک طرح کا رنج و اندوہ ہوتا ہے برخلاف اس کے کہ جو ایثار دوست کے حق میں کیا جاتا ہے اس میں راحت ہی راحت اور خوشی ہی خوشی ہے، جس رات دشمنوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جان مبارک لینے کا قصد کیا اور تیاریاں شروع کیں ت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ مکہ سے غارِ حرا کی طرف روانہ ہوئے یہ بڑا نازک وقت تھا، اغیار کافی تعداد میں تھے اور کافی طاقتور تھے اور سرور عالم کی جان لینے پر تلے ہوئے تھے، اس نازک وقت میں حضرت علی نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے میں پس و پیش نہ کیا اور بلا تامل سرورِ عالم کے بستر پر سوئے، اغیار یہ سمجھے رہے کہ سرور عالم بستر مبارک پر استراحت فرما رہے ہیں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا سرور عالم کے بستر پر اس پُر آشوب رات میں سونا اپنی زندگی کو سرور عالم پر فدا و نثار کرنا تھا یہ تھا سچا ایثار، جس کی مثال ملنا دشوار ہے، اس وقت اس واقعہ سے متعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں ایک آیتہ نازل ہوئی جس کا ترجمہ ہے کہ ’’اور بعض لوگوں میں سے وہ شخص جو اللہ کی رضا مندی چاہنے کے واسطے اپنی جان کو سجتا ہے اور اللہ کے بندوں پر شفقت کرنے والا ہے‘‘ روٹی یا رزق کا ایثرا کرنا تو معمولی بات ہے، مرد وہ ہے جو اپنی جان اور اپنی زندگی کا ایثار کرے۔

    خدا کے ایسے بندے بھی ہیں جو عشقِ الٰہی میں سرشار ہیں، انہوں نے اپنی ہستی مٹا دی، مشاہدہ دوست سے باقی ہیں، وہ اسی کے خیال میں رہتے ہیں اور ان کا ہر فعل اسی کے واسطے ہے۔

    ’’چوں میر و مبتلا میر و چوں خیز و مبتلا خیزد‘‘

    ان کا اٹھنا، بیٹھنا، بولنا، کھنا، پینا، آرام کرنا غرض ان کی ہر حرکت، ان کی ہر جنبش اور ان کا ہر فعل اسی کے واسطے ہے اور اسی کی محبت میں ہے، اگر ایک لحظہ بھی وہ اس کے مشاہدہ سے محروم ہو جائیں تو ان کے وجود سے شور پیدا ہوتا ہے، اگر ایک لمحہ بھی وہ اس کے خیال اور اس کی یاد سے غافل ہو جائیں تو وہ ان کے نزدیک ان کی موت ہے۔

    ایک درویش کا قصہ ہے کہ وہ ایک فقیر سے ملنے کے لیے روانہ ہوئے، راستہ میں ان درویش نے پرندوں کو کہتے ہوئے سنا کہ فلاں فقیر یعنی جس سے وہ ملنے جا رہے تھے انتقال کر گئے، ان کو یہ سن کر تعجب ہوا یعنی چوں کہ کافی راستہ طے کرچکے تھے، اس لیے واپس ہونا مناسب نہیں سمجھا، مسافرت طے کرتے ہوئے اس فقیر کے پاس پہنچے، دیکھا کہ وہ بالکل توانا و تندرست، زندہ و سلامت بیٹھے ہیں، ان کو بڑا تعجب ہوا، ان فقیر سے یہ بولے کہ تمہارے مرنے کی خبر راستہ میں سنی تھی لیکن تم تو زندہ ہو، فقیر نے جواب دیا کہ ’’آپ نے جو کچھ سنا تھا وہ صحیح تھا، واقعی میری موت واقع ہوگئی تھی، میں خدا کی یاد سے چند لمحات غافل رہا، وہ ہی میری موت تھی‘‘ اس قصہ سے یہ بات بخوبی سمجھ لو گے کہ فقیر کا ہر کام بہ نیت صادق خدا کے لیے ہوتا ہے۔

    ایک اور قصہ ہے کہ ایک درویش نے اپنی بیوی سے ایک دوسرے فقیر کے لیے جو دریا کے پار بیٹھا تھا، روٹی لے جانے کو کہا، ان کی بیوی جب روٹی لے کر دریا کے کنارہ پہنچی، دیکھا کہ دریا خوب چڑھا ہوا ہے، واپس آئی اور کہا کہ دریا چڑھا ہوا ہے، پار کرنا دشوار ہے، ان فقیر نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تو دریا کے کنارہ پہنچے تو کہنا کہ اس فقیر کے صدقہ میں جس نے زند و شوہر کے تعلقات نہ برتے، مجھے راستہ دے، چنانچہ دریا کے کنارے کھڑے ہو کراس نے وہ ہی الفاظ دہرائے، راستہ پیدا ہوگیا اور وہ عورت بخیر دریا پار پہنچ گئی اور جو فقیر وہاں بیٹھے ہوئے تھے ان کو روٹی دی، انہوں نے روٹی کھائی اور پوچھا کہ تو یہاں تک کیسے آئی، دریا چڑھا ہوا ہے اس نے وہی کلمات دہرائے، ان فقیرنے کہا کہ اب جو تو جائے تو کنارہ پر کھڑے ہو کر کہنا کہ ’’اس فقیر کے صدقہ میں جس نے ساری عمر روٹی نہیں کھائی، مجھے راستہ دے‘‘ عورت حیران تھی کہ یہ کیا ماجرا ہے، اس کے شوہر نے اس سے بارہا صحبت کی اور پھر کہتا ہے کہ صحبت نہیں کی اور اس فقیر نے خود اس کے سامنے بیٹ بھر کر روٹی کھائی اور کہتے ہے کہ ساری عرم روٹی نہیں کھائی، غرض وہ کنارہ پر پہنچی اور وہ ہی الفاظ جو ان فقیر نے اس کو بتائے تھے، دہرائے راستہ پیدا ہوگیا اور وہ صحیح سلامت اپنے شوہر کے پاس واپس آگئی، اس نے شوہر سے دریافت کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ تم دونوں نے جھوٹ بولا مگر باوجود اس کے دریا نے راستہ دیا، اس کے شوہر نے کہا کہ نہیں ہم میں سے کوئی جھوٹا نہیں، میں نے ساری عمر تجھ سے صحب اپنے نفس کے خاطر نہیں کی بلکہ خدا کے واسطے کی اور اس فقیر نے ساری عمر روٹی اپنے نفس کی خاطر نہیں کھائی بلکہ خدا کو یاد رکھنے کے واسطے۔

    اس قصہ سے تم کو اندازہ ہوگا کہ نیت عمل کے واسطے کتنی ضروری چیز ہے، اچھی نیت سے بدتر کام بہر ہو جاتا ہے اور بری نیت سے بہتر کام بدتر ہو جاتا ہے، پس صدق کے ساتھ نیت کا درست رکھنا لازم و ضروری ہے، نماز ہو یا روزہ، خیرات ہو یا زکوٰٖۃ، حج ہو یا اور کوئی عمل، غرض کچھ بھی ہو نیک نیت ضروری ہے، نماز بغیر نیت اطاعت حق تعالیٰ کے اٹھک بیٹھک روزہ فاقہ، زکوٰۃ داد و دہش، خیرات اقتدار طلبی اور حج سیاحی ہے، مرید کے لیے نیت کا ٹھیک اور درست رکھنا اور خلوص ضروری چیزیں ہیں، نیت درست ہو اور طلب صادق ہو جب منزل مقصود پر پہنچنا ہوتا ہے۔

    مریدی بھی عجب چیز ہے، اپنی جان، اپنا مال، اپنا ایمان غرص اپنا سب کچھ پیر و مرشد کے سپرد کر دینا ہے، مرید کی خود کوئی خواہش یا آرزو نہیں رہتی جو اس کے پیر کی خوشی اور رضا مندی ہو وہ ہی مرید کی عین خوشی اور رضا مندی ہوتی ہے، پیر کی تعلیم اور تلقین اس کے لیے شمع راہ ہے، مرید مردہ کی طرح ہے جو ایک زندہ کے ہاتھ میں ہے لیکن مرید اصل مقصد کے لیے بغیر پیر کا اتباع کیے اور اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلے، منزل مقصود پر نہیں پہنچتا، بغیر مجاہدہ کے مشادہ نہیں ہوتا، بغیر تکلیف کے راحت نہیں ملتی، بغیر تلاش کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

    اچھا اب یہ خط ختم کرتا ہوں، آج کل موسم بڑا اچھا ہے، میں شام کو اکثر چلہ حضور غریب نواز پر چلا جاتا ہوں، منی اچھی طرح ہے، روز اسکول جاتی ہے، انعام اور مہر نور کو پیار شکیلہ کو دعا، تمہاری چچی شکیلہ کو دعا اور چنی کو پیار کہتی ہیں، خداوند تالعیٰ تمہارے کام بنائے اور تم کو شاد آباد رکھے۔

    دعا گو؍ خادم گدڑی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے