Font by Mehr Nastaliq Web

گیارھویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

گیارھویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۱۵؍ نومبر ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    عزیزالقدر سلمہ، دعائے خیر۔

    تمہارا خط ملے ہوئے کئی روز ہوگئے، دن بھر کتاب میں مصروف رہتا ہوں، چند ایسی روایتیں ہیں جن کی تصحیح نہایت ضروری ہے، جب تک روایات کی تصحیح نہ ہو اور سنین کی تحقیق نہ ہو، اس قسم کی کتاب مستند نہیں سمجھی جاتی، چنانچہ اسی جستجو و تجس میں لگا رہا، بحمداللہ کامیابی ہوئی۔

    جدی تحقیقات و انکشافات کی روشنی میں ان روایات کی تصحیح کی جو اب تک زبان زد خاص و عام ہونے کی وجہ سے مستند سمجھی جاتی تھیں، آپ کی سنین ولادت شریف و مریدی، خرقہ خلافت و تبرکات پانے کا سنہ، آپ کے دہلی کے قیام کی دوران کے واقعات آپ کی شادی، آپ کی اولاد، آپ کا اجمیر شریف آنا، آپ کا بابا صاحب کو مرید کرنا، آپ کا سنہ وفات اور عمر بوقت وفات شریف، غرض زندگی کا کوئی پہلو بھی تشنہ نہیں چھوڑا گیا ہے، اب تو کتاب پوری ہی سمجھ لو، معمولی کام باقی ہے۔

    طالب پیر کی انگلی کیسے پکڑے اور کس کی انگلی پکڑے، یہ بڑا نازک سوال ہے لیکن دشوار نہیں ہے، ہر طالب حقیقی کا کسی نہ کسی کے یہاں حصہ ہوتا ہے، اس کو وہ حصہ وقت پر مل جاتا ہے، پیر کامل کی شناخت یہ ہے کہ اس کی صحبت میں دنیا فراموش ہو جاتی ہے، خدا یاد آتا ہے، نیک کاموں کی توفیق عطا ہوتی ہے، دل برائی سے ہٹ کر بھلائی کی طرف راغب ہوتا ہے، جس کی صحبت میں یہ بات حاصل ہو سمجھ لو کہ وہ پیر کامل اور برگزیدہ ہے، اگر اس کے یہاں تمہارا حصہ ہوگا وہ تم کو مرید کرے گا ورنہ انکار کر دے گا، تمہارے دوست لطیف صاحب کا دوسرا پیر تلاش کرنا غلط ہے، کیا انہوں نے پیر کی درس گاہ کو نوکری دلانے کا دفتر سمجھ رکھا ہے اور پیر کو اس دفتر کا ہیڈ یا ڈائرکٹر تصور کر لیا ہے، اگر پیر اپنے مرید سے واقعی خوش ہے تو وہ اس کو کبھی تکلیف میں دیکھنا پسند نہیں کرتا، اس کے بغیر کہے اس کی باطنی ہمت اور استعانت سے مرید کا ہر کام بخیر و خوبی انجام پاجاتا ہے لیکن یہ بات جب ہوتی ہے جب مرید راسخ الاعتقاد ہو اور اس کو پیر پر پورا پورا بھروسہ ہو۔

    پیر مرید تجارت نہیں ہے اور نہ یہ مشترکہ کاروبار کی کوئی مشترکہ کمپنی ہے اور نہ پیری مریدی دنیاوی نفع کو آپس میں مساوی طور پر باٹنے کی کوئی کو آپریٹیو سوسائٹی ہے جو مرید اپنے پیر سے صرف دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے لیے مرید ہوتا ہے، وہ در اصل مرید دنیا ہے، وہ تاجر ہے اور مریدی کے نام کو اور اس کے وقار کو بدنام کرنے والا ہے۔

    بدنام کنندۂ نکو نامے چند

    اسی طرح جو پیر اپنے مرید سے یا دنیا میں کسی سے بھی کوئی دنیاوی غرض یا امید فائدہ رکھتا ہے، وہ اصل میں پیر نہیں بلکہ لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہے، وہ خود بھی ڈوبتا ہے اور اپنے مریدوں کو بھی لے ڈوبتا ہے، پیری رنگے ہوئے کپڑے پہننے یا بال بڑھانے کا نام نہیں اور مریدی بتاشوں یا شیرینی پر فاتحہ کر کے رسم ادا کرنے کا نام نہیں، مریدی ایک بڑا عہد و پیمان اور ایک پڑا عزم بالخبرم ہے، صداقت ہو، محبت ہو تو لطافت پیدا ہوتی ہے، جب لطافت پیدا ہوئی تو کثافت دور ہوئی، جب کثافت دور ہوئی تو ایذا رسانی ظلم و جور بغض و حسد، بخل، کینہ لالچ وغیرہ وغیرہ سب کی موت واقع ہوئی اور دل مثلِ آئینہ کے صاف ہوگیا لیکن یہ سب کچھ پیر کی توجہ سے ہوتا ہے، پیر کی توجہ اس وقت ہوتی ہے جب مرید کی طلب صادق ہو، اعتقاد درست ہو، رابطۂ محبت ہو، خواہش پرست خدا رسیدہ نہیں ہوسکتا، پیر پرست خدا پرست ہے، اس سے انکار گناہ ہے، پیر کے آستانہ پر سرِ نیاز خم کرنے سے تمکنت و وجاہت حاصل ہوتی ہے پیر، رسول اور خدا کافی ہے، مرید کا پیر تو ایک ہی ہوتا ہے، جس طرح وفا شعار بیوی کا ایک ہی خاوند ہوتا ہے اسی طرح پیر پرست مرید کا صرف ایک ہی پیر ہوا کرتا ہے، موجودہ دور میں کسی دوسرے سے طالب ہونا رواج پذیر ہے، ایک پیر کے بہت سے مرید ہوسکتے ہیں، جس نے پیر کے حکم سے یا پیر سے رو گردانی کی وہ نعمت سے محروم رہا، حضرت خواجہ غریب نواز فرماتے ہیں کہ ’’مذہب حقیقی یہ ہے کہ مرشد کی مطابقت اور پیروی کرے یعنی اطاعت باطنی میں پیر و مرشد مثل راہ کے ہے اور رہنما خدا ہوتا ہے، مذہب مخلص ہوتا ہے نہ کہ مختلطہ، اختلاط توقف ہے اور اخلاص ترقی ہے‘‘ جو صفاتی مرید ہوتی ہیں وہ پکے اور راسخ الاعتقاد نہیں ہوتے لیکن جو ذات سے تعلق رکھتے ہیں وہ حقیقی مرید ہوتے ہیں۔

    مرید دو قسم کے ہوتے ہیں، رسمی و حقیقی، رسمی مرید وہ ہے جو پیر سے کلاہ و شجرہ حاصل کرے، پیر پر سچا اعتقاد رکھے، پیر کے حکم پر چلے، پیر اگر رات کہے تو رات کہے اور اگر پیر دن کہے تو دن کہے، پیر کے فرمان پر ثابت قدم رہے، جس بات سے پیر منع کرے اس سے پرہیز کرے، مرید حقیقی وہ ہے کہ پیر کی حرکات و سکنات کے موافق ہو، پیر کی راہ و روش کے خلاف کسی وقت اور کسی حالت میں بھی نہ چلے، جب پیر و مرید میں صدق و سچائی دیکھتا ہے تو اس کو خرقہ پہناتا ہے، ذکر و فکر، مراقبہ کی تلقین کرتا ہے اور خلوت میں بیٹھنے کی ہدایت کرتا ہے مجاہدہ اور ریاضت کرا کے اس کو اپنےمثل بناتا ہے اور اپنے مثل تصویر کرتا ہے۔

    حضرت شیخ سعدی مریدی کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’’مریدی یہ ہے کہ حاضر و غائب پیر و مرشد کی اطاعت و ادب ملحوظ رہیں اور پیر کی صحبت میں دل و جان سے حاضر ہو، ریائی اعمال سے پرہیز کرے، عند الوصال رات دن خدا کی یاد میں بفرمان مرشد مشغول رہے‘‘

    پیر و مرشد کا ادب مرید پر لازمی ہے بغیر پاسِ ادب کے مرید پیر تک قربت حاصل نہیں کرسکتا، مولانا رومی فرماتے ہیں۔

    بے ادب محروم مانداز فضل رب

    اور

    بے ادب تنہا نہ خود را داشت بد

    بلکہ آتش در ہمہ آفاق زد

    بغیر پیر و مرشد کی خدمت کی عظمت نہیں مل سکتی جس نے پایا پیر و مرشد کی خدمت سے پایا، خواجہ غریب نواز جب اپنے پیر حضرت عثمان ہارونی نوراللہ مرقدہ سے پیوستہ ہوئے اور ارادت کے ساتھ بیعت کا شرف پایا تو آپ بائیس سال تک مرشد کی خدم گزاری میں ہم تن کمر بستہ رہے، یہاں تک کہ ایک لمہ بھی اپنے نفس کو آسودگی نہ دی۔

    حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ جہاں مسافرت فرماتے حضرت خواجہ غریب نواز حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ کا جامۂ خواب اور توشۂ سفر سر پر لیے ہمرکاب رہتے، یہ کتنی مشکل بات ہے لیکن نتیجہ کیا ہوا، حضرت خوجہ عثمان ہارونی قدس سرہ نے غریب نواز کی یہ خدمت دیکھ کر آپ کو وہ عظمت و نعمت بخشی کہ جس کا کوئی حد و حساب نہیں۔

    حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا نام نامی تو تم نے سنا ہوگا، آپ سے سہروردی کا سلسلہ چلا، آپ بہت برگزیدہ بزرگ ہیں، آپ شیخ سعدی (جن کی تصنیف گلستاں و بوستاں‘‘ تم نے پڑھی ہے) کے پیر ہیں، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی نے بھی غریب نواز کی طرح اپنے پیر و مرشد کی خدمت اور اطاعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا، آپ اپنے پیر و مرشد کی خدمت اور اطاعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا، آپ اپنے پیر و مرشد کا سامان سفر سر پر رکھ کر اپنے پیر کے ہمراہ حج کو جاتے تھے اور اسی طرح واپس آتے تھے، آخر کار پیر نے یہ دیکھ کران کو لازوال نعمت سے مالا مال کیا، تعظیم پیر و مرشد اگر کسی کو سیکھنا ہو تو حضرت خواجہ غریب نواز سے سیکھ لے، آپ کے دل میں پیر و مرشد کی تعظیم بے انتہا تھی، ایک روز کا واقعہ ہے کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور سلوک کی نسبت کچھ فرما رہے تھے، جب آپ کی نظر دائیں طرف پڑتی تھی تو آپ کھڑے ہو جاتے تھے جو لوگ آپ کے پاس بیٹھے تھے حیران تھے کہ آپ بار بار کس لیے کھڑے ہوتے تہیں اور کس کو بار بار تعظیم دیتے ہیں، دریافت کرنے پرآپ نے فرمایا کہ اس طرف ان کے پیر و مرشد کا روضہ ہے، جب وہ اس طرف دیکھتے تھے تو روضۂ مبارک نظر آجاتا تھا اور وہ بار بار تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔

    خواجہ غریب نواز کا فرمان ہے’’مرید کو چاہیے کہ پیر کے فرمان سے ذرہ بھر تجاوز نہ کرے، مرشد جو کچھ نماز اور اوراد و وظائف کے لیے فرمائے اس کو گوش و ہوش سے سنے اور اس پر عمل کرے تاکہ اس مقام پر پہنچے، جہاں پیر و مرید کا مشاطہ ہے، پیر جس امر کی مرید کو ترغیب دے گا وہ حصول کمال کے لیے ہوگی‘‘

    پیر کی خدمت کرنا اور پیر کو دیکھنا خود ایک عبادت ہے، چنانچہ غریب نواز فرماتے ہیں کہ پانچ چیزوں کا دیکھنا اہل سلوک کے لیے عبادت ہے، سوئم علما کی طرف عزت سے دیکھنا عبادت ہے، چہارم خانۂ کبعہ کا دیکھنا عبادت ہے، پنجم اپنے پیر کو دیکھنا اور ان کی خدمت کرنا عبادت ہے۔

    غریب نواز فرماتے ہیں کہ میں نے ’’معرفتہ المریدین‘‘ میں لکھا دیکھا ہے کہ شیخ عثمان ہارونی قدس سرہ نے فرمایا ’’جو شخص اپنے پیر کی خدمت کما حقہ بجالائے، اللہ تعالیٰ اسے بہشت میں ہزار مرواریدی محل عطا فرمائے گا اور ہزار سال کی عبادت کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا‘‘

    غریب نواز فرماتے ہیں کہ میں نے’’معرفتہ المریدین‘‘ میں لکھا دیکھا ہے کہ شیخ عثمان ہارونی قدس سرہ نے فرمایا ’’جو شخص اپنے پیر کی خدمت کما حقہ بجا لائے، اللہ تعالیٰ اسے بہشت میں ہزار مرواریدی محل عطا فرمائے گا اور ہزار سال کی عبادت کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا‘‘

    غریب نواز کا فرمان ہے کہ ’’مرید کو لازم ہے کہ جو کچھ پیر کی زبان سے سنے اس پر بہ کوشش عمل کرے اور پیر کی خدمت بجا لائے، حاضرِ خدمت رہے، اگر متواتر خدمت نہ بجا لاسکے تو کم از کم کوشش ہی کرے‘‘

    حضرت خواجہ قطب صاحب کا ایک واقعہ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر نے بیان فرمایا ہے کہ قطب صاحب اپنی زبان فیض ترجمان سے فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ وہ نماز نفل میں مشغول تھے، انتے میں ان کے پیر و مرشد حضرت خواجہ غریب نواز نے آپ کو آواز دی، آپ نے فوراً نماز کی نیت توڑ کر کہا ’’حاضر‘‘

    ایک زاہد کا انتقال ہوا، کسی نے اس کو خواب میں دیکھا، پوچھا کہ ’’ خدا نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا؟’’ زاہد نے جواب دیا ’’میں دن رات بیدار رہا کرتا تھا، کسی وقت آرام نہیں لیتا تھا مگر یہ عمل خدا نے پسند نہ فرمایا بلکہ میری بخش کا سبب یہ ہوا کہ میں اپنے پیر کی خدمت کیا کرتا تھا، اس لیے یہ حکم باری تعالیٰ ہوا ’’چوں کہ تم نے اپنے پیر کی خدمت میں کوتاہی نہیں کی، اس لیے ہم نے بخش دیا‘‘

    مرید کو چاہیے اپنا ہاتھ اپنے پیر و مرشد کے ہاتھ میں دے، پیر کا ہاتھ خدا تک پہنچنے کا زینہ و وسیلہ ہے، جب مرید کو کوئی آفت یا کوئی مصیبت پہنچے یا اس کو کوئی خوف ہو تو اس کو چاہیے کہ شیخ کی ولایت میں رجوع کرے۔

    خداوند تعالیٰ اور اپنے پیر و مرشد پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ کرے اور جو کچھ اس پر قبض و بسط، رنج و راحت، کشائش وابستگی پہنچے اس کی شکایت نہ کرے، اس پر راضی رہے اور بخوشی صبر کرے، اپنے پیر و مرشد کے قول و فعل اور حال و صفت پر کوئی نکتہ چینی نہ کرے جو کچھ دیکھے دیکھتا رہے، خاموش رہے، اپنے پیر کے ظاہر و باطن تصرفات میں ہمہ وقت مشغول رہے، بغیر اعتقاد کے مرید پیر سے کچھ حاصل نہیں کرسکتا، کل احوال و اقوال اور کل گفتار و کردار کو نظر ارادت سے دیکھے، اگر ایسا نہیں ہے تو وہ طالبِ صادق نہیں ہے، وہ حقیقی معنوں میں مرید نہیں ہے، وہ مرید طریقت نہیں ہے، مرید کو چاہیے کہ ہر فتح و فیض کو جو اپنے پیر سے حاصل کرے اس کو اپنے پیر کی قبولیت کا آثار جانے، پیری مریدی ہر ایک کے بس کا کام نہیں ہے جو مرید اپنے پیر سے منحرف ہوا وہ خدا اسے منحرف ہوا، اس کا ٹھکانہ کہیں نہیں جو پیر اپنی پیری کو اپنا پیشہ اور دنیاوی مقاصد کی کنجی بنائے اور پیری کی آڑ میں دنیاوی فائدہ حاصل کرلے وہ ہرگز پیر نہیں بلکہ گمراہ ہونے والا ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے جو پیر خود اپنی آرزو رکھتا ہو وہ بھلا دوسروں کی حاجت براری کیسے کرسکتا ہے؟ جو خود اندھا ہو وہ دوسروں کو راستہ کیسے دکھا سکتا ہے؟ جو خود حرص و ہوا، طمع و لالچ، جاہ پرستی اور خود پرستی میں پھنسا ہو وہ دوسروں کو ان عیوب سے کیسے نجات دلا سکتا ہے؟ جس کا آئینۂ دل خود ہی زنگ آلود ہو وہ دوسروں کے دلوں کو کدورت، بغض و عناد، لالچ و طمع سے کیسے صاف کر سکتا ہے؟

    صوفیا کے نزدیک جس عبادت میں نمائش ہو، حرص و ہوا ہو وہ عبادت نہیں جو عبادت تکلیف و مصیبت دور کرنے کی غرض سے یا عیش و آرام، نیک نامی، راحت و انبساط حاصل کرنے کی نیت سے کی جائے وہ دھوکہ ہے، وہ در اصل بتِ باطن کی پرستش ہے جس کو حق پرستی نہیں کہا جاسکتا یہ سالکوں اور عارفوں کے نزدیک عین بت پرستی ہے جو عبادت لالچ و غرض کی وجہ سے کی جائے وہ ریا کاری ہے، ایسی عبادت خدا تک نہیں لے جاتی۔

    کفر مجازی غریب نواز فرماتے ہیں یہ ہے کہ ’’کثرتِ اعمال اور رسوم عادات سے مخلوق میں شہرت اور تعریف کا خواست گار ہو یعنی مخلوق کو بلا درمیان خدا اپنی حاجات پراری کا ذریعہ جانے اور ان سے فتوحات کی امید رکھے، چوں کہ یہ امر غیراللہ ہے، اس لیے ایسے خطرات کا دل میں آنا بت ہے‘‘

    غرض پیر مریدی بڑا مشکل کام ہے، یہ رشتۂ اعتقاد، ذوق و شوق اور محبت سے استوار ہوتا ہے۔

    آخر یہ کیا بات ہے کہ وہ بٹیا جو اپنے باپ سے لاکھوں روپے کی جائیداد بطور ترکہ پاتا ہے، کچھ ہی روز میں اپنے باپ کو بھول بیٹھتا ہے، بہت کیا تو اس نے سوئم دسواں، بیسواں، چہلم، چھ ماہی، بری اچھی طرح کر دی، کچھ لوگوں کو کھانا کھلا دیا تھوڑی بہت مرحوم کے نام پر خیرات کردی اور بس پھر اس کو بھول گیا لیکن ایک مرید اپنے پیر کو ساری عمر نہیں بھولتا، پیر کی حیات میں یا اس کے وصال کے بعد مرید برابر اور یکساں طور پر اس کی خدمت میں لگا رہتا ہے، اس کا نام روشن کرتا ہے، اس کے مشن کی تکمیل اپنے اوپر فرض کر لیتا ہے اور اسی میں راحت پاتا ہے۔

    یہ خط لکھتے لکھتے تھک گیا لیکن بات ایسی تھی کہ دل چاہتا تھا کہ لکھتا ہی رہوں، دو چار روز میں میرا ارادہ چند گھنٹوں کو سرواڑ شریف جانے کا ہو رہا ہے، سرواڑ شریف میں حضرت خواجہ غریب نواز کے فرزند حضرت خواجہ فخرالدین کا مزار شریف ہے، بڑی اچھی جگہ ہے، وہاں دل و دماغ کو سکون ملتا ہے، شکیلہ سے بعد دعا کے کہنا کہ دوا برابر جاری رکھو اور اگر ضرورت سمجھو تو انجکشن لگوا لو، انعام حسن اور مہر نور کو بہت بہت پیار، ماہ نور اچھی طرح ہے، روزانہ اسکول جاتی ہے، خداوند تعالیٰ تم کو شاد آباد رکھے۔

    دعا گو؍ خادم حسن معینی گدڑی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے