Font by Mehr Nastaliq Web

بارھویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

بارھویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۱۷؍ دسمبر ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    عزیزم سلمہ، دعائے خیر۔

    تمہارا خط ملا، تم گوالیار ہو آئے، میں بھی جے پور ہو آیا، یہ تم نے بہت اچھا کیا کہ حضرت غوث گوالیاری، حضرت خواجہ خانون اور حضرت چھنگا شاہ کے مزارات پر حاضر ہوئے، عطر کی دوکان پر بیٹھنے سے خوشبو آنے لگی ہے اور کوئلہ کی دوکان پر بیٹھنے سے کپڑے کالے ہو جاتے ہیں، میں بھی جے پور میں مولانا حضرت ضیاؤالدین صاحب کے مزار شریف پر کئی مرتبہ حاضر ہوا، بڑا بافیض مزار ہے، جے پور جانے سے قبل میں ’’معین الاقطاب‘‘ لکھ کر ختم کر گیا تھا، اب جے پور میں رہ کر یہ سوچا ہے کہ ’’معین العارفین‘‘ کا دوسرا ایڈیشن تحقیق و تنقید، تصحیح و ترتیب اور تالیفات و حواشی کے جدید طریقوں سے آراستہ کرکے منظر عالم پر لاؤں۔

    حضرت خواجہ غریب نواز کے حالات میں قریب قریب دو ہزار تذکرے اردو و فارسی میں اب تک لکھے جا چکے ہیں لیکن ان تذکروں میں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ واقعات کے چار پانچ سننین سے زائد نہیں ملتے، ان تذکروں میں الحاقی الفاظ، غیر واضح بیانات اور متضاد روایات کا ایک کافی ذخیرہ ملتا ہے، ایسی حالت میں بلا تحقیق صحیح نتیجہ پر پہنچنا آسان نہیں۔

    روحانی تاجدارِ ہند حضرت خواجہ غریب نواز سر چشمۂ اؤلیا، عالم دین اور حامل شرع متین ہیں، آپ کی ولادت۵۲۰؁ھ میں ہوئی۔۵۸۷؁ھ میں اجمیر پہلی بار بفرمان سرورِ عالم آپ تشریف لائے، آپ ہندوستان پانچ مرتبہ تشریف لائے، اجمیر کو اپنی سکونت سے رونق بخشی، سلطان شمس الدین التمش آپ سے بہت اعتقاد رکھتا تھا، آپ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان باطنی کی تعمیل میں شادی کی اور آپ کے بچے بھی ہوئے، آپ کا وصال ۶؍رجب۶۲۷؁ھ کو بمقام اجمیر ہوا، اس وقت آپ کی عمر ۹۷ سال کی تھی جس حجرہ میں آپ کا وصال ہوا، اسی میں آپ کو دفن کیا گیا۔

    آپ علمائے عصر اور فضلائے روزگار سے بھی تھے، آپ کا درویشانہ پیغام آپ کے نام کے ساتھ زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔

    ثبت است برجریدۂ عالم دوام ما

    آپ کا مسلک و مشرب فرقہ پرستی، تنگ دلی اور تنگ نظری سے پاک ہے، اگر ان کو مجاہد اعظم، مصلح اعظم اور مبلغ اعظم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

    حضرت خواجہ غریب نواز ہندوستان میں صفیانہ تہذیب کے بانی اور حامی ہیں ہندوستان اور بیرونی تمدن کے اختلاط سے ایک ایسی دلکش و دل فریب تہذیب پیدا ہوئی، جس کی زمین تو ہندوستان تھی مگر اس کے گل بوٹے اور آب درنگ خراسانی تھا، یہی دلکش تہذیب ہندوستان کی معیاری تہذیب قرار پائی، اس کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ مٹانے سے نہیں مٹ سکتے، اس تہذیب کی خصوصیات قناعت، توکل امید و بیم استقامت، محبت، خلوت، مجاہدہ، شکر، مراقب، خلوص، صدق، خلق، ادب مساوات معرفت، دعا، محاسبہ، ذکر، فکر، صبر یقین وغیرہ وغیرہ ہیں۔

    کیا چیز ایسی ہے کہ جو ہزاروں کیا لاکھوں آدمیوں کو غریب نواز کے دربار میں حاضر ہونے اور جھکانے پر مجبور کرتی ہے؟ کیا چیز ایسی ہے جو لوگوں کو جوق جوق آئے دن سردی گرمی، برسات میں غریب نواز کے دربار میں کھینچ کر لاتی ہے؟ عورتیں، مرد جوان اور بوڑھے، امیر و غریب ، تندرست و بیمار اپنی حاجتیں اور مرادیں اپنی آرزوئیں، اپنی امیدیں، اپنی تمنائیں لے کر دربارِ غریب نواز میں حاضر ہوتے ہیں اور اپنا دامن امید مقصد کے سدا بہار پھولوں سے پُر کرکے واپس جاتے ہیں، تم نے خود دیکھا ہے کہ عرس کے موقعہ پر ہزاروں آدمی دور دراز کا سفر طے کرکے اجمیر حاضر ہوتے ہیں، کوئی کھڑا کھڑا آتا ہے، کوئی ریل کا ہینڈل پکڑے ہوئے، کوئی بستر پر بیٹھ کر آتا ہے، راستہ کی سب صعوبتیں اور تکالیف ہنسی خوشی برداشت کرتے ہیں، اجمیر حاضر ہو کر ہزاروں روپیہ دربار غریب نواز میں لٹاتے ہیں اور یہ روپیہ وہ لوگ لٹاتے ہیں جو پیسے کو اپنی جان کی برابر رکھتے ہیں، اگر ان کا یک پیسہ کھو جاتا ہے تو افسوس کرتے ہیں اور گھنٹوں تلاش کرتے ہیں، بھئی دنیادار تو پیسہ کا طلب گار ہے، پیسہ اس کا معشوق ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ یہاں آکر دربار غریب نواز میں بے دریغ پیسہ نذر و نیاز میں، دیگ پکوانے میں، چادر، پھول اور عطر پیش کرنے میں، قوالوں کو دینے میں، حاجت مندوں محتاجوں اور مساکین کی امداد میں، خرچ کرنا اپنے لیے باعثِ سعادت اور باعث برکت سمجھتے ہیں، کیا اصغر صاحب اس بات سے بے خبر ہیں؟ ان سے پوچھا جائے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ وہ اس کی کیا وجہ سمجھتے ہیں، یہ غریب نواز کے تصرفات نہیں تو اور کیا ہیں، غریب نواز کے وصال کو تو سات سو برس کا زمانہ گزر گیا لیکن رجوعِ خلائق زندگی سے زیادہ وصال کے بعد ہے۔

    آپ کا مزار پُرانوار مرجع خلائق ہے، آپ کا روحانی فیض اب بھی اسی طرح جاری ہے، جس طرح آپ کی حااتِ بابرکات میں تھا، آپ کی برکات صوری و معنوی سے اب بھی لوگ اسی طرح فیض ہو رہے ہیں، جس طرح آپ کی حیات ظاہری میں فیضیاب ہوتے تھے۔

    شہنشاہ اکبر پا پیادہ اجمیر آتا ہے اور دربار غریب نواز میں حاضر ہو کر عقیدت کے پھول کرتا ہے، احاطۂ درگاہ میں ایک مسجد تعمیر کراتا ہے جو اکبری مسجد کے نام سے موسوم ہے، شہنشاہ جہاں گیر حاضر دربار ہو کر دیگیں پیش کرتا ہے، شہنشاہ شاہ جہاں دربار غریب نواز میں حاضر ہوتا ہے تو ایک شاندار مسجد سنگِ مرمر کی تعمیر کراتا ہے جو آج تک اس کی یاد کو تازہ کرتی ہے، یہ مسجد شاہ جہانی مسجد کہلاتی ہے، شاہجہاں کی لڑکی جہاں آرا بیگم حضرت غریب نواز کی بڑی معتقد تھی، اس نے غریب نواز کے حالات میں ایک چھوٹی سی کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ’’مونس الارواح‘‘ ہے شہزادی جہاں آرا نے اپنی پلکوں سے دربار غریب نواز میں جھاڑو دی ہے، تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے درگاہ میں کتنی عمارات تعمیر ہوگئیں، کوئی عمارت تعمیر کر رہا ہے، کوئی درگاہ کے نام وقف کر رہا ہے، کوئی آپ کی سوانح حیات مرتب کر رہا ہے، کوئی اپنی دوکان، اپنی فیکٹری، اپنی کمپنی کو غریب نواز کے نام سے منسوب کر رہا ہے، کوئی آپ کے مناقب لکھ رہا ہے، غرص جسے دیکھو غریب نواز سے قریب تر ہونے کی کوشش میں لگا ہوا ہے اور ان کی خوشنودی و فیضان کو اپنے دنیاوی اور دینی کاموں کے لیے کافی سمجھتا ہے۔

    اصغر صاحب سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہے؟ غریب نواز اس دنیا میں بحیات ظاہر تشریف فرما تو نہیں ہیں پھر کیا بات ہے کہ لوگ جوق جوق مزارِ اقدس پر حاضر ہوتے ہیں، اصغر صاحب کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ جب انسان مر گیا خاک میں مل گیا خاک ہوگیا، روح کو موت نہیں، جسم فانی ہے، روح زندہ رہتی ہے اور زندہ رہنے والی ہے جسم سے علٰیحدہ ہونے کے بعد بھی وہ فنا نہیں ہوتی، روح کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے قوائے خاصہ بھی زندہ و باقی رہتے ہیں، پس مرنے کے بعد بھی انسان کو روحانی طور پر احساس و ادراک اور روحانی علم و شعور باقی رہتا ہے۔

    اس میں شک و شبہ نہیں کہ جسم کے عدم سے روحانی ادراک و شعور کا عدم ہرگز واقع نہیں ہوتا، اس درگاہ سے طرح طرح کے غیر معمولی امور سرزد ہوتے ہیں، روح کی طاقت و قوت کچھ عجیب طاقت و قوت ہو جاتی ہے، ارواح مقدسہ ملا اعلیٰ میں جا کر ملکوتی صفات سے متصف ہو جاتی ہے اور ملکوتی آثار ان میں پائے جانے لگتے ہیں، ان کے علم ادراک و شعور و سیر و تصرف کے لیے عالم میں کوئی حجاب مانع و باقی نہیں رہتا، وہ اعلیٰ علین میں رہتی ہیں، قبر سے ان کا پورا تعلق رہتا ہے، جہاں کی چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں، مختلف جگہ، مختلف احوال میں پائی جاتی ہیں، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ارواح سیارہ و درّا کہ و متصرفہ ہیں، اصحاب مشاہدہ نفوس قدسیہ اؤلیا و انبیا سے عجیب عجیب قم کے تصرفات برکات کا برابر تجربہ و مشاہدہ کرتے آئے ہیں۔

    حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ ’’روح علاقات جسمانیہ سے مجرد ہونے پر اپنے مزاج اصلی کی طرف راجع ہو کر ملائکہ سے ملحق ہوتی ہے اور صفاتِ ملکوتیہ سے متصف ہو جاتی ہے اور ان کے کاموں میں شریک ہوتی ہے اور اکثر ایسی روحیں اعلاء کلمۃ اللہ و نصر حزب اللہ میں مصروف پائی جائی ہیں‘‘

    ظاہری موت کے بعد ایک حیات ہے جو دنیا کی حیات سے اونچی ہے، مرنے کے بعد بھی مرنے والے سے ہمارا تعلق منقطع نہیں ہوتا، اس سے ہم امداد حاصل کرسکتے ہیں وہ اب بھی ہمارا وسیلہ ہے۔

    اب یہ تو تم کو معلوم ہی ہوگیا کہ روح کو ادراک شعور علم، سیر و تصرف حاصل ہے، اب اس سے استمداد کے اہم مسائل کو سمجھنا تمہارے لیے کچھ دشوار نہ ہوگا، انبیا اور اؤلیا حیاتِ ظاہری میں خالق اور مخلوق کے درمیان ایک وسیلہ ہوتے ہیں، وہ مظہر عون الٰہی ہوتے ہیں، ظاہری زندگی میں مخلوق ان کے فیض صحبت و برکات سے، ان کے وجود و ہمت و تصرف سے، ان کے توسل و تشفع سے اپنے دینی و دنیاوی مقاصد میں کامیاب ہوتی ہے، جس طرح انبیا و اؤلیا حیاتِ ظاہری میں مظہر عون الٰہی ہوتے ہیں، اسی طرح اس ظاہری زندگی کے بعد عالم برزخ و روحانیات میں وہ مظہر عون الٰہی ہوتے ہیں جس طرح حیاتِ ظاہری میں تھے اور مخلوق ان کے روحانی فیوض و برکات، توسل شفع سے فیضیاب ہوتی رہتی ہے، ان سے مخلوق کی حاجت اور حل مشکلات برات ہوتی رہتی ہیں۔

    رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم حیات النبی ہیں، اؤلیااللہ کی حالتِ حیات و حالتِ موت دونوں برابر ہوتی ہیں، امام غزالی فرماتے ہیں کہ ’’جس سے اسمتداد اس کی زندگی میں ہوسکتا ہے، اس سے اس کے مرنے کے بعد بھی استمداد درست ہوگا‘‘

    استمداد طالبانِ حق کا اور ہے اور عام لوگوں کا اور ہے، عام لوگوں کا استمداد و استغاشہ دنیاوی مشکلات کے حل کے لیے ہوا ہے لیکن سالکانِ طریقت و طالبانِ حق اپنے پیروں اور بزرگوں کی حیات ظاہری میں نہ ان کے وصال کے بعد اپنی دنیوی ضروریات و حاجات ان کے پاس لے جاتے ہیں اور نہ ان سے دنیاوی مرادیں مانگتے ہیں، وہ ان کی حیاتِ ظاہری میں اور ان کے وصال کے بعد اپنے سیر و سلوک میں ان کو مُمد کار سمجھتے ہیں اور ان سے روحانی استفادہ، استغاثہ واستعانت حاصل کرتے ہیں، کشود کار و فتح باب و وصول الی اللہ کے لیے اپنی روح ان کی روح کی طرف متوجہ کرکے فیص و مدد و امداد حاصل کرتے ہیں اور اس طرح ذریعہ اور وسیلہ سے منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں، محدثین کی ایک بڑی تعداد توسل و استمداد کی قائل و فاعل تھی، وہ مزاراتِ انبیا و اؤلیا کو محلِ اجابتِ دعا بتلاتے ہیں اور صالحین کی قبور کی زیارت کو باعثِ حصول فیض و برکات و موجب قضائے حاجات سمجھتے تھے۔

    حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ سرور عالم نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا ’’اے آدم! جب کوئی حاجت پیش آیا کرے تو پنجتن پاک کے واسطہ سے میری بارگاہ میں وسیلہ اختیار کیا کرو‘‘ سرورِ عالم فرماتے ہیں کہ ہم (پنجتن) نجات کی کشتی ہیں جس نے اس کشتی کے ساتھ تعلق رکھا وہ مخلصی پا گیا اور جس نے اس کشتی سے منہ پھیرا ہلاک ہوگیا، پس جس کو بارگاہِ الٰہی سے اپنی حاجت براری مطلوب ہو اس کو لازم ہے کہ ہم (پنجتن) کو درگاہ ایذدی میں وسیلہ بنائے‘‘

    امام شمس الدین جزری فرماتے ہیں کہ ’’انبیا علیہم السلام کی قبروں پر دعا قبول موتی ہے اور صالحین کی قبروں کے نزدیک دعا کا جو بشرائط معروضہ ہو مقبول ہونا مجربات سے ہے۔

    حافظ علامہ ابن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق کے عہد میں ایک دفعہ سخت قحط پڑا، ایک شخص نے روضۂ اقدس پر حاضر ہو کر فریاد کی کہ یا رسول اللہ امت کے خبر لیجیے، اس شخص کو حضور پُرنور نے خواب میں دفع قحط کی بشارت دی۔

    حضرت امام شافعی سے مروی ہے کہ ’’سیدنا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قبر شریف اجابت دعا کے لیے تریاق مجرب ہے’’ امام شافعی توسل و تشفع من اہل القبور کے قابل تھے اور بزرگان و صالحین کے مزارات سے وہ خود استفاضہ فرمایا کرتے تھے، امام شافعی کا امام ابوحنیفہ کے مزار پُرانوار سے تبرک و توسل کرنا ثابت ہے۔

    علی بن میمون کہتے ہیں کہ انہوں نے امام شافعی کی زبان فیض ترجمان سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ ’’میں ابو حنیفہ کی قبر سے برکت حاصل کرتا ہوں اور برابر ان کی زیارت کو جاتا ہوں اور جب مجھے کوئی حاجت پیش آتی ہے تو دو رکعت نماز ادا کرتا ہوں پھر ان کی قبر پر اور وہاں خدا سے (تبوسل ابو حنیفہ) دعا کرتا ہوں، فی الفور میری وہ حاجت پوری ہو جاتی ہے‘‘

    علامہ ابن حجر سے یہ معلوم ہوا ہے کہ امام شافعی کی طرح دیگر علما کا بھی قدیماً و حدیتاً امام ابو حنیفہ کے مزار شریف کی زیارت پر بہ نیت تبرک و توسل و انتفاع و استثفاع جانا معمول رہا ہے۔

    مشہور محدث ابو حاتم ابن خبان فرماتے ہیں کہ ’’ہم پر جب کوئی مصبت ناز ہوتی تو ہم حضرت سیدنا امام رضا سلام اللہ تعالیٰ علیہ کے مشہور مشہد مقدس حاضر ہوئے اور امام کے روضۂ مقدسہ پر تبوسل امام دعا کی اور فیض و برکت رضویہ سے میری بلائیں ٹل گئیں اور میری دعا قبول ہوئی اور ایسا متعدد بار میں نے تجربہ کیا ہے‘‘

    اسی طرح سے بہت سے واقعات ہیں جن کو وضاحت سے بیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں، قرون ثلٰثہ میں توسل و استمداد کا بکثرت ثبوت ملتا ہے، یہ نہ صرف سرورِ عالم کی ذاتِ پاک تک محدود و مخصوص تھا بلکہ صحابہ اہلِ بیت و صالحین کی قبور سے بھی قرونِ سابقہ میں توسل و استفاضہ و استغاثہ معمول تھا، اگلے محدثین اہل قبور سے توسل و استمداد کے برابر قائل و فاعل تھے اور اس کو شرعاً جائز و مندوب سمجھتے تھے اور صاف و صریح الفاظ میں کہتے تھے۔

    متقدمین کی جماعت میں سے وہ محدثین بھی جن کا صوفیہ کرام سے اختلاف و تعصب اور تشدد و تقشف مشہور ہے، اس مسئلہ میں مشائخ دین کے ہم مسلک و ہم مشرب تھے، علامہ ابن جوزی جو ایک مشہور محدث گزرے ہیں، اپنی کتاب ’’احیدالخاطر‘‘ میں لکھتے ہیں’’ مدایۃ الام میں کثرتِ زہد نے میرے قلب میں ایک خاص لذت و حلاوت پیدا کردی تھی پھر وہ حالت بعض وجوہ سے متغیر ہوگئی، جب میں اس کی اصلاح سے عاجز آ گیا اور پریشانی بڑھنے لگی تو میں نے قبور صالحین کی طرف توجہ کی اور ان سے توسل کیا اور بحمداللہ پھر وہ پہلی بات جو گم ہوگئی تھی، اہلِ قبول کی برکت سے مجھے حاصلِ ہوگئی‘‘

    اس سے بلا شک و شبہ صاف ظاہر ہے کہ وہ قبور اؤلیا و صالحین سے توسل و استفاضہ و تبرک و استمداد کے پوری طرح قائل تھے، قبر کے بوسہ دینے کو کفر قرار دینا غلط ہے، تعصب اور نفسانیت انسان کو حق شناسی سے دور رکھتی ہے، ٹھنڈے دل سے سوچنے کی ضرورت ہے، صحابۂ کرام حضرتِ سرور عالم کی ہر چیز کو تبرک سمجھتے تھے اور اس سے برکت حاصل کرتے تھے، آپ کا لعابِ دہن و غسالہ و پسینہ غرض سب کو صحابۂ پاک و تبرک حاصل تھے، آنحضرت کی حیات ظاہری کے بعد آپ کی زرہ، عصا، تلوار، پیالہ اور مہر، آپ کا لبادہ، آپ کے موئے مبارک، آپ کے کپڑے کو صحابہ و عاشقانِ رسول نہایت حفاظت و احترام سے اپنے پاس رکھتے تھے، لوگوں کو ان کی زیارت کراتے تھے، موئے مبارک اور کپڑوں کو پانی میں ڈال کر اس کا غسالہ لوگوں کو پلاتے اور لوگ اس ذریعہ سے صحت یاب ہوتے۔

    حضرت عائشہ کے پاس سرور عالم کا لبادہ تھا، وہ اس کی لوگوں کو زیارت کراتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ حضور کے انتقال کے وقت یہی زیبِ تن تھا، حضرت انس کے پاس نعلین شریف تھیں، حضرت عبداللہ بن سلام کے پاس سرورِ عالم کا ایک پیالہ تھا، اس میں وہ لوگوں کو برکت کے لیے پانی پلاتے تھے پھر اس پیالہ کو عمر بن عبدالعزیز نے تبرک و برکت کے لیے رکھ لیا، حضرت ام سلمہ کے پاس آنحضرت کے موئے مبارک تھے، جب کوئی بیمار ہوتا وہ اسے پانی میں ڈال کر اس کا غسالہ بیمار کو پلاتیں اور وہ شفا پاتا۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آنحضرت کی سب چیزیں متبرک ہیں اور آنحضرت کیا حیات ظاہر کے بعد ان سب چیزوں کو لوگ بطور تبرک اپنے پاس رکھتے اور ان کی برکت سے فیضیاب ہوتے تو کیا آنحضرت کی قبرِ مبارک متبرک نہیں ہے، کیا اس سے لوگ فیضیاب نہیں ہوسکتے؟ جبکہ آئمہ کے مزارات سے جیا کہ اوپر لکھ چکا ہوں لوگ فیضیاب ہوئے، بس آنحضرت کی قبرِ مبارک ضرور بدرجۂ اتم فیض و برکت کا سرچشمہ ہے، اسی وجہ سے حضرت ابو ایوب نے اپنا سر رکھا اور مردان سے کہا کہ میں پتھر کے پاس تھوڑا ہی گیا ہوں، اس سے یہ مطلب ہوا کہ آنحضرت کی قبر مبارک کا قرب در حقیقت خود قرب آنحضرت تھا اور حضرت ابو ایوب سرور عالم کے قدموں کی جانب اپنا منہ رکھے ہوئے تھے، سرور عالم خود شہدائے احد کی قبر پر تشریف لے گئے ہیں، مسلمانوں کے عالم قبرستان یعنی جنت البقیع میں بھی تشریف فرما ہوئے ہیں، اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے ہیں، نیز ارشاد فرمایا ہے کہ ’’زیارت کیا کرو قبروں کی کہ اس سے موت یاد آتی ہے‘‘

    غرض مزارات پر جانا نہ صرف سنت رسول ہے بلکہ حکم رسول کی تعمیل بھی ہے، ان سے فیوض و برکات و استمداد حاصل نہ کرنا نہ سنت صحابہ ہے نہ مشرب شافعی ہے اور نہ مسلک آئمہ ہے، اس فعل کو مذموم اور خلافِ شرع قرار دینا حقائع سے دور رہنا ہے، مورج تو روز نکلتا ہے، کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، اس کی روشنی تو ضرور پھیلتی ہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، چمگادڑ اگر یہ کہے کہ اس کو سورج کی روشنی دکھائی نہیں دیتی تو اس میں سورج کا کیا قصور، اگر کوئی اؤلیااللہ کے تصرفاتِ باطنی و روحانی فیوض و برکات کو نہ دیکھے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے تو اس میں کس کا قصور ہے، ان کے فیوض تو حیاتِ ظاہری کے بعد بھی اسی طرح جاری ہیں جیسے کہ ان کی زندگی میں تھے، اب یہ اپنی اپنی قسمت ہے کہ اس بات کو سمجھ لے اور اس سے فائدہ اٹھا لے، اؤلیااللہ کے مزارات پر دعا ضرور قبول ہوتی ہے، اعراس پر جو مسلمانوں کا پیسہ خرچ ہوتا ہے اس کو صرف بے جا بتانا بے جا ہے، اگر کل وہ حج کو صرفِ بے جا کہنے لگیں تو کسی کے پاس کیا علاج اور پھر وہ زکوٰۃ کو صرف بے جا کہیں تو ان کو کون روک سکتا ہے، عرس بزرگانِ دین کی یاد کو تازہ و زندہ و زندہ رکھنا ہے، اپنے اپنے بزرگوں اور اکابرین کی یاد کو قائم رکھنا زندہ قوموں کا شعار ہے، عیسائی بڑے تزک و احتشام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو مناتے ہیں، ہندو دسہرہ کے نام سے رام چندر جی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں، مغرب میں ادیبوں، شاعروں، سائنس دانوں، مشائخین و اکابرین کی سالانہ برسیاں منائی جاتی ہیں، جلسے کئے جاتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں، ریڈیو پر ایک خاص پروگرام نشر کیا جاتا ہے، اخبار اور رسالوں کے خاص نمبر نکالے جاتے ہیں، ان سب چیزوں سے ان کی یاد ان کا نام اور ان کے کام کو زندہ و باقی رکھنا مقصود ہوتا ہے۔

    دنیا کی کوئی قوم اپنے اکابرین و مشائخین سے الہام حاصل کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، ان کے کارنامے کو عوام الناس کے سامنے لانے سے پبلک کو ان کی پیروی اور ان کے بتائے ہوئے راستہ پر گامزن ہونے کا ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے، یہ پبلسٹی کار آمد ہوتی ہے او روپیہ اس پر خرچ ہوتا ہے وہ عین ضروری کاموں پر خرچ ہوتا ہے، عرس کیا ہے؟ اپنے بزرگانِ عظام کی سالانہ برسی منانے کا نام عرس ہے، فقیر کی موت فقیر کے واسطے باعثِ مسرت ہے، موت کے ذریعہ فقیر اپنے دوست سے ملتا ہے، فقیر کا دوست خدا ہے، دوست سے ملنے کے بعد فقیر کی روحانی طاقت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جس دن وہ دوست سے ملتا ہے اس دن فیوض و برکات کی عام بارش ہوتی ہے، عرس ان ظاہری و باطنی فیوض و برکات سے لوگوں کو فائدہ اٹھانے کا ایک موقعہ بہم پہنچاتا ہے، اگر عرس نہ کیے جائیں تو عوام الناس اپنے بزرگان دین کی نام اور پیغام کو فراموش کر بیٹھیں گے، عرس کی ذریعہ ان کے کام اور پیغام کی تبلیغ ہوتی ہے، لوگوں کو ان کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کا شوق ہوتا ہے اور اپنی روحانی اور اخلاقی حالت کے سدھارنے کا جذبہ پیدا ہوتی ہے، اعلیٰ معیارِ زندگی تک پہنچنے کی رغبت ہوتی ہے، اعلیٰ معیار زندگی تک پہنچنے کی کوشش کرنا تعمیری کام ہے، کسی تعمیری کام پر روپیہ خرچ کرنا صرف بے جا ہرگز نہیں ہوسکتا، اسلاف کرام کی مبارک سیر، بزرگانِ دین کے مقدس کارنامے، صلحائے ملک کے پاک حالات قومی جماعت کی ترقی و عروج کے لیے از بس ضروری ہیں، مجودہ اور آئندہ نسلوں کا فرض ہے کہ ان کا نام اور ان کا کام اور ان کی یاد کو زندہ قائم اور باقی رکھیں اور ان کی راہ پر گامزن ہو کر فلاح و بہبود حاصل کریں۔

    آج کل کے انگریزی داں نوجوان سینٹ پال، جان، مارٹن، لوتھر شیکسپیر اور ملٹن کے متعلق تو بہت کچھ جانتے ہیں لیکن اپنےاکابرین کے متعلق ان کو کچھ نہیں معلوم، یہ ہماری پستی کا نتیجہ ہے، اس سے کون انکار کرتا ہے کہ مساجد کی تنظیم ضروری نہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اصغر صاحب مساجد اور درگاہوں کو ایک دوسرے کا رقیب سمجھتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ مسجد اپنی جگہ ہے اور درگاہ اپنی جگہ، مساجد کی تنطیم اگر ہو جائے تو کیا کہنا، در حقیقت مساجد کی تنطیم خود مسلمانوں کی تنظیم ہے، اصغر صاحب منکرِ سماع معلوم ہوتے ہیں، ایسا شخص یا تو سنن و آثار سے ناواقف ہے یا اس کی طبیعت منقبض اور بستہ ہے، قرآن شریف میں ہے ‘‘ہم نے تمہیں بجنی مٹی سے بنایا ہے‘‘ حضرت داؤد علیہ السلام کو لحنِ داؤدی کا معجزہ دیا گیا تھا، سرورِ عالم نے نہ صرف سماع سنا ہے بلکہ فرمایا بھی ہے، جب آنحضرت ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو لڑکیوں سے سماع سنا ہے، مسجد قبا کی تعمیر کے موقعہ پر خوش الحانی کے ساتھ صحابہ کی آواز سے آواز ملائی ہے، مسجد نبوی کی تعمیر کے موقعہ پر پورا اشعر خوش الحانی کے ساتھ پڑھا ہے، حضرت امام غزالی فرماتے ہیں کہ جس شخص کو راگ سے حرکت نہ ہو وہ ناقص اور اعتدال سے ہٹا ہوا ہے اور روحانیات سے دور اور بہائم سے طبیعت میں کثیف تر ہے، اس لیے کہ موزوں مضمون سے سب کو اثر ہوتا ہے۔

    حضرت خواجہ غریب نواز کے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارون قدس سرہ کا فرمان ہے کہ

    ’’سماع اللہ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے، دورانِ سماع میں خدائے عزو جل اور بندے کے درمیان کوئی چیز حاصل و مانع نہیں ہوتی، کس کی طاقت ہے کہ ہمیں سماع سے منع کرے، اس کو کوئی موقوف نہیں کر سکتا، میں اللہ پاک سے دعا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ہمارے مرید اور ہماری اولاد قیامت تک سماع سننے اور اہلِ سماع پر کوئی شخص فتح نہ پائے، ہمارے اکثر پیروں نے سماع سماعت فرمایا ہے، پس اگر میں سماع سے توبہ کروں تو خطاوار و گنہگار ہوں‘‘

    شیخ سعدی فرماتے ہیں۔

    اشتر بشعیر عرب در حالت است از طرب

    گر ذوق نیست ترا بتر از طبع جانورے

    اس میں کوئی شک نہیں کہ شرائط آداب و حالات و مقام کا اثر حلت و حرم اور حسن و قبیح پر پڑتا ہے، ایک چیز خاص صورت و حالت میں ضروری اور فرض ہے، دوسری حالت میں مضر اور منع ہے، یہی حال سماع کا ہے کہ اہل کے لیے بہ پابندی آداب و شرائط جائز و مستحب ہے، نیز باعثِ برکات و حسنات ہے لیکن نا اہل کے لیے نا جائز و مضر و حرام ہے۔

    حضرت سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ سماع کے چار اقسام ہیں، حلال و حرام، مباح و مکروہ، سامع کو حق کی طرف زیادہ میل ہے تو اس کے حق میں مباح ہے، اگر میلان مجاز کی طرف زیادہ ہے تو مکروہ ہے، جس کا میلان کلیتہً حق کی طرف ہو اس کو حلال ہے، جس کا رجحان بالکل مجاز کی طرف ہو اس کو حرام ہے، پس معلوم ہوا کہ سماع کا مفید اور غیر مفید، جائز اور نا جائز ہونا خارجی اثرات اور حالات پر منحصر ہے، عباداتِ شریعت کا مدار احکام شرع پر اور عباداتِ طریقت کا احکام طریقت پر ہے عبادت شریعت کے لیے طہارتِ جسم اور پارچہ و توجہہ سمت قبلہ ضروری ہے، عبادت طریقت کے لیے طہارت قلب اور حضوری لازمی ہے، شریعت کا مدار ظاہری احکام پر اور طریقت کا باطنی پر ہے، شرائط سماع کا تعلق عبادات باطنی پر ہے، شرائط سماع کا تعلق عبادات باطنی (روحی) سے ہے، سماع کا مبدا اور ماخذ در اصل صدائے دکن ہے، اس صدائے کن کے نغمۂ روح نواز کی مستی نے ارواح کو سرشاریٔ وجود عطا فرمایا ہے ان سے جو اب بلیٰ کہلوایا، سماع اس نغمۂ اولین کی یاد اور اس معاہدۂ ازل کی تجدید ہے، نغموں کی آواز سالک کو روحانیت کی طرف اور پھر روحانیت سے تنزیہ کی طرف لے جاتی ہے، سماع کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سماع میں تین باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

    (1) زمان۔ سامع کو اطمینان کلی ہونا چاہیے، تمام افکار و علائقِ دنیوی سے یکسو ہو کر خیالات کو ایک مرکز پر جمع کرکے ضروریات اور حوائج سے فارخ ہو کر ہمہ تن ذوق و شوق بن کر سماع میں شریک ہونا چاہیے۔

    (2) مکان۔ گزرگاہ عام نہ ہو۔

    (3) اخوان۔ منکرین سماع اور زاہدانِ خشک و متکبر اور بے ادب لوگ محفل سماع میں نہ ہوں، چوں کہ برے خیالات کا انعکاس دوسروں پر پڑے گا۔

    ان کے علاوہ اور چند باتیں بھی ضروری ہیں، مثلاً

    (الف) باوضو اور خوشبو لگا کر محفل سماع میں بیٹھنا چاہیے۔

    (ب) سماع کی ابتدا اور ختم آیاتِ قرآنی اور درود شریف سے کرنا چاہیے، حضرت ممشاد علو دنیوی فرماتے ہیں کہ ایک دن جناب سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا غرض کیا کہ ’’یا رسول اللہ! آپ سماع کو برا جانتے ہیں؟’’ حضور نے فرمایا کہ ’’میں اس کی کسی چیز کو برا نہیں جانتا مگر ان سے (اہل سماع) سے کہہ دو کہ سماع کا آغاز اور اختتام قرآن کے ساتھ کیا کریں‘‘

    (ج) محفل سماع میں مودب بیٹھنا چاہیے، بالکل ساکت و صامت دو زانو بیٹھنا چاہیے، کوئی ایسی حرکت نہ کرنا چاہیے جس سے اہلِ محفل کو تکلیف پہنچے یا ان کی یکسوئی میں فرق آئے۔

    (د) برزخ مرشد پیش نظر رکھنا چاہیے تاکہ لغزش سے محفوظ رہے۔

    (س) جہاں تک ممکن ہو طبیعت کو ساکن اور مطمئن رکھنا چاہیے، جذبات کو مضطرب اور مشتعل نہ ہونے دینا چاہیے، قلب کو اپنے اختیار اور قابو سے باہر نہ ہونے دینا چاہیے۔

    (ش) کھڑے ہونے میں اہل مجلس کو اتباع کرنا ضروری ہے۔

    (ص) الفاظ اور نغمہ کو حقیقت سمجھ کر محبوبِ حقیقی پر منطبق کرنا چاہیے۔

    اچھا اب یہ خط خم کرتا ہوں، کیا تمہارا یہاں عنقریب آنے کا ارادہ ہے؟ اگر ممکن ہو تو ہر جمعرات کو ورنہ جب بھی تمہیں فرصت ہو اور موقع ملے تو سرفردار صاحب کے مزار پر ہو آیا کرو، دھول پور میں سرفردار صاحب کا مزار باعث خیر و برکت ہے، انعام حسن کیسا ہے؟ منی تو اب پابندی سے اسکول جاتی ہے، شکیلہ کے لیے خمیرہ آبریشم حکیم ارشد والا عنقریب کسی آتے جاتے کے ہاتھ بھیج دوں گا، مہر نور اب خوب تماشے کرتی ہوگی، خداوند تعالیٰ تم کو شاد و آباد رکھے۔

    دعا گو؍ محمد خادم حسن زبیری عمثانی معینی گدڑی شاہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے