Font by Mehr Nastaliq Web

تیرھویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

تیرھویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۱۸ جنوری ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    عزیزم سلمہ الرحمٰن، دعائے خیر۔

    تمہارا خط ملا، میں تو آج کل لکھنے پڑھنے میں اتنا منہمک ہوں کہ خطوط کے جواب دینے کا ہوش نہیں شام کو ٹہلنے چلا جاتا ہوں، آج تمہارا خط پھر بغور پڑھا، لطیف صاحب اگر اپنے پیر سے منحرف ہوگئے ہیں تو اس میں ان کے پیر کا یا کسی کا کیا قصور، انسان کو بصیرت جب تک خدا ہی نہ چاہے حاصل نہیں ہوتی جس کو خداوند تعالیٰ ہدایت سے محروم رکھنا چاہتا ہے اس کے کانوں پر اس کی آنکھوں پر اس کے دل و دماغ پر مہر لگا دیتا ہے، نہ وہ سن سکتا ہے نہ وہ دیکھ سکتا ہے نہ وہ سوچ سکتا ہے، وہ تاریکی میں رہتا ہے اور اسی حالت میں مرتا ہے، پیری مریدی جائنٹ اسٹاک ٹریڈنگ کمپنی تو نہیں ہے، نہ پیری مریدی دنیاوی فائدہ حاصل کرنے اور دنیاوی فائدے پہنچانے کا کوئی ذریعہ ہے، اس کو اس قسم کا ذریعہ سمجھنا ابتدائی غلطی کرنا ہے، پیری مریدی نہ کوئی قانونی معائدہ ہے کہ معاہدہ نامہ کی کسی شرط کی خلاف ورزی ہونے سے معاہدہ ٹوٹ جائے یا فریقین کو اس معاہدہ نامہ پر کار بند رہنے یا نہ رہنے کا اختیار ہو جائے، پیری مریدی دنیاوی کشودکار کی نہ ٹھیکے داری ہے نہ پیری مریدی دولت و عزت طلبی کی کوئی جنگ ہے، نہ پیری مریدی کوئی سیاسی دستورالعمل ہے کہ جس میں شہریوں کے حقوق کی دفعات ہوں اور جس میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا پورا پورا وعدہ کیا گیا ہو، پیری مریدی تو ایک محبت کا رشتہ ہے، یہ ایک روحانی تعلق ہے، اس رشتہ محبت میں نسلی امتیازات، ذات پات، ذاتی وقار، خاندانی شرافت، چھوڑ بڑا، مرد عورت، کالا گورا دھن دولت وغیرہ وغیرہ کو کوئی دخل نہیں، یہ رشتہ تمام دنیاوی رشتوں سے بالا تر ہے، اس رشتہ کی ابتدا، انتہا اور بقا محبت سے ہے، اگر لطیف صاحب اپنے پیر کے ذریعے دنیاوی کام بآسانی نکالنا چاہتے ہیں تو وہ پھر کسی وزیر کو پیر کیوں نہیں بنا لیتے، کیا ایسا شخص صحیح معنوں میں پیر کہا جاسکتا ہے؟ پیری مریدی کے رشتہ کی بنیاد عشق و محبت پر ہے، ہر ایک رنگین کپڑے پہننے والے کو پیر نہیں کہا جا سکتا، حقیقی معنوں میں پیر وہ ہے کہ جو اپنے پیر سے اجازت و خلافت یافتہ ہو، مسلک صحیح رکھتا ہو، طریقت میں پیر کے واسطے بہت سے شرائط ہیں جن کی پابندی اس پر لازم ہے، پیر کے لیے اکل حلالی، صدق مقالی ضروری ہے، دنیا کی محبت اور دنیا کی حرص اور لذات و شہوات کو تکر کرنا پیر کی لیے از بس ضروری ہے، اس کو رجوع و قبول خلق پر مطلق التفات و فخرنہ کرنا چاہیے، فتوحات کو خرچ کر دے، مال کو جمع کرنا پیر کے شایانِ شان نہیں خلق کی ایذا رسانی سے، ترش روئی سے اور مردم آزاری سے پرہیز کرے، حسنِ خلق اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائے اپنے کو عزت سے ہرگز نہ دیکھے مخلوق سے بے پرواہ رہے، خالق سے دل لگائے رہے، خلق کی جفا پر اور مخلوق کی ایذا رسانی پر صبر کرے، صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے ذنوب و معاصی کو ترک کرے، کشف و کرامات کا طالب نہ ہو، کرامت سے بہت استقامت ہے، مرید پر پیر کی اطاعت لازم ہے، پیر پرست خدا پرست باشد۔

    جب صحابۂ کرام نے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیر درخت بعیت کی تو خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’اے محمد! جو انہوں نے تجھ سے بیعت کی ہے وہ مجھ سے بیعت کی ہے‘‘ حضرت عثمان اس وقت حاضر نہ تھے، پس اگر طالبِ صادق اس وقت حاضر نہ ہو تو اس کو غائبانہ مرید کرنا جائز ہے، آنحضرت نے عورتوں سے بیعت لی ہے، پس عورتوں کا مرید کرنا بھی جائز ہے، مرید کو پیر شجرہ عطا کرتا ہے، بعض خاندانِ طریقت میں پیر مرید کو کلاہ دیتا ہے اور سر پر مقراض چلاتا ہے، مقراض خداوند تعالیٰ کا ایک بھید ہے، بعض کہتے ہیں کہ مقراض بندہ و مولیٰ کے درمیان قطع علائق ہے، پیر مرید کو خرقہ بھی دیتا ہے، خرقہ دنیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی سنت ہے، کلاہ کے یہ معنی ہیں کہ کلاہ پانے والے کو دو عالم کے شر سے پناہ ملی، تاجِ فقر و شوکتِ شاہی حاصل ہوئی۔

    سر برہنہ نیستم دارم کلاہ چار ترک

    ترکِ دنیا ترکِ عقبیٰ ترکِ مولیٰ ترکِ ترک

    پیر کو چاہیے کہ صرف طالبان صادق کو خالصاً مخلصاً خرقہ پہنائے خرقہ رونق مشیخت ناموری، شہرت کا ذریعہ نہیں ہے نہ اس کو ذاتی وجاہت کا اشتہار بنانا چاہیے، جب خرقہ پہنے تو اس کو دولتِ دارین و سعادت کونین سمجھے، وسوسے اور فضول فکر کو ترک کرے، خرقہ کی شرائط سے روگردانی نہ کرے، طالب صادق کے لیے ذکر و فکر و مراقبہ بھی ضروری ہے، مراقبہ خداوند تعالیٰ کو حاضر و ناظر جاننا ہے، ذکر نفی و اثبات میں خلوص کے ساتھ مشغول رہے اور کبھی ذکرِ ذات میں مشغول ہو، اربعین میں آٹھ شرائط ہیں۔

    خلوت خانہ میں تنہا رہے، خلوتِ خانہ تاریک ہو، آواز وہاں نہ آسکے، منہ قبلہ کی طرف ہو، مربع بیٹھے، ہاتھوں کو زانو پر رکھے، نیت غسل مردہ کی کرے، خلوت خانہ کو اپنی لحد تصور کرے، ہمیشہ وضو سے رہے، ذکر ہر وقت کرے، خواطر کی نفی و مدافعت کرے، روزہ رکھے، روزہ تعلقاتِ بشری و ہوائے نفس کے قطع کرنے کے لیے بہت مؤثر ہے، سکوت اختیار کرے کسی سے بات چیت نہ کر، التبہ بقدر ضرورت بات چیت کرے، اپنے دل کو اپنے شیخ کے دل سے پیوستہ کرے تاکہ شیخ کے دل سے مرید کے دل کو توجہ پہنچے۔

    جب مرید کو کوئی آفت یا کوئی خوف پیش آئے تو اس کو چاہیے کہ اپنے حال کو شیخ کی ولایت سے رجوع کرے جو کچھ اس پر قبض و بسط، رنج و راحت، صحت و شقم و کشاکش وابستگی پہنچے چاہیے کہ اس پر راضی رہے، اپنے پیر کے قول و فعل و حال و صفت پر جو کچھ دیکھے اس پر اعتراض نہ کرے، اپنے شیخ کے ظاہر و باطن تصرفات میں مشغول رہے۔ کل احوال و اقوال کو نظرِ ارادت سے دیکھے ورنہ مرید طریقت نہیں ہے، فقر و فاتہ کی شدت سے سالک کو چاہیے کہ تنگ نہ ہو ملول نہ ہو اور زبان پر حرفِ شکایت نہ لائے، کیوں کہ فقر و فاقہ، ترقی درجات سعادتِ و قربِ قاضی الحاجات کا ذریعہ ہے، فقر و فاقہ خداوند تعالیٰ کا عطیہ ہیں جو ہر ایک کا نہیں دیے جاتے، عزت قناعت میں ہے اور ذلت طمع میں، سالک کو چاہیے کہ طمع و سوال کے دروازہ کو استغنا کے قبل سے اپنے حق میں مسدود کرے۔

    ایک درویش تھے، ان کو شیطان ہر روز وسوسہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا اور ان سے کہتا کہ ’’آج کیا کھاؤ گے؟ وہ درویش جواب دیتے ’’موت‘‘ اور جب شیطان پوچھتا ’’کیا پہنو گے؟‘‘ تو وہ درویش جواب دیتے ’’کفن‘‘ اور جب شیطان پوچھتا ’’کہاں رہو گے؟ کہاں جاؤ گے؟ ‘‘تو وہ درویش کہتے ’’قبر میں‘‘ شیطان ان جوابات سے واپس چلا جاتا۔

    بزرگوں کا قول ہے کہ عام لوگوں کا رزق ان کے ہاتھ میں ہے اور خاص لوگوں کا رزق ان کے یقین میں ہے، درویش کا توشہ اس کا یقین ہے، اس کی سواری اس کے دو پیر ہیں اور سواری اس کا عشق و شوق ہے۔

    خداوند تعالیٰ نے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ ’’اے موسیٰ! تو اس وقت تک رزق کی فکرنہ کر، جب تک کہ تو یہ نہ جان لے کہ میرے خزانہ میں ایک دانہ بھی باقی نہ رہا‘‘

    بعض اہلِ دل نے کہا ہے کہ رزق کا اہتمام نہ کرنا چاہیے کیوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رزق کے اہتمام کرنے والے تمہارے رازق بن جائیں، سالک کو چاہیے کہ اپنے آپ کو خواہشات نفسانی و لذات شہوانی سے آزاد رکھے، حرص و ہوا کو ترک کرے اور اپنی ہمت کی آنکھ کو دنیا کی آرائش سے بند کرے، بغیر اس کے حیاتِ ابدی ملنا ممکن نہیں، اپنے کاموں کو خداوند تعالیٰ کے سپرد کرنا اور اس کی مرضی پر راضی رہنا اور اپنی خواہش و آرزو کو اس کی مرضی کے تابع کرنے کا نام توکل ہے، سمجھنا چاہیے اول میں وہ ہی ہے جو عدم سے وجود میں لایا، آخر میں وہ ہی ہے جس کے پاس پھر تم کو آنا ہے، ظاہر میں وہی ہی ہے، جس نے تمہاری صورت کو خوب آراستہ کیا اور باطن میں وہ ہی ہے کہ جس نے حقائق تمہارے دل میں ودیعت کیے۔

    تمہارے دوست لطیف صاحب کا تو یہ منشا معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کر دیا جائے، رہنمائی حاصل کرنا جس طرح مردوں کا پیدائشی حق ہے، اسی طرح عورتوں کا بھی پیدائشی حق ہے، کیا صرف مردوں کے ہی لیے روشنی ہے اور بے چاری عورتوں کے لیے تاریکی ہے، موجودہ سوسائٹی نے عورتوں کو بے دست و پا کرکے ان کو ان کے جائز حقوق سے ایک بڑی حد تک محروم کردیا ہے، حالاں کہ اسلام نے عورتوں کو برابری کا درجہ دیا ہے، رہنمائی علم سے حاصل ہوتی ہے، رہنمائی صحبت سے بھی حاصل ہوتی ہے، اگر عورتیں اپنے پیر کی صحبت میں رہ کر رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کریں تو اس میں کیا بُرا ہے، کسی کی صحبت میں رہ کر کچھ حاصل کرنا بعیر خدمت کے ممکن نہیں، عورتوں میں خدمت کا جذبہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے، ان کی ساری عمر خدمت اور اطاعت شعاری میں گزرتی ہے، شادی سے پہلے اپنے بھائی بہن اور اپنے والدین کی خدمت، شادی کے بعد اپنے شوہر کی خدمت پھر بچوں کی پرورش اور خدمت غرض خدمت ہی خدمت ہے، ایک پیر کے لیے مرد اور عورت سب برابر ہیں جس طرح وہ اپنے مرد مریدوں کا خیال کرتا ہے، اس کی فلاح و بہبود کا خواہاں ہوتا ہے، اسی طرح وہ اپنی مرید عورتوں کا بھی خیال رکھتا ہے، ان کو ہدایت کرتا ہے، ان کی رہنمائی کرتا ہے۔

    ایک اہلِ دل سب کا رازدار ہوتا ہے، اس کو صحیح معنوں میں صحیح رازدار پا کر غریب اور لاچار عورتیں اس سے اپنی دکھ درد کہتی ہیں اور اس کی امداد کی طالب ہوتی ہیں، کیا دنیادار حاکمِ وقت سے اپنا دکھ درد نہیں کہتے اور اس سے امداد نہیں چاہتے؟ کیا حاکم وقت صرف مردوں کی شکایت و دکھ درد سنتا ہے؟ حاکم وقت تو سب کا حاکم ہوتا ہے، عورتیں بھی اس کے سامنے اپنی تکالیف زبانی یا بذریعہ درخواست پیش کرتی ہیں، پیر ایسا حاکم ہے کہ جس کے پاس سیکڑوں حاکم آتے ہیں اور در مقصود پاتے ہیں، عورتیں فطرتاً حوش اعتقاد ہوتی ہیں اور بغیر چوں و چرا کے مذہبی باتیں سیکھ کر فلاح حاصل کرتی ہیں۔

    لطیف صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ پیر کی نگاہ میں امیر و غریب کا امتیاز نہیں ہے، اگر کوئی شخص باہر جائے اور اس کا کوئی مالدار دوست اس کو اپنے پاس ٹھہرانے کی کوشش کرے تو کیا اس بنا پر اپنے دوست کے پاس نہیں ٹھہرنا چاہیے کہ وہ مالدار ہے، اسی طرح اگر کسی پیر کے مالدار مرید ہیں اور وہ اس کو پاس ٹھہرائیں تو کیا پیر کو ان کے پاس اس وجہ سے نہیں ٹھہرنا چاہیے کہ وہ مالدار ہیں، یہ تو عجیب منطق ہے، پیر پر پیسہ خرچ کرکے مرید اپنے لیے فلاح اور اپنے مال کے لیے برکت سمجھیں تو کیا بیجا ہے، شادی میں دوستوں اور شناساؤں کو بلایا ہی جاتا ہے، اگر پیر صاحب نے بلایا تو کیا بُرا کیا، قرآن شریف کا حکم ہے ’’سیرو فی الارض‘‘ یعنی زمین کی سیر کرو، تصوف کی زندگی میں سیر و سیاحت کو کافی اہمیت حاصل ہے، سیر و سیاحت کے ذریعہ قدرت کے مطالعہ کا موقعہ ملتا ہے، بعض فقرا نے کافی حصہ زندی کا سیر و سیاحت میں گزارا ہے، بابا فرید گنج شکر نے کافی سیاحت فرمائی ہے اور حضور غریب نواز نے بھی بہت سیاحت کی ہے، شیخ سعدی نے خود چالیس سال سیر و سیاحت میں گزارے، حضرت مخدوم جہانیاں گشت نے بھی بہت سیاحت کی ہے۔

    اچھا اب یہ خط بند کرتا ہوں، تمہاری آمد کا انتطار ہے، ماہ نور بخیریت ہے، انعام حسن اور مہر نور کو دعا، خداوند تعالیٰ تم کو شاد آباد رکھے۔

    دعا گو؍ خادم حسن معینی گدڑی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے