Font by Mehr Nastaliq Web

چوتھے خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

چوتھے خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۳۰ مارچ ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    عزیز گرامی دعائے خیر، تمہارا خط ملا۔

    تصوف جیسا کہ میں نے تمہیں پچھلے خط میں لکھا تھا بھگتان ہے، کتاب پڑھنے سے تو نہیں آتا۔

    چار پائے برد کتابے چند

    نہ محقق شود نہ دانش مند

    تصوف کی تعلیم مدارس میں نہیں، خانقاہوں اور اصفیا کے مزارات سے روحانی طور پر حاصل کی جاتی ہے، چوں کہ تصوف میں عمل اور خلوص کی ضرورت ہے، اس لیے اس کا درس وہ ہی لوگ دے سکتے ہیں جو اس راستہ سے گزر چکے ہیں اور وارداتِ قلبی کے ذریعہ بیدار ہوچکے ہیں، یہ علم سینہ بہ سینہ چلا آتا ہے، یہ ایک ایسا راز ہے کہ جس کا رازدار ہر ایک کو نہیں بنایا جاتا۔

    ’’نا اہل را تربیت چناں است‘‘

    طبع سلیم، ذوق و شوق، طلب و جستجو، استقلال و پختگی وغیرہ اس کے حاصل نے کے لیے ضروری ہیں لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی اہل دل کی ایک نگاہِ کرم سے حجابات اٹھ جاتے ہیں جو چیزیں پردۂ اخفا میں مستور تھیں وہ ظاہر ہوجاتی ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ نظر آنے لگتا ہے، باطن روشن ہو جاتا ہے، زندگی میں کایا پلٹ ہو جاتی ہے، ہر شعبۂ حیات میں ایک نمایاں تبدیلی نمودار ہوتی ہے۔

    تم نے مولانا جلال الدین کا نام تو سنا ہوگا، ان ہی کی وہ مشہور مثنوی فارسی میں لکھی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے۔

    منثوی مولوی معنوی

    ہست قرآں در زبان پہلوی

    یہ مولانا اپنے زمانہ کے ایک بہت بڑے عالم تھے، بڑے متقی پرہیزگار تھے، شریعت کے پابند تھے، علمائے عصر اور فضلائے روزگار میں ممتاز تھے، ان کے بہت سے شاگرد تھے جن کو یہ حدیث فقہ و علم دین کا درس دیتے تھے لیکن پھر کیا ہوا، حضرت شمس تبریز کی ایک نگاہ کرم نے ان کی قسمت کا فیصلہ کر دیا، وہ جس علم سے بے بہرہ تھے ان کو وہ علم عطا ہوا یعنی علم معرفت سے فیضیاب ہوئے، عشق الٰہی سے ان کا دل منور ہوا، دنیا کو انہوں نے وہ کتاب دی جو فارسی زبان میں بے عدیل ہے، ان کی مثنوی تصوف کے نکات، مضمرات و متعلقات کا ایک بیش بہا خزانہ ہے۔

    اب مولانا رومی وہ زاہد خشک نہ تھے، ان کی بدلی ہوئی حالت کا خود ان ہی کے اشعار سے بخوبی پتہ چلتا ہے۔

    ’’نہ من بیہودہ گرد کوچہ و بازار می گردم

    مذاق عاشقی دارم پئے دیدار می گردم

    شراب شوق می نوشم بگرد یار می گردم

    سخن مستانہ می گویم ولے ہشیار می گردم

    گہے خندم گہے گریم گہے افتم گہے خیزم

    مسیحا در دلم پیدا و من بیمار می گردم

    بیا جاناں عنایت کن بہ مولانائے رومی را

    غلامِ شمس تبریزم قلندر وار می گردم

    مولانا رومی کو حضرت شمس تبریز کی بزرگی و برتری تسلیم ہے اور ان کے باطنی فیضان کا اپنے ایک شعر میں خود اعتراف کیا ہے۔

    مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم

    تا غلام شمس تبریزی نہ شد

    حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری کی ابراہیم قندوزی نامی مجذوب سے ملاقات ان کی زندگی کی تبدیلی کا باعث ہوئی، واقعہ اس طرح پر ہے کہ حضرت خواجہ ایک دن اپنے باغ کو سیراب فرما رہے تھے کہ وہاں ابراہیم قندوزی نامی ایک مجذوب کا گزر ہوا، غریب نواز نے ان کی بہت آؤ بھگت کی اور ایک انگور کا خوشہ ان کو پیش کیا، حضرت ابراہیم قندوزی غریب نواز کی اس خاطر تواضع سے بہت خوش ہوئے، انہوں نے اپنی بغل سے ایک کھیل کا ٹکڑا نکالا اور دانت سے چبا کر خواجہ غریب نواز کو دیا، اس کے کھاتے ہی حضرت خواجہ کا دل دنیائے فانی اور اس کی محبت سے یکسر سرد ہوگیا، دنیا آپ کے لیے کوئی دلچسپی کا مقام نہ رہا تمام علائق و موانعات سے علٰیحدہ ہوگئے، اپنے باغ اور پن چکّی فروخت کرکے موصولہ روپیہ غربا و مساکین میں تقسیم کر دیا اور خود سفر اختیار فرمایا۔

    حضرت خواجہ غریب نواز کے بیعت ہونے کا واقعہ شاید تم کو معلوم ہو، حضرت خواجہ غریب نواز نے حضرت جنید کی مسجد واقع بغداد میں حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ سے بیعت تقریب کا (جس کو بیعت ثانی بھی کہہ سکتے ہیں) شرف حاصل کیا، حضرت خواجہ عثمان قدس سرہ نے حضرت خواجہ غریب نواز کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ’’آ تجھ کو خدا تک پہنچا دوں‘‘ اور ان کو خدا تک پہنچا دیا، حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ‘ نے اپنی دو انگلیوں میں حضرت خواجہ غریب نواز کو اٹھارہ ہزار عالم دکھائے، یہ تھے وہ معلم کہ جنہوں نے برسوں کا راستہ ایک لمحہ میں طے کرا دیا، پیر خود معلم ہے، یہاں امتحان ہوتا ہے، پاس ہونے میں ۲۲ فی صد نمبروں کی شرط نہیں ہے بلکہ سوفی صدی کی تصوف کی درس گاہ پیر کی صحبت ہے، یہ صحبت خضر و موسیٰ کی نہ ہو، اس صحبت میں اعتراض و نکتہ چینی مقصد کو فوت کر دیتی ہے۔

    کارِ پاکاں از قیاس خود مگیر

    گرچہ آید در نوشتن شیر و شیر

    بجائے اعتراض و نکتہ چینی کے اعتقاد و اتحاد ہو پیر تک ہر شخص نہیں پہنچ سکتا، جب تک پیر ہی نہ چاہے، اس وقت تک کیا مجال کہ کسی کی وہاں تک پہنچ ہو جائے۔

    میری طلب بھی کسی کے کرم کا صدقہ ہے

    قدم یہ اٹھتے نہیں ہیں اٹھائے جاتے ہیں

    جو بھی تصوف کے میدان میں قدم رکھے ذرا سوچ سمجھ کر رکھے، یہاں سختی بھی ہے اور نرمی بھی، دشواری بھی ہے اور آسانی بھی، خستگی بھی ہے اور خوشنوائی بھی، سوز بھی ہے اور ساز بھی، اس میدان میں گامزن ہونا تو آسان ہے لیکن در اصل کامیابی اس کا حاصل ہوتی ہے جس میں استقامت ہو، استقامت کو کرامت پر فوقیت حاصل ہے۔

    یہ خط کافی طویل ہوگیا، اب بند کرتا ہوں، میری طبیعت آج کل شام کو گری رہتی ہے، کل حکیم صاحب کو دکھانے کا خیال ہے، ماہ نور خوب پڑھتی ہے، انگریزی میں تو خوب چل نکلی ہے لیکن ذرا حساب میں کمزور ہے، خداوند تعالیٰ تمہارے کام بنائے، شکیلہ، مہر نور اور انعام حسن خیریت سے یہاں پہنچ گئے ہیں۔

    دعا گو؍ محمد خادم حسن زبیری عمثانی معینی گدڑی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے