Font by Mehr Nastaliq Web

پانچویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

پانچویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۲۵؍اپریل ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    جانِ عم، دعائے خیر۔

    تمہارا خط پرسوں شام ملا، کل دن بھر چلہ شریف پر رہا، وہاں تعمیر کا کام ہو رہا ہے جب واپس ہوا تو کافی تھکان ہوگئی تھی، تمہارا خط سرسری طور پر پڑھ کر رکھ دیا تھا، آج جواب دینے کی غرض سے پھر پڑھا تو تمہاری تشنگی بجھانے کے لیے کسی قدر تفصیل سے جواب لکھ رہا ہوں۔

    پہلی بات جو تم کو معلوم ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ صوفی اور مولوی میں کیا فرق ہے، صوفی اور متصوف میں کیا فرق ہے، پیر کسے کہتے ہیں؟ تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہر صوفی کو پیر نہیں کہا جاسکتا، صوفی میں اور پیر میں کیا فرق ہے۔

    صوفی سے مراد اس بندہ سے ہے کہ جس کو خداوند تعالیٰ نے نفس کی آفتوں اور برائیوں سے پاک و صاف کر دیا ہے، مولوی اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو شریعت کے ظاہری احکام کی بجا آوری اور انجام دہی میں کمر بستہ ہے، وہ پولیس کے سپاہی کی طرح ہے جو معمولی معمولی سی فرد گزاشت پر فوراً چالان کردیتا ہے، وہ پولیس کے سپاہی کی طرح ہے جو معمولی معمولی سی فرد گزاشت پر فوراً چالان کر دیتا ہے، مولوی احکام دین کی بنا پر دوزخ کے ڈر اور جنت کے لالچ سے خدا کی عبادت کرتا ہے، صوفی معرفت حق کے ساتھ بلا کسی ڈر اور لالچ کے صرف خدا کے لیے خدا کی پرستش کرتا ہے، حضور خواجہ غریب نواز گنج اسرار میں فرماتے ہیں کہ وہ شرکِ خفی ہیں، عبد کی عبادت صرف خدا کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ اپنی تن آسانی کے لیے‘‘

    متصوف اور صوفی میں فرق یہ ہے کہ متصوف مبتدی ہے اور صوفی منتہی، متصوف نے وصال کا راستہ شروع کیا ہے، صوفی اس راہ کو طے کرکے مشاہدہ دوست سے فیضیاب ہے صوفی وہ ہے جو سب بھاری اور ہلکے بوجھ اٹھانے کے بعد مشغول بحق ہے، متصوف وہ ہے کہ اس نے باندھ بوندھ کے بوجھ اکٹھا کر لیے ہیں اور اٹھانے والا ہے، جب اس نے بوجھ کو اٹھا لیا، خود کو مٹا دیا، نفس کو مار دیا، خواہشوں کو ختم کر دیا اور خلوص و یقین اور اطمینان قلب کے ساتھ دوست تک پہنچے میں کوشاں ہے تو صوفی کہلاتا ہے، صوفی اپنے سے فانی اور خداوند تعالیٰ کے ساتھ باقی ہے، متصوف اس مقام تک پہنچنے کی جد و جہد کرتا ہے۔

    بغض صوفی ملامتی گروہ تعلق رکھتے ہیں، یہ حق سے مشغول اور مخلوق کی ملامت سے بے پرواہ اور مخلوق کے رد و قبول سے بے نیاز ہوتے ہیں، یہ ریا کاری، دکھاوٹ اور نباوٹ سے بچنے اور اعمال میں خلوص پیدا کرنے کے لیے اپنی نیکی کو دکھاتے نہیں اور بدی کو چھپاتے نہیں، متصوف محض خدا کے لیے عبادت کرتا ہے اور یہ اپنے آپ کو الائش دنیا سے پاک کرتا ہے، سب سے کنارہ کش ہو کر دوست کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تمام ان چیزوں کو جو راہ دوست میں رکاوٹ پیدا کریں ترک کرتا ہے اور ان کی موافقت سے دل کو جدا کرتا ہے اور ان کی محبت سے دور رکھتا ہے، نفس سے مخالفت کرتا ہے۔

    وہ دنیا کو ترک کرتا ہے، اپنے نفس کو مجاہدہ میں ڈالتا ہے، وہ تمام علائق، مال و اسباب، اولاد، اہل و قرابت داروں سے علیٰحدہ ہو جاتا ہے، دنیا کے آرام، جاہ و منصب عزض تمامِ دنیاوی چیزوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے جب وہ تمام اطراف و راستوں کو اپنے اوپر بند کر لیتا ہے تو اس پر تمام دروازے کھل جاتے ہیں، وہ خدا کی مرضی پر راضی و خوش رہتا ہے، وہ مرضی مولیٰ کو از ہمہ اولیٰ سمجھتا ہے، اس کی خود کی کوئی خواہش نہیں، اس کے لیے ماضی و مستقبل کوئی چیز نہیں، وہ اب اسرارِ خفیات سے باخبر ہے وہ اب رموز الٰہی سے خبردار ہے۔

    وہ درِ دوست پر معتکف ہے، امید و بیم کی حالت ہے، اس کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں آخر کار انتظار و مجاہدہ کے بعد اس پروہ دروازہ کھلتا ہے جس کا نام باب قربت ہے، اس سے حجابات اٹھائے جاتے ہیں، وہ محرم راز بنایا جاتا ہے، وہ منزل فردانیت میں داخل ہوتا ہے، خداوند تعالیٰ کا جاہ و جلال، بزرگی و عظمت کا اس پر انکشاف ہوتا ہے، اس انکشاف کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ہستی مٹ جاتی ہے اور دوست کے ساتھ باقی رہتا ہے وہ اب چلتا پھرتا مردہ ہوتا ہے، جیسا کہ سرور جہاں نے ابو بکر صدیق کے لیے فرما کر اس کا اظہار فرمایا تھا، وہ اب اتنے اونچے درجہ پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ اپنے نفس، اپنی خواہشات آرزوئے دنیا و آخرت سے بے خبر و بے پرواہ ہے، اب اس کی نظروں میں سوائے جلوۂ دوست اور کچھ نہیں ہے، وہ اب مجلیٰ آئینہ ہے جس میں ہر چیز صاف ظاہر نظر آتی ہے، ہو غیر حق کو موجود نہیں پاتا، ہر جگہ اور ہر چیز میں دوست کا جلوہ دیکھتا ہے، وہ از خود دراز بہر خود تو فانی ہے لیکن بہ مولائے خود موجود و باقی ہے۔

    وہ اب خلوت کو بھی پسند نہیں کرتا، کیوں کہ خلوت تو واسطے موجود کے ہے اور اب اس کی نگاہ میں سوائے ذاتِ حق کوئی موجود نہیں ہے پس خلوت کس سے کی جائے وہ ایک معصوم بچہ کی مانند ہے، ایسے ہی لوگوں کے واسطے خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ‘‘میں ان کا ہاتھ بن جاتا ہوں، میں ان کی آنکھ بن جاتا ہوں‘‘

    وہ سب چیزوں سے علٰیحدہ ہے، سب چیزوں سے جدا ہے، اب اس کا نام صوفی ہوا اور صوفی اس لیے کہلاتا ہے کہ علائق، خلائق، دنیاوی لذات و دنیا کی محبت سے اس کا دل پاک صاف ہوگیا ہے۔

    حضرت خواجہ معین الدین اجمیری نے اس سفر طلب کی منزلوں کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اس راہ میں جو قدم اٹھائے اس کے لیے اول راہ شریعت ہے، جب وہ راہ شریعت میں ثابت قدم رہا اور فرمان شریعت بجا لایا، اس میں ذرہ بھر تجاوز و تفاوت نہیں کیا تب وہ آگے بڑھتا ہے اور طریقت میں قدم رکھتا ہے، جب اس مقام پر قائم رہ کر فرمان طریقت مطابق سنت سابقین بجا لاتا ہے اور کسی وقت اس سے تجاوز نہیں کرتا تب وہ معرفت تک پہنچتا ہے، روشنائی پیدا ہوئی ہے، اگر اس مقام پر ثابت قدم رہا تو اگلے درجہ میں چڑھا دیا جاتا ہے، وہ درجہ و مرتبہ حقیقت کا ہے، اس مقام پر پہنچ کر جو چکھ مانگا جاتا ہے وہ حاصلِ ہوتا ہے، اچھا اب میں خط بند کرتا ہوں، شام کے چھ بجے ہیں، اس خط کو اسٹیشن ڈلوا رہا ہوں۔

    میرا عنقریب کہیں باہر جانے کا ارادہ نہیں ہے۔

    تمہاری چچی تم کو دعا کہتی ہیں، شکیلہ، انعام اور مہر نور اچھی طرح ہیں، مہر نور بڑے تماشے کرتی ہے، شکیلہ ہفتہ عشرہ ہی میں واپس ہونے والی ہیں، انعام کہتے ہیں کہ ہم ابّا کے پاس رہیں گے۔

    خیر اندیش؍ خادم حسن معینی گدڑی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے