Font by Mehr Nastaliq Web

چھٹے خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

چھٹے خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۲۵؍ مئی ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    عزیزی قلبی ظہور میاں سلمہ دعائے خیر

    آج تمہارا خط ملا، یہاں کئی روز سے خوب بارش ہو رہی ہے، چلنا پھرنا دشوار ہے، میں تو دو روز سے کہیں نہ جاسکا، بارش رُکے تو کہیں جاؤں، برسات کے موسم میں غریب نواز کا چلّہ بڑی اچھی جگہ ہے، آنا ساگر بھر جاتا ہے، بڑی دل فریب منظر دکھائی دیتا ہے۔

    شریعت کا راستہ جنت کو لے جاتا ہے، یہ راستہ صاف ہے اور خوف و خطر سے آزاد ہے، شریعت کا قانو ہے کہ جیسا بوئیں گے ویسا کاٹیں گے، شریعت یہ کرو یہ مت کرو پر زور دیتا ہے، کوئی اس کے خلاف کرتا ہے تو اس کی سزا دوزخ ہے اچھائی کا بدلہ جنت ہے اور برائی اور بدی کی سزا دوزخ اس کا قانون صاف ہے، تغریراتِ ہند کی دفعات کی طرح اس کے قانون کا سب پر اطلاق ہوتا ہے۔

    شریعت کے قانون میں بھی مستثنیات ہیں، اگر کوئی شخص دیوانہ ہے، پاگل ہے یا فاطرالعقل ہے تو اس کو نماز معاف ہے، اگر کوئی شخص قرض دار ہے تو اس کو حج معاف ہے اور کئی شخص سفر میں ہے یا بیمار ہے تو اس کو روزہ معاف ہے اگر کوئی شخص صاحبِ قدرت نہیں ہے تو اس کو زکوٰۃ معاف ہے۔

    یہ شریعت کا قانون تو ایک کوڈ یعنی قانون ہے، اس کی پابندی ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جو جنت چاہتے ہیں، شریعت کے قانون کی پابندی کرکے لوگوں میں وقار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    کیا تم نے کبھی یہ کبھی سوچا کہ آخر وہ کون سا راستہ ہے جو جنت دوزخ اور تمام کائنات کے بنانے اور پیدا کرنے والے یعنی خدا تک لے جاتا ہے، حضرت رابعہ بصری نے ایک دفعہ عالم راز و نیاز میں فرمایا کہ ’’اے خدا! اگر مجھے اختیار ہوتا تو میں تیری جنت کو مسمار کر دیتی اور تیری دوزخ پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر دیتی، یہ دونوں تجھ سے تیری مخلوق کو دور رکھتے ہیں‘‘

    وہ راستہ جو خدا تک پہنچاتا ہے تصوف کا راستہ ہے، تصوف کے راستہ میں عبادت دوزخ کے خوف یا جنت کے لالچ سے نہیں کی جاتی بلکہ خداوند تعالیٰ کی محبت صوفی کے دل کو مسخر کر لیتی ہے۔

    جن اطاعت گزاریوں اور فرماں برداریوں اور فرماں برداریوں کا تم نے حوالہ دیا ہے وہ بلا محبت کے مکمل نہیں ہوتی، نماز ہی کو لیجیے بلا حضوری قلب ناقص ہے اور حضوری قلب بلا محبت حاصل نہیں ہوتی، بہت سی نمازیں بھی قیامت کے دن منہ پر مار دی جائیں گی، یہ وہی نمازیں ہیں جن میں خشو و خضوع اور حضوری قلب نہیں ہوتی۔

    یوں سمجھیے کہ دو محکمے ہیں، ایک محکمہ محض اطاعت یعنی شرعی احکام کی پابندی کا ہے، یہ افعال ظاہری پر حکم لگاتا ہے، اس کا دار و مدار اقرار باللسان پر ہے، اگر کوئی شخص اس پوشیدہ نیت سے نماز پڑھتا ہے کہ لوگ اس کو اچھا جانیں تو شریعت اس کی گلوگیر ہے وغیرہ وغیرہ، اس محکمہ کے عہدے دار علما فضلا، قاضی، مفتی کہلاتے ہیں، دوسرا محکمہ تصدیق بالقلب کا ہے، یہ پوشیدہ نفسیاتی امراض اور چھپی ہوئی نیتول پر محاسبہ کرتا ہے، اس محکمہ میں کوئی عبادت بلا خلوص نیت قبول نہیں ہے، یہاں نیت کی درستی کے لیے تزکیۂ نفس، تصفیہ قلب اور عشق و محبت در کار ہیں، بلا محبت یہ خزانہ ہاتھ نہیں آتا، اس محکمہ کے اراکین اپنے اپنے مدارج کے لحاظ سے اؤلیااللہ مشائخ اصفیا، درویش اور فقیر کہلاتے ہیں، اس محکمے والے اپنے کسی اچھے سے اچھے عمل پر بھروسہ نہیں کرتے، یہ مجاہدات و ریاضات کی غیر معمولی تکالیف اٹھا کر خداری حاصل کرتے ہیں ان کے مسلک میں وہ عبادات جن میں اپنے آرام و آسائش کی غرض شامل ہو ناقص ہیں، یہاں تک کہ اگر اس نیت سے بھی عبادت کی جائے کہ جاں کنی کے وقت تکلیف نہ ہو، نکیرین کے جوابات میں آسانی ہو، پل صراط آسانی سے طے ہو جائے، جنت میں آرام ملے تب بھی صوفیا کے یہاں ایسی عبادات ناقص ہیں، ان کے یہاں رفتار، گفتار کردار، غرض ہر عمل ہر کام خدا کے لیے ہونا چاہیے، اہلِ شریعت کے یہاں برے اعمال ظاہر کی تکمیل پر محاسبہ ہے، صوفیا کے یہاں پوشیدہ بری نیت اور خیال پر بھی محاسبہ ہے، اعمال میں خلوص اور پاکیزگی قلبی محبت سے پیدا ہوتی ہے اور محبت تصوف کا جزو اعظم ہے۔

    انعام حسن یہاں بخیریت ہے، شکیلہ کو بالکل یاد نہیں کرتا، میں تو سمجھتا تھا کہ وہ بغیر شکیلہ نہیں رہ سکے گا لیکن وہ تو مجھ سے اور تمہاری چچی سے اس قدر مانوس ہوگیا ہے کہ تمہارا یا شکیلہ کا نام بھولے سے نہیں لیتا، خداوند تعالیٰ تم کو دین و دنیا میں شاد آباد رکھے۔

    تمہارا بہی خواہ؍ خادم گدڑی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے