Font by Mehr Nastaliq Web

ساتویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

ساتویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۲۷؍ جون ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    عزیزالقدر سلمہ الرحمٰن، دعائے خیر۔

    تمہارا خط ملا، میں آج کل معین العارفین کی نظرِ ثانی میں لگا ہوا ہوں، جب تھک جاتا ہوں تو منی، انعام و چنی کو کمرہ میں بلا لیتا ہوں یا میں خود اندر چلا جاتا ہوں، ان سے باتیں کرتے اور ان کی باتیں سننے سے سب دماغی تھکان در ہو جاتی ہے، یہ میرا تفریح کا آلہ ہیں، مجھے کہیں گھر سے باہر تفریح کرنے کے لیے جانے کی ضرورت نہیں، ہرچند چنی کی فارسی میری سمجھ میں نہیں آتی مگر پھر بھی میں اس کی معصومانہ باتوں پر ہاں ہاں کر دیتا ہوں، بچے معصو ہیں، بچوں میں معصومیت ہے، انبیا بھی معصوم ہوتے ہیں، جوں جوں بچے بڑے ہوتے ہیں، وہ معصومیت سے دور ہوتے جاتے ہیں، حجاب حائل ہوتا جاتا ہے اور دنیا میں ملوث ہوتے جاتے ہیں۔

    تمہارے خط سے جوگی سے تمہاری ملاقات کا حال معلوم ہوا، ہاں یہ ضرور ہے کہ اچھے جوگیوں میں روحانی طاقت ہوتی ہے لیکن یہ طاقت کیسی ہے، کسی طاقت کا خاصہ ہے کہ جب تک کسب کرو گے وہ طاقت برقرار رہے گی، ایک پہلوان ہے وہ روزانہ کسرت کرتا ہے، دودھ، مکھن اور بادام وغیرہ کا استعمال کرتا ہے، جب تک وہ کسرت کرتا رہے گا اور دودھ، مکھن اور بادام وغیرہ کا استعمال کرتا ہے جب تک وہ کسرت چھوڑی اس کا جسم سڈول نہیں رہتا، پیٹ نکل آتا ہے، مختلف قسم کی بیماریاں آدباتی ہیں، اگر وہ کسرت ہی کرتا رہے اور معقول غذا کا خیال نہ رکھے تب بھی اس کا جسم اس پہلوان کی طرح نہیں ہوسکتا جو کسرت بھی کرتا ہے اور معقول غذا کا خیال بھی رکھتا ہے۔

    یہی حال ان جوگیوں اور ان درویشوں کا ہے جو کسب کرتے ہیں اور کسب کی اجرت پاتے ہیں، اگر جوگی اپنی پریکٹیس یا مشق چھوڑ دیں یا زاہد اپنے اور اوراد و وظائف کو ترک کر دیں تو وہ اپنے مقام سے گر جاتے ہیں۔

    جب وہ ڈنڈا ہی نہیں جس کے بل بوتے پر کھڑے ہوئے تھے تو پھر ان کا کھڑا رہنا کیسے ممکن ہے، اس کے بر خلاف جو چیز وہبی ہوتی ہے اس کو پائداری ہوتی ہے اس کو زوال نہیں، جوگیوں میں بعض ایسے ہیں جن کا مقصد کیمیا بنانا، عمر بڑھانا، اپنے جسم کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، ایسے جوگی مقصد حقیقی سے ہٹے ہوئے ہیں، اہلِ حق کو سوائے حق کے کچھ درکار نہیں ہوتا، حضرت قبلہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ہندو فقیروں میں جوگی سب سے اچھے ہوتی ہیں‘‘ یہ جب اپنا چیلہ کرتے ہیں تو کان چھید کر بالکے کو موٹا بالا پہناتے ہیں، درویش اپنے آپ کو خداوند تعالیٰ کے سپرد کر دیتے ہیں، اس کی مرضی میں راضی، اس کی خوشی میں خوشی، ان کی نہ کوئی آرزو ہے اور نہ کوئی مراد، اگر کوئی مراد ہے تو مراد کو نیست و نابود کرنا ہے، وہ فضلِ خدا کے طلب گار ہیں، وہ سب کے معاون و مددگار ہیں، وہ دنیا میں رہتے ہیں مگر پھر بھی دنیا سے بے تعلق و بے گانہ ہیں۔

    جوگی دنیا کو ترک کرتے ہیں، جنگلوں اور پہاڑوں میں امن لیتے ہیں اور وہاں لوگوں سے دور خاموش کرتے ہیں، اس کے معنی یہ ہو ئے کہ وہ بستی میں رہ کر اور دنیا کے جھگڑوں میں پڑ کر جوگ کی مشق نہیں کرسکتے، عالی مقام فقرا، صوفی اور درویش دلی کے چاندنی چوک میں یا کلکتہ کی چورنگی اسٹریٹ میں یا اپنے بیوی بچوں کے شور و غل میں طبیعت کے اندرونی سکون کو برقرار رکھتے ہیں، وہ ہر وقت دوست کی یاد میں لگے ہوئے ہیں، وہ سوائے دوست کے اور کچھ نہیں دیکھتے، ان کی روح اور جان پر، ان کے قلب و دماغ پر، ان کے ہر سانس میں دوست کی یاد جلوہ گر ہے، ان کو صحت کی کیا فکر، ان کو تندرستی کی کیا پرواہ، ان کو جوان رہنے اور جوانی کو برقرار رکھنے کی کیا خواہش، بیماری کو اور تکلیف کو وہ خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں، وہ بیماری یا تکلیف سے نہیں بھاگتے، وہ درد کی خواہش کرتے ہیں، حضرت خواجہ غریب نواز فرمایا کرتے تھے کہ ’’اے خدا جہاں جو درد ہو وہ معین کو عطا کر’’ مولانا کا نام تو تم نے سنا ہوگا، وہ فرماتے ہیں۔

    کفر کافر را و دیں دین دار را

    ذرہ دردے بدہ عطار را

    وہ اپنا ہی درد بخوشی برداشت نہیں کرتے بلکہ اوروں کے دکھ درد کا بوجھ بھی اپنے سر پر اٹھا لیتے ہیں، وہ زبان سے کچھ نہیں کہتے بلکہ ان کی آنکھیں ایک خاص قسم کا پیغام دیتی ہیں۔

    دل کی صلاحیت و حفاظت، افکار و خیالات کی اصلاح اور نظریہ حیات کی تبدیلی روحانی زندگی کی سیڑھی کا پہلا ڈنڈا ہیں، جس چیز کو عام طور سے صوفی اور درویش کسب و ریاضت سے حاصل کرتے ہیں، اہلِ محبت اسے محبت اور عشق سے حاصل کرتے ہیں محبت اور عشق لافانی ہے، محبت اور عشق کے نقوش مٹائے نہیں مٹتے، محبت اور عشق والا بھی نہیں مرتا۔

    ہرگز نہ میرد آں کس دلش زندہ شد بعشق

    ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما

    عاشقوں کا گروہ ہر تکلیف اور ہر رنج بخوشی برداشت کرتا ہے، محبت میں محویت ہے عاشق خود کو بھول جاتے ہیں ان کو کسی چیز کی پرواہ نہیں رہتی۔

    جاڑے، ٹھنڈ، ہمالیہ کی برف باری، برف کی بجھی ہوئی ہوائیں، غرض کوئی بھی ارضی و سماوی تکلیف ہو عاشق سب سے بے نیاز ہے، دوائیں پی کر یا بوٹی کھا کر یا جسم پر بھبوت مل کر اگر کسی نے اپنے کو سردی سے محفوظ رکھا تو کیا کمال کیا، عاشقِ محبت کی چاشنی پی کر ہر چیز سے بے پرواہ رہتے ہیں، محبت کا ہر سانس شرر بار ہوتا ہے محبت یکسوئی عطا کرتی ہے، حضرت خواجہ غریب نواز فرماتے ہیں کہ ’’عاشق کا دل آتش کدۂ محبت ہے جو اس میں آئے اسے جلا کرنا جائز کر دیتا ہے، کیوں کہ عشق کی آگ سے تیز کوئی آگ نہیں‘‘

    عاشق کے سینہ میں عشق کی آگ وصال دوست ہی سے بجھ سکتی ہے در عشق تکلیف و آرام کے خیال سے ہی نجات نہیں دلاتا بلکہ عاشقِ کو تمام عیوب سے پاک و صاف کر دیتا ہے، چنانچہ مولانا روم فرماتے ہیں

    ہر کہ را جامہ بعشق چاک شد

    او ز حرص و عیب کلی پاک شد

    شادباش اے خوش سودائے ما

    اے طبیب جملہ علت ہائے ماں

    اے دوائے نخوت و ناموس ما

    اے تو افلاطون و جالینوس ما

    ہر عاشق کی خواہش اپنے دوست سے ملنے کی ہوتی ہے، موت دوست سہ دوست کو ملاتی ہے، پس درویش موت کو عزیز رکھتا ہے، وہ موت کا بے چینی سے انتظار کرتا ہے، وہ موت کو ٹالنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ وہ تو موت کی تمنا کرتا ہے، موسم بدل رہا ہے، آج چلہ شریف جانے کا قصد ہے، ماہ نور بخیریت ہے۔

    خیر طلب؍ محمد خادم حسن زبیری عثمانی معینی گدڑی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے