آٹھویں خط کا جواب
دلچسپ معلومات
ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۲۹؍ مئی ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔
عزیز سلمہ، دعائے خیر۔
اس زمانہ میں کچی امبیوں کا گڑمبا لُو اور پیاس کے لیے بہت مفید ہے، منی تو ماشا اللہ صبح اٹھ کر ناشتہ کرکے اسکول چلی جاتی ہے، اب تو وہ صبح کو خود اٹھ بیٹھتی ہے، تصوف کیا ہے؟ تصوف زندگی کے اونچے معیار کو پہنچنا ہے، زندگی کے معیار سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تصوف بیوک اور پیکر ڈموٹروں میں گھومنے کا نام ہے، یا شاندار محلوں میں رہنے کا نام ہے یا دولت سے کھیلنے کا نام ہے بلکہ تصوف عام سطح سے اونچی اور بالا تر پاکیزہ زندگی گزارنے کا نام ہے، محبتِ الٰہی خلوص یقین، پاکیزگی، خلق سے استنغا، استقلال، دلجمعی وغیرہ حاصل کرنا منشاء تصوف ہے اور ان منازل کو طے کرنا طریقت ہے، الحاصل انتہائے کار تصوف محبت ہے اور غایتہ سلوک خدمتِ خلق، تصوف سے مراد الائش دنیا اور دنیا کی محبت سے بے تعلق ہونا اور اپنے اندر خدائی صفات پیدا کرنا ہے، خدا کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہنا ہے، ایسے شخص کو صفی کہتے ہیں، جسمانی اور دماغی بیماریوں کا علاج حکیم، ڈاکٹر وید کرتے ہیں لیکن باطنی بیماریوں کا علاج کون کرتا ہے؟ باطنی بیماریوں کا علاج صوفی کرتے ہیں۔
باطنی بیماریاں جسمانی اور دماغی بیماریوں سے زیادہ مہلک ہیں، جسمانی اور دماغی بیماریاں تو صحت خراب کرتی ہیں لیکن باطنی بیماریاں انسان کو انسانی معیار سے گرا دیتی ہیں، غرور، نخوت، پندار، بغض، حسد، نفرت، کینہ، خود ستائش، تکبر اور انتقام یہ سب باطنی بیماریاں ہیں، یہ بڑی مہلک بیماریاں ہیں، ان بیماریوں کے علاج کے لیے بھی حکیم اور ڈاکٹر ہیں اور وہ حکیم ڈاکٹر صوفی ہیں، شیخ طبیب روحانی ہے جو امراض قلبی و روحانی کا معالج ہے۔
ان کے علاج کا یہ اثر ہوتا ہے کہ مریض کا دل حرص و ہوا سے خالی ہو جاتا ہے مٹی اور سونا اس کی نظر میں یکساں ہو جاتا ہے، مذمت اور تعریف اس کو یکساں معلوم ہوتی ہے، جن حجابوں اور بیماریوں کے باعث اس پر حقیقت کے دروازے بند تھے وہ اب کھل جاتے ہیں۔
جب انسان ظاہری و باطنی عفلت کے حجابوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے تو اس میں حقائق کے عرفان کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے اور اسرار حقیقت منکشف ہو جاتے ہیں، قلبی بصیرت اور اندرونی اصلاح کے حصول کے لیے صوفیوں کی صحبت سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں، ان کی صحبت سے بڑھ کر اور کوئی بھلائی نہیں اور کوئی سعادت نہیں۔
مولانا روم اپنے ایک شعر میں اس پر زور دیتے ہیں۔
یک زمانہ صحب با اؤلیا
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
یہ لوگ مخلوق کی رہنمائی کرتے ہیں، ان کے دلوں میں اخلاص اور محبت پیدا کرتے ہیں، خدا شناسی اور خدا کے ذریعہ تک پہنچاتے ہیں، یہ صوفی حضرات اپنے آپ کو چھپاتے ہیں، گم نام رہنے کو پسند کرتے ہیں مگر بہ منشائے حق تعالیٰ ظاہر ہوتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اؤلیااللہ کو نہ کچھ ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’بوجہ قریب الٰہی کے انبیاء و شہدا ان پر غبطہ (رشک) کریں گے، ان کے نیچے موتیوں کی مسندیں بچھی ہوں گی، یہ ایک دوسرے سے بلا کسی لین دین کے محبت کریں گے، حالاں کہ ایک کہیں کا ہوگا اور ایک کہیں کا‘‘
پیر و مرید کا رشتہ اس کا مظہر ہے اور اؤلیا و صوفیائے عظام اس کے مصداق ہیں، رسولِ خدا سے جب دریافت کیا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کے متعلق یہ ارشاد ہوا تو آپ نے یہ آیۃ شریف جواب میں تلاوت فرمائی ’’علیٰ انّا اولیا اللہِ لا خوفٌ علیہم ولا ھوم یحزنون‘‘ یعنی وہ اؤلیا اللہ کا گروہ ہے جو قیامت کے دن نہ ڈریں گے نہ رندجیدہ ہوں گے۔
یہاں دن میں معمولی لُو چلتی ہے، رات کو تو اوڑھنے کی ضرورت پڑتی ہے، خداوند تعالیٰ تم کو شاد آباد رکھے، کچہری کی تعطیل کب سے ہوگی، یہ تعطیل تو غالباً مہینہ بھر کی ہوتی ہے، اس تعطیل میں شکیلہ کو لے کر یہاں آ جاؤ۔
دعا گو؍ خادم حسن معینی گدڑی شاہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.