Font by Mehr Nastaliq Web

چودھویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

چودھویں خط کا جواب

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    دلچسپ معلومات

    ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۲۰؍ فروری ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔

    عزیز قلبی سلمہ، دعائے خیر۔

    تمہارا خط ملا، ہر ایک راہ رو کے ساتھ چند قدم چلنے سے ایک راہبر کو پکڑ لینا کہیں بہتر ہے، جب بچہ کسی کی انگلی پکڑ کر چلتا ہے تو اس بچہ کی حفاظت کی تمام ذمہ داری اس بڑے پر ہو جاتی ہے جس کی وہ انگلی پکڑے ہوئے ہے۔

    اجمیر آؤ اور ضرور آؤ اور نئی زندگی کی نئی راہوں پر چل کر فلاح دارین حاصل کرو، تم صحیح سمجھے، انسان کا مقصد مطمئن رہنا ہونا چاہیے، اطمینان ایسی چیز نہیں جو روپیہ پیسے سے خریدی جاسکتی ہو، اطمینان ایک اندرونی کیفیت ہے۔

    دنیا بذات خود مذموم نہیں بلکہ اس سے محبت بری چیز ہے، محبت تسلیم اور امر اتباع کی تحصیل کے لیے ارشاداتِ مشائخ کی حاجت اور پیروی کی ضرورت ہے، در اصل شیخ طبیبِ روحانی ہے جو امراضِ قلبی و روحی دونوں کا معالج ہے، ارباب ارشاد طالب کے ظرف کو دیکھ کر اس کو تعلیم دیتے ہیں اور اس کی کمی کو پورا کرتے ہیں، کسی میں دیکھتے ہیں کہ نفسانی عیوب ہیں تو پہلے اس کا علاج کرتے ہیں، کسی میں قلبی عیوب ہیں تو ان کو دور کرتے ہیں، اگر طالب کا قلب محبت سے نا آشنا ہے تو اس کے لیے حصولِ محبت کو مقدم سمجھتے ہیں اور وہ اسباب مہیا کرتے ہیں جن سے وہ آشنائے محبت ہو جائے۔

    مریدی علمِ دیں آموختن بود

    چراغ دل ز علم افروختن بود

    کسے از مردہ علم آموخت ہرگز

    ز خاکستر چراغ افروخت ہرگز

    تصوف کے میدان میں آکر کسی پر اعتراض و نکتہ چینی سے گریز کرنا چاہیے، کیا خبر کون کس حال میں ہے۔

    خاکسارانِ جہاں را بہ حقارت منگر

    تو چہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد

    کان بند، آنکھیں بند، ہونٹ بند اور زبان کو بند کر لینا چاہیے، جب یہ کر لیا تو پھر۔

    گر نہ بینی سر حق برمن بخند

    اؤلیااللہ کی چار قسمیں ہیں۔

    (۱) سالک جس میں مرتبہ شریعت کا ظہور ہے اور مرتبہ حقیقت بالکل مختفی ہے۔

    (۲) مجذوب، حقیقت سے باخبر اور تمام سے بے خبر جیسے حضرت خضر علیہ السلام ان کو شرعی احکام سے تعرض نہ تھا۔

    (۳) مجذوب سالک جس پر ظہور جامعیت صفات کا ہے مگر حقیقت غالب اور شریعت مغلوب ہے، اگرچہ دونوں اس میں موجود مگر ظاہر نہیں۔

    (۴) سالک مجذوب جس میں دونوں مراتب موجود ہیں مگر غلبہ ظہور شریعت کا ہے، یہ دونوں مرتبے اپنے کمال کے ساتھ دوسرے نبی نوع کی تکمیل کی قوت رکھتے ہیں، سالک میں بھی صلاحیت تعلیم و ارشاد کی ہے لیکن مجذوب مخفی کو دوسروں کی اصلاح کی استعداد نہیں ہے، اس سے جو کچھ بھی اصلاح کی صورت ظاہر ہوتی ہے اس طرح ہوتی ہے جس طرح خضر علیہ السلام سے معصوم بچہ کو ہلاک کرنے کی ہوتی ہے جو نبی کی طرح نہیں کرسکتا اور نہ اس کو جائز۔

    اخلاق اہلِ تصوف یہ نہیں ہے کہ طمع کو زیارت کے نام سے پکارے اور بے ادبی و گستاخی کو اخلاص کے نام سے اور خروج از حق کو شطع کے نام سے اور برائے حصولِ دولت و عزت بادشاہوں کے تقریب کو شفاعتِ مسلمانان تصور کریں اور بخل کو عقل مندی سمجھیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سب سے کنارہ کش ہو کر خداوند تعالیٰ کی عبادات میں مشغول ہونا چاہیے۔

    طالب کا پہلا مقام انتہا کا ہے، یہ مقام خوابِ غفلت سے جاگنے کا ہے، دوسرا مقام توبہ کا ہے، یہاں اپنے گناہوں پر ندامت ہے اور استغفار کرنا ہے، تیسرا مقام انابت کا ہے اس مقام میں پہنچ کر طالب غفلت سے بیدار ہو کر ذکر میں مشغول ہوتا ہے، چوتھا مقام ورع کا ہے اور وہ ہر اس چیز کا ترک ہے جس کی وجہ سے علیت مشتبہ ہو، پانچواں مقام محاسبہ نفس کا ہے کہ وہ سود و زیاں میں غم خوار گئی نفس ہے، چھٹا مقام ارادت کا ہے کہ وہ طاعت و عبادت میں ہم تن و ہمہ وقت یکسوئی کے ساتھ مشغول ہونا ہے، ساتواں مقام زہد کا ہے اس میں ترک ہے دنیا کا اور دنیا کے مشاہدات سے باز رہنا ہے، آٹھواں مقام زدہ کا ہے اس میں ترک ہے دنیا کا اور دنیا کے مشاہدات سے باز رہنا ہے، آٹھواں مقام فقر کا ہے کہ وہ املاک کا عدم ہے اور دل کو خالی کرنا ہے ہر چیز سے، نواں مقام صدق کا ہے اور وہ خلوص ہے ظاہر و باطن کا، دسواں مقام تعبر کا ہے اور وہ نفس کو تلخی چکھاتا ہے، گیارھواں مقام صبر کا ہے اور وہ شکایت کا ترک کرنا ہے، بارھواں مقام رضا کا ہے اور وہ بلا پر لذت حاصل کرنا ہے، تیرھواں مقام اخلاص کا ہے اور وہ حق تعالیٰ کے معاملات سے خلق کو نکال دینا ہے، چودھواں مقام توکل ہے اور وہ خداوند تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے اور اس کو رزاق جانا ہے اور سوائے خدا کے کسی سے کوئی امید نہ رکھنا اور لالچ و طمع کو دور کرنا ہے۔

    حضوری حضرتِ حق جس کو وحدت الوجود کا مسئلہ کہتے ہیں، اس کو میعار اصل پر لانا ضروری ہے بعض ہمہ از اوست بعض ہمہ اوست سے فیضیاب ہیں، بہر حال! تمام موجودات میں جلوۂ دوست باشکال مختلف جلوہ نما ہے۔

    باطن کی پلیدی و کثافت کو دور کرنا چاہیے، باطن کی پلیدی تین طرح پر ہے، دنیا، خلق و نفس، جب تک دنیا، خلق اور نفس سے احتراز و اجتناب نہ کیا جائے گا، طہارت باطنی ہرگز حاصل نہ ہوگی۔

    قبر کا اصلی عذاب دنیا کی دوستی کے باعث ہے، دنیا خدمت کرنے کی سرائے ہے اور آخرت قربت کی، دنیا احمق ہے اور احمقوں کی طرف میل رکھتی ہے، دنیا اور عقبیٰ عاشقوں کے لیے حجاب ہیں۔

    اب تک جو کچھ خطوط میں لکھا گیا ہے، اس کا صرف لکھنا یا پڑھنا کچھ فائدہ بخش نہیں، تصوف کا کوچہ عمل اور بھگتان کا ہے حقیقی فیض عمل سے حاصل ہوتا ہے، خدا ہمیں تمہیں عمل کی توفیق عطا فرمائے، اس موقعہ کے مطابق ایک قصہ یاد آگیا، ایک مولوی صاحب جو علم تصوف کی بہت سی کتابیں پڑھ چکے تھے، کسی درویش سے ملنے گئے، مولوی صاحب نے وہاں بہت سے تصوف کے نکات اور باریکیاں بیان کیں، جب مولوی صاحب چلے گئے تو شاہ صاحب کے مریدین نے شاہ صاحب سے دریافت کیا کہ حضور مولوی صاحب نے تو علم تصوف کے دریا بہا دئیے، ایسے نکتے بیان کیے جو کبھی آپ سے اب تک نہیں سنے تھے، پس آپ میں اور مولوی صاحب میں کیا فرق رہا، شاہ صاحب نے فرمایا کہ ’’بابا مولوی صاحب صرف جانتے ہیں اور میں بھگتتا ہوں‘‘ جد و جہد بندہ کا کام ہے توفیق اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔

    اچھا، اب یہ خط ختم کرتا ہوں، انعام حسن اور مہر نور کو دعا، تم کب تک اجمیر آ رہے ہو، خداوند تعالیٰ تم کو خوش و خرم رکھے، حضرت خواجہ غریب نواز کا دستِ کرم تمہارے سر پر ہمیشہ رہے۔

    دعا گو؍ خادم گدڑی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے