نویں خط کا جواب
دلچسپ معلومات
ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۵؍ ستمبر ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔
عزیزم سلمہ، دعائے خیر۔
آج شام تمہارا خط ملا، تمہاری خیریت معلوم ہوکر مسرت ہوئی، وسط اکتوبر میں آگرہ جانے کا قصد کر رہا ہوں، آگرہ سے دھول پور بھی آؤں گا۔
تمہاری مولوی صاحب کی بات چیت بہت دلچسپی سے پڑھی، مولوی اور صوفی کی پرانی نوک جھونک چلی آتی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بعض مولویوں نے کہیں تو اپنے ذاتی اقتدار کے پیش نظر، کہیں پبلک کے جذبات مشتعل کرکے کہیں حکومت کی آر لے کر کہیں ’’اسلام خطرہ میں ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر، صوفیوں کو ہمیشہ پریشان کرنے، دبانے، کچلنے اور پائمال کرنے کی کوشش کی ہے، بعض اوقات تو بے چارے صوفیوں کو اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔
حضرت منصور بن حلاج کو سولی پر چڑھایا گیا، ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے فنا فی اللہ ہوکر عالم بے خود میں انا الحق کا نعرہ لگایا، حضرت سرمد کو دلی میں اورنگ زیب کے زمانہ میں قتل کیا گیا، ان پر یہ فرد جرم لگی تھی کہ وہ کلمہ پورا نہیں پڑھتے تھے، نفی کا حصہ پڑھتے تھے اور اثبات کا حصہ نہیں پڑھتے تھے، جب ان سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جس کو دیکھا نہیں، اس کا اقرار کیسے کروں، جس وقت جلاد ننگی تلوار لے کر حضرت سرمد کی طرف بڑھا اور آپ کو مشاہدہ دوست ہوا تو آپ مسکرائے، تمہیں معلوم ہے کہ آپ نے اس وقت کیا کہا؟ سرمد نے وہ تاریخی الفاظ ادا کیے جو آج تک بزم صوفیا میں گونج رہے ہیں اور تصوف کی تاریخ میں ایک مینارہ روشنی کی حیثیت رکھتے ہیں، انہوں نے فرمایا ’’بیا بیا، تو بہر صورت کہ می آئی من ترا خوب می شناسم’’ یعنی’’آ آ، تو جس صورت میں بھی آتا ہے، میں تجھ کو خوب پہچانتا ہوں‘‘
منصور اور سرمد نے نہ اپنی کوئی صفائی دی، نہ لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی بلکہ چپ چاپ لوگوں کی ملامت سہتے میدان رضا و تسلیم میں اپنی جان شیریں جان آفریں کو سپرد کر دی۔
تاریخ شاہد ہے کہ مولوی نجم الدین صغریٰ نے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ پر کیا کیا الزام لگائے، ان کے علاوہ اور بہت سی مثالیں ہیں جن کا بیان کرنا طوالت سے خالی نہیں۔
تم نے دیکھا کس طرح اہلِ باطن کو تکالیف پہنچاتے رہے ہیں، یہ تکالیف بسا اوقات ذاتی وجاہت کو ٹھیس لگنے یا سیاسی اثرات کے تحت شریعت کی آڑ میں پہنچائی گئی ہیں مگر صوفی ہر حال میں اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دیتے ہیں اور اس کی مرضی پر راضی رہتے ہیں۔
تم نے دیکھا کس طرح اہل ظاہر اہلِ باطن کو تکالیف پہنچاتے رہے ہیں، یہ تکالیف بسا اوقات ذاتی وجاہت کو ٹھیس لگنے یا سیاسی اثرات کے تحت شریعت کی آڑ میں پہنچائی گئی ہیں، مگر صوفی ہر حال میں اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دیتے ہیں اور اس کی مرضی پر راضی رہتے ہیں۔
صوفی درد، دکھ، راحت و آرام، عزت و ذلت، صحت و بیماری، رنج و خوشی، غرض ہر شے اور ہر واقعہ کو منجانب اللہ سمجھتا ہے، وہ آسمانی سختی میں، زمین کی نرمی میں، بادل کی گرج میں بجلی کی چمک میں، رخ تاباں میں، شمع فروزاں میں خدا کا جلوہ دیکھتا ہے کیا مولوی کو اس سے انکار ہے کہ خداوند تعالیٰ ہر شے میں جلوہ گر ہے۔
صوفی اور مولوی کے نظریۂ حیات میں بڑا فرق ہے، مولوی سمجھتا ہے کہ شریعت کے ظاہری اراکین کی پابندی کافی ہے، صوفی کہتا ہے کہ اخلاص و محبت بغیر عبادت ناقص ہے، شریعت عبادات ظاہری سکھاتی ہے، تصوف باطنی صفائی اور خلوص و نیک نیتی سے عبادات ظاہر اور زبانی یاد کو پسندیدہ بناتا ہے اور خیال و قلب و روح سے بھی پر خلوص یاد کرنا سکھتا ہے، مولوی لوگوں کو خدا کا خوف دلاتا ہے، صوفی خدا کے جمال میں محو ہوتا ہے اور خدا سے محبت کی ترغیب دیتا ہے۔
مولوی کے نزدیک بموجب قانون ظاہر ظاہر اعمال کی تکمیل کافی ہے اور یہی اعمال صالح ہیں، صوفی کہتا ہے کہ اعمال کو جو چیز صالح کرتی ہے وہ نیت ہے، بغیر اچھی نیت کے اعمال صالح نہیں ہوسکتے، اگر بدترین کام اچھی نیت سے کیا جائے مثلاً کسی کو اس لیے مسجد میں جانے سے باز رکھا جائے کہ وہ اپنے دشمن کو مسجد میں قتل نہ کرے، اس فعل میں بہتر ہے کہ کوئی اس نیت سے اس کو مسجد میں جانے کی ترغیب دے کہ وہ وہاں اپنے دشمن کو قتل کر دے اس چیز کو مولانا رومی نے اس شعر میں ظاہر فرمایا ہے۔
با خدا گر بت تراشی کعبہ ات سنگ آورد
بے خدا گر کعبہ سازی بت ز تو ننگ آورد
مولوی دوزخ کی آگ سے ڈراتا ہے اور جنت کے محلوں، حوروں اور غلمانوں کے لالچ میں ڈالتا ہے، صوفی خدا کی محبت میں سرشار ہوتا ہے اور دوسروں کو اس بیش بہا گنج مخفی سے سرفراز کرتا ہے، وہ کہتا ہے دوزخ اور جنت خدا تک پہنچنے میں رکاوٹیں ہیں، غرض مولوی سطحی اور نظام ظاہر سے متعلق باتوں پر زور دیتا ہے، صوفی ظاہر داری سے نکل کر حقیقی مضمرات و متعلقات تک پہنچتا ہے۔
مولوی ظاہری اتباع و زہد و علم کے ذریعے حصولِ جنت کی کوشش کرتا ہے، صوفی دوست کی محبت میں فنا ہو کر وصال دوست کے لیے جد و جہد کرتا ہے، صوفی کا خدا تک پہنچنے کا راستہ صرف محبت کا راستہ ہے، صوفی نہ زہد و عبادت پر نازاں ہوتا ہے نہ علم پر گھمنڈ کرتا ہے، نہ فضل و کمال پر فخر ہے بلکہ خدا کی محبت میں اپنے کو فنا کرکے دوست سے مل جاتا ہے۔
صحابۂ کرام کی زندگی صرف اطاعت ظاہری تک محدود نہ تھی بلکہ یہ مقدس حضرات بدرجۂ اتم محبت رکھتے تھے، کیا حضرت اویس قرنی اور حضرت بلال کی محبت جو ان کو سرور عالم سے تھی غیر اسلامی کہی جاسکتی ہے، حضرت بلال اور حضرت اویس قرنی سچے عاشقانِ رسول تھے، محبت کے ذریعہ انہیں جو اونچا درجہ ملا اس سے کون انکار کرسکتا ہے۔
سرور عالم نے فرمایا ہے ’’جس کو جس سے محبت ہوگی اس کا حشر اس کے ساتھ ہوگا‘‘
کیا اس حدیث سے کوئی انکار کر سکتا ہے۔
احکام ظاہر کی تعمیل کے باوجود ایک دن سرور عالم نے حضرت عمر کو خطاب کرکے پوچھا کہ ’’اے عمر! تم کو مجھ سے کتنی محبت ہے‘‘ انہوں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! اپنی بیوی بچوں کے بعد مجھے آپ ہی سے محبت ہے‘‘ اس پر آنحضرت نے فرمایا ’’اے عمر! تمہارا ایمان نامکمل ہے‘‘ کچھ دنوں کے بعد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے پھر وہی سوال کیا، اس مرتبہ حضرت عمر نے دوسرا جواب دیا، آپ نے عرض کیا ’’یارسول اللہ! اپنے ماں باپ بیوی بچوں، مال و متاع غرض سب سے زیادہ مجھے آپ سے محبت ہے‘‘ اس پر سرورِ عالم نے فرمایا کہ ’’اے عمر! اب تمہارا ایمان مکمل ہوگیا‘‘ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اصل ایمان رسول کی محبت ہے۔
حضرت خواجہ غریب نواز فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جب خاص قسم کے عاشقوں کو بہشت میں لے جانے کا حکم ہوگا تو وہ بجائے بہشت میں جانے کے خداوند تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ ہم بہشت کا کیا کریں گے، بہشت تو اس کو دے جس نے تیری پرستش بہشت کے لالچ سے کی ہو، پس معلوم ہوا کہ بہشت عبادت کی اجرت ہے، محبت کا بدلہ جنت نہیں ہے بلکہ محبت کا انعام وصل دوست ہے۔
صوفیوں نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے، ہر چیز کا ایک خاص نام ہر زبان میں موجود ہے، کیا صبر یا شکر یا زہد توکل کی تعلیم نہیں دی، ایسا تو ہرگز نہیں ہے توکل جد و جہد سے باز آنے کا نام نہیں ہے، چنانچہ مولانا روم فرماتے ہیں۔
گر توکل می کنی دوکار کن
کسب کن پس تکیہ بر جبار کن
فرق اتنا ہے کہ اہل ظاہر اپنی کوشش پر بھروسہ کرتے ہیں اور اصفیا خدا پر، صوفی اپنے نفس سے غائب ہوتا ہے اور خداوند تعالیٰ سے اس کو باطنی طور پر حضوری حاصل ہوتی ہے، اس لیے وہ مخلوق سے بے پرواہ ہو جاتا ہے، اس کی نگاہ خالق کی طرف لگی رہتی ہے، مخلوق سے کسی چیز کی بھی کوئی امید نہیں رکھتا، اس کے یہاں یہ بدترین گناہ ہے۔
حضرت خواجہ غریب نواز کے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ’’اہلِ عشق دوست کے سوا غیر کی طرف توجہ نہیں کرتے، کیوں کہ جو بغیر دوست کے خوش ہوتا ہے اسے ہر قسم کا اندوہ لاحق ہوتا ہے‘‘
حضرت خواجہ غریب نواز فرماتے ہیں کہ ’’عارفوں کا توکل سوائے خدا کے کسی اور پر نہیں ہوتا، نہ وہ کسی اور کی طرف التفات کرتے ہیں‘‘
توکل کو صوفیوں کے لٹریچر میں ایک وسیع معنی دئے گئے ہیں، یہ ان کی زندگی کا ایک نصب العین ہے، ایک اور موقعہ پر خواجہ غریب نواز فرماتے ہیں کہ ’’حقیقتاً متوکل وہ ہے جو خلقت کے آزار و رنج پہنچانے پر نہ کسی سے شکایت کرے نہ حکایت‘‘
صوفی کی نگاہ خدا پر لگی رہتی ہے جو رنج و تکلیف اس کو مخلوق سے پہنچتی ہے وہ اس کو منجانب خدا سمجھتا ہے اور دوست کا عطیہ سمجھ کر ہنسی خوشی برداشت کرتا ہے مجازی رازق پر بھروسہ کرنا اور حقیقی رازق کو بھول جانا غلط ہے، رزق تو موت کی طرح انسان کی تلاش میں رہتا ہے، بعض صوفیا کا مسلک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رزق پہنچانے کا وعہد کیا ہے، وہ ضرور پہنچائے گا، خواہ ہم جد و جہد کریں یا نہ کریں مگر بعض کہتے ہیں کہ اس حکم کی تعمیل کی جائے کہ ’’تم اپنا رزق زمین پر تلاش کرو’’ پس بعد جد و جہد نتیجہ کو خدا پر چھوڑو متوکل کبھی رزق کے لیے متفکر و غمگین نہیں ہوتا۔
بہ شغل جہاں رنج بردن چہ سود
کہ روزی بکوشش نمائد فزود
بدنبال روزی چہ بائد دوید
تو بنیش کہ روزی خود آئد پدید
اب قناعت کو لیجیے قناعت، طریقت اور اخلاق کا بھی ایک پسندیدہ فیصلہ ہے نہ آنے کی خوشی نہ جانے کا غم جو مل گیا اس میں خوش جو نہ ملا اس کا رنج نہیں، قانع کے بر خلاف حریص ہے، حریص کا لفظ سوسائٹی میں برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، حریص کو لوگ بری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، حریص وہ ہے جو جو سوسائٹی کے حقوق پر ڈاکہ زنی کی کوشش میں رہتا ہے، اس کا دل و دماغ ہمیشہ پریشان اور اس کی نیّت ہمیشہ بد رہتی ہے۔ وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتا، اس لیے سوسائٹی بھی اس پر بھروسہ نہیں کرتی، وہ اپنا کام نکالنے کے لیے بہت ذرائع استعمال کرتا ہے، خوشامد اس کا خاص آلہ ہے، اس کو سکون اور اطمینان کبھی حاصل نہیں ہوتا مثل ہے ’’پراگندہ روزی پراگندہ دل‘‘ یعنی جس کی روزی پراگندہ ہے، اس کا دل بھی پراگندہ ہے لیکن میں تو یہ کہوں گا کہ پراگندہ دل پراگندہ روزی پرا گندہ دل روزی کو پرا گندہ کر دیتا ہے، جب تک انسان قانع نہیں ہوتا وہ مطمئین نہیں ہوتا، مولانا روم فرماتے ہیں۔
کاسۂ چشم حریصاں پُر نہ شد
تا صدف قانع نہ شد پُر دُر نہ شد
مولوی صاحب کا خیال غلط ہے، یقیناً قرآن شریف اور احادیث نبوی تصوف معرفت کا درس دیتی ہیں، قرآن مجید میں ارشاد ہے ’’عبادت کر خدا کی یہاں تک کہ تجھ کو یقین حاصل ہو جائے‘‘ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے ’’بے شک اللہ تعالیٰ انسان اور اس کے قلب کے درمیان گزرتا رہتا ہے‘‘ اسی بنا پر اہلِ تصوف و انسان کامل قلبی عبادت کی طرف متوجہ ہوئے ہیں، دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے ’’کہہ دو (اے محمد) یہ میرے خدا راستہ ہے میں اپنے آپ اور ان کو جو میرے پیرو ہیں راہ بصیرت کی طرف بلاتا ہوں‘‘ راہ بصیرت سے مراد راہ طریقت ہے، حدیث قدسی ہے ’’میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے‘‘ یہ مقام اہلِ تصوف کے یہاں فنافی الذات ہوکر میسر ہوتا ہے۔
شیخ (پیر) اپنی قوم (مریدین) میں مثل نبی کے ہم اپنی امت میں، نیز فرمایا کہ جس کا کوئی پیر نہ ہو بے دین ہے‘‘ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ’’جس کا کوئی پیر نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے‘‘ ایک جگہ آپ ارشاد فرماتے ہیں ’’میری آنکھوں سوتی ہیں، میرا دل نہیں سوتا‘‘ یعنی قلبی عبادت میں قلب مشغول رہتا ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ ‘‘میرے اؤلیا میری قبا میں چھپے ہوئے ہیں انہیں میری سوا کوئی نہیں جانتا‘‘
حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے کہ ’’مجھے سرور عالم نے دو علم سکھائے ہیں، ایک یہ جسے میں لوگوں سے کہتا پھرتا ہوں یعنی علم شریعت دوسرا علم وہ ہے جسے اگر میں لوگوں سے کہوں تو وہ (نا سمجھی کے باعث) میرا گلا کاٹ ڈالیں‘‘ یہ علم علمِ تصوف یا معرفت ہے جس کے اظہار پر حضرت با یزید بسطامی پر تلواریں چلیں، حضرت منصور سولی پر چڑھے، غوث پاک پر کفر کا فتویٰ لگا دیگر بہت سے جلیل القدر اصفیا کو ملحد اور زندیق کہا گیا۔
علما عبادت ظاہری پر زور دیتے ہیں اور اصفیا عبادت ظاہری و باطنی کو بلا یکسوئی (حضوری قلب) ناقص کہتے ہیں، ان کے یہاں یکسوئی کے لیے ضروری ہے کہ پانچویں مادی حواس خمسہ کے ساتھ پانچ باطن بھی یعنی دسوں ایک مرکز پر آئیں تب یکسوئی تامہ حاصل ہوتی ہے، ہندو فقرا انہیں اندریاں کہتے ہیں۔
اسلامی تصوف میں بنیادی چیز یہ ہے کہ سکون ذات اور حرکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جب سکون کو حرکت ہوئی ظہورِ محمد ہوا اور جب حرکت میں جنبش ہوئی تو ظہور عالم ہوا اور عالم میں ہر شے نورِ محمدی سے ہوئی، اصفیا تمام موجودات کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں، وہ تمام موجودات کو جلوۂ ذات اور نُور محمد کہتے ہیں، خواہ وہ عالم میں کسی صورت سے ظاہر ہو اور اس کا کچھ ہی نام رکھا گیا ہو، حضرت شبلی نے تصوف کو بڑے اچھے پیرائے میں سمجھایا ہے، جب لوگوں نے پوچھا تصوف کیا ہے۔
فرمایا تم ایسے رہو جیسے اس وقت تھے کہ وجود میں نہیں آئے تھے‘‘
فرمایا تصوف دل کو غیر سے نگاہ رکھنا ہے اور غیر سوائے میرے کوئی نہیں ہے‘‘
فرمایا فنا ناسوتی ہے اور ظہور لاہوتی‘‘
فرمایا تصوف ضبط کرنا قوتوں کا یعنی حواس کا اور نگاہ رکھنا انفاس کا ہے‘‘
فرمایا ’صوفی وہ ہے جو تمام خلق کو اپنی عیال جانے یعنی سب کا بار بردار ہے۔‘‘
فرمایا صوفی وہ ہے جو خلقِ خدا سے جدا رہے اور خدا سے ملا ہو، جیسا کہ حق تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو خلائق سے منقطع کیا‘‘ چنانچہ فرمایا ’’ومطفتیک لنفسی‘‘ یعنی چن لیا میں نے تجھے اپنے واسطے اور اپنے ساتھ پیوند کیا کہ کہ لن ترانی بہ محل تحیر ہے اور فرمایا حضرت شبلی نے ’’صوفیاں اطفال ہیں، حق کے لطف کی گود میں‘‘
فرمایا تصوف باز رکھنا اپنے کو اپنی ہستی دیکھنے سے‘‘
فرمایا تصوف ایک برق سو زندہ ہے‘‘
فرمایا تصوف حضور میں حق تعالیٰ کے بے غم بیٹھنا ہے‘‘
شیخ ابوالحسن خرقانی عینیت کو اس طرح ظاہر فرماتے ہیں کہ ’’جب حق تعالیٰ نے الست بربکم کہا، جواب اس کا بلیٰ ابوالحسن نے کہا، پس ابوالحسن اس کا وہ ہی تھا اور معنی دلیل قرآن سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ما رمیت اذ رمیت ولکیٰ اللہ رمییعنی اے حبیب جب تو نے تیر چلایا تو وہ تو نے نہیں چلایا لیکن اللہ تعالیٰ نے چلایا۔
شیخ ابوالحسن نوری فرماتے ہیں ’’تصوف نہ رسول ہے نہ علوم لیکن اخلاق ہے، اگر رسوم ہوتا تو کوشش سے پا سکتے، اگر علم ہوتا تو سیکھ کر حاصل کر لیتے بلکہ اخلاق ہے ’’تخلقو با خلاق اللہ‘‘ یعنی اخلاق سیکھو اخلاق خدا سے‘‘ کیوں کہ خلق الٰہی کا حاصل کرنا نہ رسول سے نہ علوم سے، فرمایا ’’نفس کے تمام حصوں کو ترک کرنا حق تعالیٰ کے حصے کے واسطے‘‘ اور فرمایا‘‘ دشمنی دنیا کی اور دوستی مولیٰ کی تصوف ہے‘‘
یہاں سیدالطائفہ حضرت جنید بغدادی کے چند کلمات تصوف سے متعلق لکھنا مفید ہوگا، فرمایا ’’تصوف وہ ہے کہ بندہ خداوند تعالیٰ کے ساتھ بغیر علاقوں کے رہے‘‘
فرمایا ’’تصوف وہ ہے کہ خدا تجھے تیرے سے مارے اور اپنے سے جلا دے‘‘
فرمایا ’’تصوف ایک ذکر ہے پھر وجد ہے پھر نہ یہ ہے نہ وہ، اس لیے کی نیت ہو جاتا ہے، جیسا کہ پہلے نیست تھا‘‘
فرمایا ‘‘توحید حق تعالیٰ کو جاننا اور اس کے قدم کو جاننا ہے‘‘
فرمایا ’’نہایت درجہ توحید کا انکار توحید ہے یعنی جو توحید جانے، اس سے انکار کرے کہ توحید نہیں ہے‘‘
فرمایا ’’محبت خدائے تعالیٰ کے امانت ہے‘‘ فرمایا ’’جو محبت غرض سے ہو، وہ محبت نہیں، کیوں کہ جب غرض نکل جائے گی تو محبت بھی چلی جائے گی‘‘ فرمایا ’’مشاہدہ حالتِ غرق ہے اور وجد حالت بلا کی‘‘ فرمایا ’’وجد زندہ کرنے والا سب کا اور مشاہدہ سب کا مارنے والا‘‘ اور فرمایا ’’ظہور ذات کی خوشی میں اپنے آپ کو بھول جانا وجد ہے‘‘
فرمایا ’’قرب معہ وجد مقام جمع ہے‘‘ فرمایا ’’مراقبہ وہ ہے کہ بندہ اپنے سے فوت ہو جائے‘‘
لوگوں نے پوچھا کہ حیا اور مراقبہ میں کیا فرق ہے؟ فرمایا ’’مراقبہ غائب کا انتظار ہے اور حیا حضوریٔ مشاہدہ سے شرمانا’’ فرمایا ’’عبدیت دو خصلتوں میں ہے، اول خدا کے ساتھ ظاہر و باطن رہنا، دوسرے رسول اللہ صلعم کی پیروی پوری پوری بجالانا’’ فرمایا ’’شکر وہ ہے کہ اپے نفس کو صاحب نعمت نہ سمجھے‘‘ اور فرمایا ’’حد زہد کی تہی دست رہنا ہے‘‘ فرمایا ’’صد وہ ہے کہ جہاں بغیر جھوٹ کے نجات ناممکن ہو وہاں سچ بولے‘‘ فرمایا ’’صبر کی انتہا توکل ہے’’ فرمایا ’’صبر سختیوں پر تحمل کرنا اور ناخوشی کا اظہار نہ کرنا‘‘ فرمایا گوکل یہ ہے کہ بندہ خدا ہی کا ہو رہے جیسا کہ پیدا ہونے سے پہلے تھا‘‘ فرمایا ’’فتوت وہ ہے کہ فقیروں سے کینہ نہ رکھے اور امیروں سے معاوضہ نہ کرے اور جوان مردی یہ ہے کہ اپنا بوجھ دوسروں پر نہ رکھے‘‘ فرمایا ’’یقین وہ ہے جو پھر نہ بدلے اور نہ نکلے‘‘ فرمایا ’’خلق چار چیزیں ہیں، سخاوت، الفت، الفت، نصیحت اور شفقت‘‘ فرمایا ’’رضا وہ ہے کہ اختیار اٹھ جائے اور بلا کو نعمت سمجھے‘‘ فرمایا ’’فقیر ایک دریا ہے آفتوں کا اور دل کا اشکال سے خالی ہونا ہے‘‘ صوف آدھی طریقت ہے‘‘ توبہ اپنے کو ظلموں اور حضومت سے پاک کرنا ہے‘‘ فرمایا ’’حقیقت ذکر کی ذاکر کا ذکر میں فنا ہونا ہے اور کو مراجعت خلق سے اور جدائی اختیار کرنا طبیعت کی پیروی اور خواہشوں سے اور مار ڈالنا صفاتِ بشری کو اور دور رہنا نفسانی دعووں سے اور قائم ہونا صفاتِ روحانی کا اور ترقی کرنا علوم حقیقی کی طرف اور عمل میں لانا ان چیزوں کا جو تا ابد کام آئیں اور نصیحت کرنا خلق کو اور باوفا رہنا حقیقت حال پر اور متابعت رسول خدا کی‘‘ فرمایا ’’توحید یہ ہے کہ بخوبی پہچانے کہ سب خیر و شر منجانب اللہ ہیں، کسی کو اس کے ساتھ شرکت نہیں‘‘ پوچھا گیا کہ فنا بقا کیا ہے؟
فرمایا ’’بقا حق کو ہے اور فنا اس کے ماسوا کو‘‘ پوچھا تجرید کیا ہے؟ فرمایا ’’بندہ کا ظاہر خالی اغراض سے اور باطن پاک رہے اغراض سے‘‘ پوچھا محبت کیا؟ فرمایا ’’محبوب کی صفات محبت کی صفات ہو جائیں‘‘ پوچھا تفکر کیا ہے؟
فرمایا ’’خدا کی نشانیوں میں، نعمتوں میں، اس کے وعدوں میں، نفس کی صفتوں میں احسانوں میں فکر کرنا تفکر ہے‘‘ پوچھا اخلاص کیا ہے؟ فرمایا ’’جیسے نماز اہلِ شریعت میں فرض ہے، اسی طرح اخلاص طریقت میں فرض ہے‘‘ پوچھا خلق پر شفقت کس طرح ہو؟
فرمایا ’’جس وقت نفس سے کنارہ کش ہو جائے گا‘‘ پوچھا حلم میں زیادہ عزیز کون ہے؟
فرمایا ’’درویش راضی برضائے الٰہی‘‘ عرض کیا ’’صحبت کس کی چاہیے؟ فرمایا ’’جو ہمارے ساتھ نیکی کرے اور بھول جائے اور توم اس کا قصور کرو تو معاف کر دے‘‘ پوچھا گریہ سے بہتر کیا ہے؟ فرمایا ’’رونے پر رونا‘‘ پوچھا بندہ کون ہے؟ فرمایا جو دوسروں کی بندگی سے آزاد ہو‘‘ پوچھا مرید کون اور مراد کیا ہے؟ فرمایا ’’مرید وہ ہے کو سیاست میں حلم کے ساتھ رہے اور مراد وہ ہے جو رعایت میں حق تعالیٰ کی رہے‘‘ پوچھا تواضع کیا ہے؟ فرمایا ’’سرنگوں ہونا زمین پر سوناؤ‘‘ فرمایا ’’حرام کی طرف حلال سے رغبت کرنا عالم کی لغزش ہے اور بقا سے فنا کی طرف میل کرنا زہد کی لغزش ہے اور کریم سے کرامت کی طرف جانا عارف کی لغزش ہے‘‘
مولوی صاحب کشف و کرامات سے کیوں بیمار ہیں؟ جب کوئی مافوق العادات چیز کسی پیغمبر سے ظاہر ہوتی ہے اسے معجزہ کہتے ہیں، جب اؤلیااللہ سے ظاہر ہوتی ہے اسے کرامت کہا جاتا ہے، غیر مسلم سے جب ظہور کرامت ہوتا ہے تو اسے استدراج کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، معجزوں اور کرامتوں کا تذکرہ تو کلام مجید میں بھی موجود ہے، حضرت موسیٰ کا واقعہ دیکھیے، بی بی مریم نبی نہ تھیں مگر ان سے کرامت کا ظہور ہوا، ان کی کرامت کا تذکرہ کلام مجید میں موجود ہے، پس ان حالات میں کرامت سے انکار گویا کلام مجید سے انحراف ہے، مولوی صاحب بتائیں، کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہا نہیں بنا؟ کیا حضرت موسی علیہ السلام سے بیماروں نے شفا نہیں پائی، مردے زندہ نہیں ہوئے، کیا مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم سے نے سیکڑوں امور کشف فرما کر بہت پہلے ان کے ہونے کی خبر نہیں دی؟ کیا آپ سے صدہا معجزوں کا ظہور نہیں ہوا؟ یہ بھی رسولِ خدا کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ اپنی امت میں آنحضرت نہ ہزاروں اؤلیا کو صاحبِ کرامت بنا دیا، کیا حضرت عمر رضی اللہ نے سیکڑوں کوس دور سے فوج کو کمانڈ نہیں کیا؟ کیا امام الاؤلیا حضرت علی کرم اللہ وجہ سے سیکڑوں کرامتوں کا ظہور نہیں ہوا؟ کیا آپ کے مقلدین سے آج تک کرامتیں ظاہر نہیں ہورہی ہیں، حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ہی کو لیجیے، آپ مولانا علی کرم اللہ وجہہ کی روحی اور نسبی اولاد میں ہیں، آپ کی مبارک زندگی شاہد ہے کہ آپ سے ہزاروں کرامتوں کا ظہور ہوا، سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ ہندوستان میں آکر ہزاروں کو انسان اور انسان کامل بنا دیا، ہندالنبی کا خطاب پایا، اب تک سیکڑوں آپ کی آستانہ بوسی سے صاحبِ کرامت ہو رہے ہیں، یہ بھان متی کا تماشا نہیں ہے بلکہ انبیا کو معجزات اور اؤلیااللہ کو کرامتیں ثبوتِ صداقت کے لیے عطا کی گئی ہیں، علمائے ظاہر نے بہ دلائل و برہان اسلام کی صداقت لوگوں پر ظاہر کرکے تبلیغ کا کام انجام دیا، اؤلیا، اصفیا، مشائخین سے ظہور کرامت ہوا اور لوگوں نے کرامتوں سے متاثر ہو کر سرِ تسلیم بالمشاہدہ جھکا دیا، ان حضرات نے محبت کی زنجیروں میں ایسا جکڑا کہ قیامت تک رہائی نہ ہوئی۔
خیر طلب؍ محمد خادم حسن زبیری عثمانی معینی گدڑی شاہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.