Font by Mehr Nastaliq Web

بنامِ نامی حضرت جی میر سید علی ابوالعلائی غمگینؔ دہلوی

مرزا غالب

بنامِ نامی حضرت جی میر سید علی ابوالعلائی غمگینؔ دہلوی

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    دلچسپ معلومات

    مرزا غالب کے خطوط ادبِ اردو اور فارسی کا گراں قدر سرمایہ ہیں، وہ اپنے متعدد احباب اور بزرگوں کو پابندی سے خطوط لکھا کرتے تھے، انہی میں ایک نام حضرت میر سید علی ابوالعلائی غمگین دہلوی کا بھی ہے، جن کی خدمت میں مرزا غالب نے ایک فارسی خط ارسال کیا تھا، یہ بزرگ آج گوالیار میں مدفون ہیں، اپنے عہد کے معروف صوفی شاعر، صاحبِ حال بزرگ اور ولیِ کامل تھے اور سلسلۂ قادریہ اور ابوالعلائیہ کے جلیل القدر بزرگوں میں شمار ہوتے تھے، غالب کو ان سے خاص عقیدت تھی اور وہ اپنے خطوط میں احترام و محبت کے ساتھ ان کا ذکر کرتے تھے۔

    در دل بہ تمنائے قدم بوسِ تو شوریست

    شوقت چہ نمک دادہ مذاقِ ادبم را

    میرے دل میں تیری قدم بوسی کی تمنا کے سبب اک شور بپا ہے، تیرے اشتیاق نے میرے ذوق ادب کو کیسا نکھار دیا ہے۔

    جان بہ پائے قبلہ راستان افشاندن بہ دل گذرانم، اگر گستاخی نبود، کعبۂ رہروان را گردِ سر گردیدن آرزو کنم، اگر ادب دستوری دہد رسیدنِ نالہ ہائے دلاویز و شنیدنِ نکتہ ہایِ مہر انگیز کہ مرابہ خجستگی بختِ من امیدواری میدہد، برمن خجستہ ترباد۔ چون در آن چشم و دلم جادادہ اند، اگر از اوج گرائی سرم بہ سپہر ساید، بجاست و اگر از خودنمائی جز خودم در نظر نیاید، رواست۔ طالع یار خان صاحب بہ شمارۂ عنایتہائے آن محیطِ کرم بیخود از خودم ربودہ اند، وارادتِ مرا چند انکہ بہ شمار در نگنجد بر افزودہ۔ کیستم تابدین التفات ارزم ومرادر نکوئی این پایہ باشد کہ کس مرا تواند ستودہ و آرزو مندِ دیدنِ من تواند بود و آنگاہ این چنین گرانمایہ وو الاپایہ کسے کہ گوہرش آبروئے ہفت دریاست و گلش رنگ وبوئے ہشت گلشن، شبلی با آن ہمہ قطع نظر ہا از ماسوی اللہ در صومعہ بہ تمنائے قدومش چشم براہ و منصور با این ہمہ گرانۂ انا الحق در ہنگامہ بہ آرزوئے گفتارش گوش بر آواز، سبحان اللہ، آنکہ تجلیِ طوربہ پروانگی شمع جمالش ارزدبامن ارنی گفت و آنکہ دیدارش تابِ ہو نظر نبود از من دیدار جست، چہ کنم عمرے ست کہ ہمتِ من بہ کارے آویختہ و سرگرمیِ ذوقِ مطلبے شرر بہ پیراہنم ریختہ است۔ وآن خود کارے ست نازک و مطلبے ست دشوار کہ ازین پیش سالے چند بہ محکمہ رزیڈنٹیِ دہلی در کشاکش ماندہ و روز گارے دراز در انجمنِ فرماند ہانِ کلکتہ پیچ و تاب خوردہ، اکنون دو سال است کہ آن داوری بہ کشورِ لندن رفتہ و در آن داد گاہ سنجیدہ میشود، تا پاسخے ازان کشور و فرمانے ازان دادگاہ در نرسد، نتوانم بر جنبید و از دہلی بدررفت، اگر خواہم کہ پارۂ از حقیقتِ آن داوری بہ عرض رسانم، گویندہ را سر رشتۂ سخن از درازی گم شود و شنوندہ را گوہرِ راز بہ کف نیاید، بالجملہ چشم براہے و دلم بجائے ست و درین کشمکش کہ درون و بیرونِ مرادرہمِ دارد سفر نیارم کرد، اما دانم کہ روزگارِ انتظار سر آمدہ و ہنگامِ کشودِ کار در آمدہ، بر آنم و ہمہ ایں می سنجم کہ چوں حکمِ قطعِ خصومت از ولایت رسد، زاں پس جز آں مایہ مدت کہ بہ انجامِ ضروریاتِ سفر وفا تو اند کرد، بہ دہلی نیارامم و رو بہ گوالیار نہم و اگرروند گان بپا می روند، من بسر پویم، امید کہ بہ پرورش یافتگان و زلہّ ربایانِ مائدۂ فیضِ حضور فرمان شود کہ بہ اوقاتِ خاص مراد کارِ مرا در خیال آواردہ ہمت بدان گمارند کہ بزودی کارِ من سرہ گردد و مراد از در در آید، تا پائے رہ پیمائے من بہ خرامش کشاد پذیر دو جادۂ راہِ گوالیار پئے سپرِ من گردد۔

    مرکز راستاں کے قدموں میں جان نچھاور کرنے کے خیال کو اپنے دل میں گزارتا ہوں اور اگر گستاخی نہ ہو تو کعبۂ رہرواں کے سر کے گرد طواف کرنے کی آرزو رکھتا ہوں، اگر ادب اجازت دے تو دل آویز خطوط کا ورود اور نکتہ ہائے الفت انگیز کی سماعت جو مجھے میری خوش قسمتی کی امید دلاتا ہے مجھے ہزار بار مبارک ہو، چوں کہ آپ نے مجھے اپنے دیدہ و دل میں جگہ دی ہے تو اب بلند میلانی کے سبب اگر میرا سر آسمان سے جا لگے تو بجا ہے اور اگر خود نمائی کے باعث مجھے اپنے سوا کوئی دوسرا نظر نہ آئے تو جائز ہے، طالع یار خان صاحب نے اس دریائے کرم کی عنایتوں کے شمار سے مجھے خود سے بے خود اور میری ارادت میں بے حد و حساب اضافہ کر دیا ہے، بھلا میں اس التفات کے لائق کہاں ہوں اورں کی میں بھلا میرا کیا مرتبہ کہ کوئی میری تعریف کرے اور میرے دیدار کا تمنائی ہو اور وہ بھی ایسا بلند مربتہ اور گراں مایہ شخص کہ جس کو جوہر سات سمندروں کی آبرو ہو اور جس کا خمیر آٹھ گلشنوں کا رنگ و بو شبلی ماسوا سے اپنے انقطاع نظر کے باوجود عبادت خانے میں اس کے قدموں کی تمنا میں چشم براہ ہے اور منصور اس سارے زمزمۂ انالحق کے ہنگامے کے با وصف اس کی بات چیت کی آرزو میں گوش بر آواز ہے، سبحان اللہ وہ ذات کہ تجلیٔ طور بھی جس کے حسن کی شمع پر پروانگی کے لائق ہو مجھ سے ارنی کہہ رہا ہے اور وہ شخص کہ ہر نظر جس کے دیدار کی تاب نہیں رکھتی مجھ سے طلب گار دیدار ہے، کیا کروں ایک عمر سے میری توانائی ایک معاملے میں الجھی ہوئی ہے اور مقصد کے شوق کی شدت نے میری پیراہن میں چنگاری ڈال دی ہے اور وہ کام بہت نازک اور وہ مقصد بہت مشکل ہے کہ اس سے پہلے چند سال دہلی ریزیڈنٹی کے محکمے میں ایک کشاکش کی حالت میں رہا اور ایک طویل عرصے تک فرمان دہان کلکتہ کی عدالت میں پیچ و تاب کھاتا رہا اور اب دو سال ہوئے ہیں کہ وہ مقدمہ دیار لندن میں گیا ہے اور اس عدالت میں زیر غور ہے، جب تک اس ملک سے کوئی جواب اور اس عدالت سے کوئی حکم نہیں آ جاتا میں اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر سکتا اور دہلی سے باہر نہیں جا سکتا، اگر چاہوں کہ اس مقدمہ کی کچھ حقیقت بیان کروں تو طوالت کے سبب ایک طرف کہنے والا رشتہ سخن ہاتھ سے کھو بیٹھے گا تو دوسری طرف گوہر راز سننے والے کے ہاتھ بھی نہ آئے گا، غرضیکہ آنکھ منتظر ہے اور دل مجتمع چنانچہ اس کشمکش میں کہ جس نے میرے ظاہر و باطن کو درہم و برہم کر رکھا ہے، سفر نہیں کر سکتا لیکن اتنا سمجھتا ہوں کہ انتظار کا وقت ختم ہو چکا ہے اور کشودِ کار کی گھڑی آپہنچی ہے، اب خیال یہ ہے اور سوچ یہ رہا ہوں کہ جب ولایت سے اس عداوت کو ختم کر دینے والا حکم پہنچ جائے تو بجز اتنے وقت کے کہ سفر کی ضروریات کی انجام دہی میں لگے مزید دہلی میں نہ ٹھہروں اور عازمِ گوالیار ہو جاؤں اور جہاں راہرو پاؤں سے چلتے ہیں، میں سر کے بل چلوں، امید کرتا ہوں کہ جناب عالی کے دسترخوانِ فیض کے پرورش یافتوں اور ریزہ برداروں کو یہ حکم دے دیا جائے گا کہ خاص خاص اوقات میں مجھے اور میری مشکل کو تصور میں لا کر اس طرف توجہ دیں کہ جلد ہی میرا کام روا ہو جائے اور میری مراد پوری ہو تاکہ میرے پائے راہ پیما کو اپنی چال میں کشادگی ملے اور گوالیار کا راستہ میری رہ گذر بن جائے۔

    نہفتہ مباد کہ پس از رسیدنِ طالع یار خان صاحب بہ سہ روز منشورے کہ سراسر رقمِ بحثِ رنگ و بیرنگی داشت، در ڈاک بہ من رسیدہ و ہمت را تعویذِ بازو گردیدہ است و ہمچنین امید وارم کہ روزے چند پیش از رسیدن ایں عرض داشت سید امانت علی صاحب رسیدن آدابِ نیاز رابہ موقفِ قبول و غزلہائے فارسی را بہ منظرِ التفات رساندہ باشند، دریں نزدیکی میجر صاحبِ عنایت فرما میجر جان جاکوب صاحب بہادر دو تا نامہ بہ مضمونِ طلبِ تاریخ تعمیرِ دولت کدہ بہ من فرستادہ اند، ورقے بہ جوابِ آں ہر دو مکتوب کہ مشتمل بر قطعۂ تاریخ است در نوردِ ایں پوز شنامہ فرستادہ می شود و چوں کشادہ عنوانست میتوان خواند و بہ مکتوب الیہ رساند، مکرمی مطاعی جنابِ حکیم رضی الدین خاں صاحب کہ مرابہ لطف و تفقدمی نواز ند و دریں غمزدگی شادیِ من بہ دیدارِ ایشان است، سلامِ نیازمی رسانند و چوں من از دیدار طلبانند، زیادہ حدِ ادب۔

    واضح ہو کہ طالع یار خاں کے پہنچنے کے تین دن بعد وہ حکم نامہ کہ جس میں رنگ وبے رنگی کی بحت کی تحریر کے علاوہ کچھ نہیں تھا، ڈاک کے ذریعے مجھے ملا، اس کو میں نے بازوئے ہمت کا تعویذ بنا لیا ہے اور اس طرح امید وار ہوں کہ اس خط کے پہنچنے سے چند دن پہلے سید امانت علی صاحب پہنچ کر میرا آداب نیازِ آپ کے معرضِ ایجاب میں اور فارسی کی غزلیں پیش گاہِ التفات میں پہنچا چکے ہوں گے، ان ہی دنوں میں عنایت کرنے والے جناب میجر جان جاکوب صاحب بہادر نے مجھے دو خط تعمیرِ دولت خانہ کی تاریخ کی طلب کے لیے ارسال کئے ہیں، ان دونوں خطوں کے جواب میں لکھا گیا ورق کہ قطعۂ تاریخ پر مشتمل ہے معذرت نامہ سے منسلک کر کے ارسال کیا جا رہا ہے اور چوں کہ لفافہ بند نہیں کیا گیا ہے، پڑھا جا سکتا ہے اور مکتوب الیہ کو پہنچایا جا سکتا ہے، مکرمی و مطاعی جناب حکیم رضی الدین خاں صاحب کہ مجھ پر لطف و عنایت کرتے ہیں اور اس غمزدگی میں ان کا دیدار ہی میری شادمانی ہے سلامِ نیاز کہہ رہے ہیں اور میری طرح طالب دیدار ہیں۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے