تمام عالم نثار جن پر وہ جانِ عالم نگار تم ہو
تمام عالم نثار جن پر وہ جانِ عالم نگار تم ہو
چمن جہاں کے کھلے ہیں جس سے وہ روح پرور بہار تم ہو
رؤف تم ہو رحیم تم ہو کریم تم ہو غفور تم ہو
تمہاری رحمت پہ ہے بھروسا حبیب پروردگار تم ہو
شقی کے دل میں غبار تم سے عدو کے دل میں بخار تم سے
مگر ہے مؤمن نثار تم پر کہ حسنِ پروردگار تم ہو
نہیں ہے دل کو قرار تم بن نہیں ہے جاں کو سکون تم بن
مٹا دو سب اضطراب آقا کہ جان و دل کے قرار تم ہو
تمہی نے آنکھوں کو نور بخشا تمہی نے دل کو سرور بخشا
تمہی نے آکر مٹائی ظلمت کہ نور پروردگار تم ہو
تمہاری چوکھٹ پہ سر جھکائے کھڑے ہیں افلاک کے فرشتے
شہانِ عالم بھی جبھ سا ہیں وہ شاہِ والا تبار تم ہو
تمہاری مرضی خدا کی مرض تمہارے احکام امرِ ربی
ہے جس کے قدموں پہ کل زمانہ وہ صاحبِ اختیار تم ہو
جو دم کے دم میں گیا وہاں تک جہاں نہ وہم و گمان پہنچے
وہی تو کرسی نشین تم ہو وہی تو رف رف سوار تم ہو
تمہاری بخشش کی دھوم سن کر پڑا ہوں در پر تمہارے آکر
کرم کا صدقہ ملے گدا کو کہ شاہِ والا تبار تم ہو
- کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 32)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.