کبھی من رآنی سنا دیا کبھی رخ کا جلوہ دکھا دیا
کبھی من رآنی سنا دیا کبھی رخ کا جلوہ دکھا دیا
جو دکھانا تھا وہ دکھا دیا جو سنانا تھا وہ سنا دیا
کبھی طور ہے کبھی عرش ہے کبھی حسن ہے کبھی عشق ہے
کبھی لن ترانی سنا دیا کبھی سوتے سوتے جگا دیا
میں بھٹک رہا تھا ادھر ادھر نہ تھی روشنی نہ تھا راہبر
بنا عشق خود مرا رہنما مجھے رستہ میرا بتا دیا
نہ تلاشِ دیر و حرم رہی نہ خیالِ سود و زیاں رہا
ترے عشق نے یہ کرم کیا غمِ ماسویٰ سے چھڑا دیا
نہ میں ایسا مست الست تھا نہ میں ایسا غافل ہوش تھا
نہ رہی مجھے بھی خبر مری تو نے جام کیسا پلا دیا
نہیں جسم گھلنے کا کچھ بھی غم نہیں جان جانے کا کچھ الم
یہ ستم بھی عین کرم ہوا کہ فنا نے لطفِ بقا دیا
نہیں اس میں مِری خطا ذرا کہ حریف تیرا میں بن گیا
تو نے خود ہی تو یہ غضب کیا کہ حبیب اپنا دکھا دیا
تجھے کچھ خبر بھی ہے بے خبر کہ ہے راز دلیل و نہار کیا
کبھی چہرہ اس نے چھپا لیا کبھی رخ سے برقع اٹھا دیا
تری رفعتوں پہ نثار میں تری قدرتوں کا شمار کیا
کبھی چاند اشاروں سے دو کیا کبھی خود کو الٹا پھرا دیا
- کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 54)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.