Font by Mehr Nastaliq Web

کبھی من رآنی سنا دیا کبھی رخ کا جلوہ دکھا دیا

عابد بریلوی

کبھی من رآنی سنا دیا کبھی رخ کا جلوہ دکھا دیا

عابد بریلوی

MORE BYعابد بریلوی

    کبھی من رآنی سنا دیا کبھی رخ کا جلوہ دکھا دیا

    جو دکھانا تھا وہ دکھا دیا جو سنانا تھا وہ سنا دیا

    کبھی طور ہے کبھی عرش ہے کبھی حسن ہے کبھی عشق ہے

    کبھی لن ترانی سنا دیا کبھی سوتے سوتے جگا دیا

    میں بھٹک رہا تھا ادھر ادھر نہ تھی روشنی نہ تھا راہبر

    بنا عشق خود مرا رہنما مجھے رستہ میرا بتا دیا

    نہ تلاشِ دیر و حرم رہی نہ خیالِ سود و زیاں رہا

    ترے عشق نے یہ کرم کیا غمِ ماسویٰ سے چھڑا دیا

    نہ میں ایسا مست الست تھا نہ میں ایسا غافل ہوش تھا

    نہ رہی مجھے بھی خبر مری تو نے جام کیسا پلا دیا

    نہیں جسم گھلنے کا کچھ بھی غم نہیں جان جانے کا کچھ الم

    یہ ستم بھی عین کرم ہوا کہ فنا نے لطفِ بقا دیا

    نہیں اس میں مِری خطا ذرا کہ حریف تیرا میں بن گیا

    تو نے خود ہی تو یہ غضب کیا کہ حبیب اپنا دکھا دیا

    تجھے کچھ خبر بھی ہے بے خبر کہ ہے راز دلیل و نہار کیا

    کبھی چہرہ اس نے چھپا لیا کبھی رخ سے برقع اٹھا دیا

    تری رفعتوں پہ نثار میں تری قدرتوں کا شمار کیا

    کبھی چاند اشاروں سے دو کیا کبھی خود کو الٹا پھرا دیا

    مأخذ :
    • کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 54)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے