سوئے جنت کون جائے کوئے طیبہ دیکھ کر
سوئے جنت کون جائے کوئے طیبہ دیکھ کر
شاخِ طوبی کون دیکھے قدِ بالا دیکھ کر
اک سراپا نور انساں کا سراپا دیکھ کر
محوِ حیرت ہوگیا سارا زمانہ دیکھ کر
شمسِ فاراں کی شعاعیں پڑ رہی ہیں قلب پر
کیا کریں گی اپنی آنکھیں طورِ سینا دیکھ کر
اک جھلک سے ہوگئے بے ہوش تم تو اے کلیم
عرش سے آئے نبی بزمِ تجلی دیکھ کر
حکم پر چلتے ہیں ان کے یہ زمین و آسماں
چاند دو ٹکڑے ہوا ان کا اشارہ دیکھ کر
چار جانب سے ہجوم تشنگاں آنے لگا
انگلیوں سے مؤجزن رحمت کا دریا دیکھ کر
سورج الٹے پاؤں پلٹا چاند ٹکڑے ہوگیا
سنگریزے بول اٹھے ایمائے مولیٰ دیکھ کر
بے خودی شوق میں معراج حاصل ہوگئی
رکھ دی جب میں نے جبیں نقشِ کفِ پا دیکھ کر
سر بہ سجدہ ہوگیا عابدؔ وفورِ شوق میں
روئے احمد دیکھ کر کعبے کا قبلہ دیکھ کر
- کتاب : Monthly Na'at, Lahore (Pg. 76)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.