Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

آج دن مولود کا آیا رسول_پاک کا

راقم دہلوی

آج دن مولود کا آیا رسول_پاک کا

راقم دہلوی

MORE BYراقم دہلوی

    آج دن مولود کا آیا رسول پاک کا

    رنگ بدلا ہے زمیں کا عالم افلاک کا

    یہ نصیب اللہ اکبر یہ مقدر خاک کا

    سر پہ اپنے جو قدم رکھے رسول پاک کا

    آج وہ رنگ جہاں ہے جو کبھی دیکھا نہ تھا

    وہ زمیں کا مرتبہ ہے جو نہیں افلاک کا

    کچھ افق ہے نور آگیں کچھ شفق ہے لال لال

    ذرہ ذرہ آئینہ ہے حسن روئے خاک کا

    نغمۂ بلبل کہیں گلبانگ غنچوں کی کہیں

    زمزمہ آمیں کا ہے غلغلہ لولاک کا

    دیکھ کر وجد صبا رقص نسیم صبح گاہ

    تنکا تنکا رقص کرتا ہے خس و خاشاک کا

    عالم دنیا تماشاگاہ عالم بن گیا

    سیر گاہ قدسیاں ہے پردہ پردہ خاک کا

    ایک تتق ہے نور کا فرش زمیں سے عرش تک

    صاف آتا ہے نظر جلوہ رسول پاک کا

    یہ تجلی زار عالم اس لیے حق نے کیا

    جلوہ دیکھے آپ مولود حبیب پاک کا

    اس قدر حوروں کی کثرت ہے ملایک کا ہجوم

    بند رستہ ہو گیا ہے عرصۂ افلاک کا

    سنتے ہیں آتے ہیں گیتی پر حبیب‌ کبریا

    ہاں کرے نظارۂ‌ استقبال اہل خاک کا

    دیکھنا شان و جلال آمد شاہ امم

    گوشہ تھامے سات ہیں روح القدس فتراک کا

    آمد آمد کی خبر سے سرور کونین کی

    رنگ سن کر اڑ گیا چہرہ سے ہر سفاک کا

    یاں عرب میں کھلبلی تھی واں عجم میں زلزلہ

    گر گیا نوشیرواں کا کنگرہ املاک کا

    اڑ گیا کافر نگاہی سے غرور کافری

    مٹ گیا سارا غرور اب دیدۂ غراک کا

    اب کہاں کافر ادائی ابروئے خم دار میں

    اب وہ کافر بل ہی نکلا کاکل پیچاک کا

    دل کھچا جاتا ہے ایک اک کا مدینہ کی طرف

    رخ پھرا جاتا ہے ایک اک دیدۂ بیباک کا

    کیا لکھیں حسن شمائل سرور کونین ہم

    بند ہے دم فہم کا اور حافظہ ادراک کا

    آپ وہ آدم نہ تھے جس خاک سے آدم بنا

    نور حق سے تھا بنا پیکر رسول پاک کا

    نور یکتا آپ تھے آداب یکتائی تھا ساتھ

    اس لیے بے سایہ تھا قامت بھی ذات پاک کا

    دل کشی صورت میں آنکھوں میں مسیحائی کے طور

    گفتگو میں وہ اثر جو کام دے تریاک کا

    وصف کیا لکھنے نبیؐ کا حوصلہ کیا کلک کا

    لب نہیں ہلتا زبان خامۂ چالاک کا

    بس زبان کو روک لو راقمؔ ادب کہتا ہے یہ

    وصف خالق جانتا ہے کچھ حبیب پاک کا

    مأخذ :
    • کتاب : مرقع نعت (Pg. 2)
    • Author : راقمؔ دہلوی
    • مطبع : نظام المطابع، حیدرآباد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے