نظر میں عرش کے جلوے ہیں دل منور ہے
نظر میں عرش کے جلوے ہیں دل منور ہے
مری زباں پہ وصفِ رخِ پیمبر ہے
قدم قدم پہ جلے تری رہبری کے چراغ
نفس نفس تری تطہیر سے معطر ہے
مٹا دے امتِ مرحوم کی بھی تشنہ لبی
کہ تیرے قبضے میں زمزم ہے اور کوثر ہے
نہیں ہے غم ہمیں خورشیدِ حشر کا ہرگز
ہمارے سر پہ تری رحمتوں کی چادر ہے
نگاہ حسن جہاں پر نہیں مری عارجؔ
کہ دل اسیر ادائے رخِ پیمبر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.