جب سے میں تیرے عشق میں گم ہوں
جب سے میں تیرے عشق میں گم ہوں
ایک قطرہ تھا بحرِ قلزم ہوں
نعت کس کس مقام تک لائی
پردہ ہوں ساز ہوں ترنم ہوں
جو مئے عشق سے لبالب ہے
میں وہ مینا وہ جام وہ خم ہوں
مجھ میں شمعِ یقیں فروزاں کر
ورنہ میں تو شبِ توھم ہوں
تجھ سے مجھ میں توازنِ رفتار
میں کہ فطرت میں اک تلاطم ہوں
ان کو تو نے دیا ہے حسنِ مزاج
جن عناصر کا میں تصادم ہوں
میرے آدابِ گفتگو تری دین
میں کہ شیرینئ تکلم ہوں
میرے نقاش میرے سیرت ساز
میں محبت بھرا تبسم ہوں
جی اٹھی تجھ سے خاکِ مردہ مری
میں کہ تیرا ترانۂ قم ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.