اقلیمِ دو جہاں کے شہنشاہ فضل کر
اقلیمِ دو جہاں کے شہنشاہ فضل کر
اللہ فضل کر مرے اللہ فضل کر
اے وہ کہ تجھ سے جلوۂ خورشید التفات
اے کہ وہ تجھ سے روشنئ ماہ فضل کر
اے وہ کہ چشم چشمِ بصیرت ترے سبب
اے وہ کہ تجھ سے دل دلِ آگاہ فضل کر
پلکوں پہ جب ہو قافلۂ اشک روک دے
ہونٹوں پہ جب ہو سلسلۂ آہ فضل کر
پڑتے ہوں جب مصائبِ پیہم نگاہ رکھ
ڈستے ہوں جب حوادثِ نگاہ فضل کر
بہکیں قدم تو جانبِ منزل سے دے صدا
جب آدمی کا نفس ہو گمراہ فضل کر
جب دل میں حرصِ زر ہو قناعت کا عزم دے
جب نفس میں رچے طلبِ جاہ فضل کر
عاصیؔ ہوں معصیت کے سمندر میں غرق ہوں
پھر بھی ہوں ایک بندۂ درگاہ فضل کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.