Font by Mehr Nastaliq Web

اقلیمِ دو جہاں کے شہنشاہ فضل کر

عاصی کرنالی

اقلیمِ دو جہاں کے شہنشاہ فضل کر

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    اقلیمِ دو جہاں کے شہنشاہ فضل کر

    اللہ فضل کر مرے اللہ فضل کر

    اے وہ کہ تجھ سے جلوۂ خورشید التفات

    اے کہ وہ تجھ سے روشنئ ماہ فضل کر

    اے وہ کہ چشم چشمِ بصیرت ترے سبب

    اے وہ کہ تجھ سے دل دلِ آگاہ فضل کر

    پلکوں پہ جب ہو قافلۂ اشک روک دے

    ہونٹوں پہ جب ہو سلسلۂ آہ فضل کر

    پڑتے ہوں جب مصائبِ پیہم نگاہ رکھ

    ڈستے ہوں جب حوادثِ نگاہ فضل کر

    بہکیں قدم تو جانبِ منزل سے دے صدا

    جب آدمی کا نفس ہو گمراہ فضل کر

    جب دل میں حرصِ زر ہو قناعت کا عزم دے

    جب نفس میں رچے طلبِ جاہ فضل کر

    عاصیؔ ہوں معصیت کے سمندر میں غرق ہوں

    پھر بھی ہوں ایک بندۂ درگاہ فضل کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے