فضائے مدح میں ہم جذبۂ کامل سے آئے ہیں
فضائے مدح میں ہم جذبۂ کامل سے آئے ہیں
یہ نعتیں دل سے نکلی ہیں یہ مضموں دل سے آئے ہیں
ہمارا ظرفِ دل دیکھو ہمارا ضبطِ غم دیکھو
مدینہ جس کو کہتے ہیں ہم اس منزل سے آئے ہیں
فراقِ ارضِ یثرب میں ہر آنسو تخمِ گریہ ہے
یہ دریا جاں سے امڈے ہیں یہ طوفاں دل سے آئے ہیں
غمِ فرقت میں دل تڑپا تو پیغامِ طلب آیا
کشائش کے قرینے عقدۂ مشکل سے آئےہیں
مدینہ کھینچ لیتا ہے تو پھر کھنچنے نہیں دیتا
کِس آسانی سے ہم پہنچے تھے کس مشکل سے آئے ہیں
نظامِ عدل دستورِ وفا منشورِ اخلاقی
یہ گل دستے اسی کی سیرتِ کامل سے آئے ہیں
فرشتے عرش کی خلوت سے اترے ہیں شرف ان کا
مگر جو آدمی سرکار کی محفل سے آئے ہیں
درود اس نورِ اول پر پڑھا ہے حال و ماضی نے
سلام اس مرسلِ آخر پہ مستقبل سے آئے ہیں
ہمیں ان کی فضائے نور میں تحلیل ہونا ہے
سلاسل توڑ کر زندانِ آب و گل سے آئے ہیں
الا اے سارباں ناقہ اسی وادی میں ٹھہرا دے
کہ رکنے کے اشارے پردۂ محمل سے آئے ہیں
مری کشتی کو اب اندیشۂ طوفاں نہیں عاصیؔ
کہ بادِ شُرط کے جھونکے لبِ ساحل سے آئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.