Font by Mehr Nastaliq Web

فضائے مدح میں ہم جذبۂ کامل سے آئے ہیں

عاصی کرنالی

فضائے مدح میں ہم جذبۂ کامل سے آئے ہیں

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    فضائے مدح میں ہم جذبۂ کامل سے آئے ہیں

    یہ نعتیں دل سے نکلی ہیں یہ مضموں دل سے آئے ہیں

    ہمارا ظرفِ دل دیکھو ہمارا ضبطِ غم دیکھو

    مدینہ جس کو کہتے ہیں ہم اس منزل سے آئے ہیں

    فراقِ ارضِ یثرب میں ہر آنسو تخمِ گریہ ہے

    یہ دریا جاں سے امڈے ہیں یہ طوفاں دل سے آئے ہیں

    غمِ فرقت میں دل تڑپا تو پیغامِ طلب آیا

    کشائش کے قرینے عقدۂ مشکل سے آئےہیں

    مدینہ کھینچ لیتا ہے تو پھر کھنچنے نہیں دیتا

    کِس آسانی سے ہم پہنچے تھے کس مشکل سے آئے ہیں

    نظامِ عدل دستورِ وفا منشورِ اخلاقی

    یہ گل دستے اسی کی سیرتِ کامل سے آئے ہیں

    فرشتے عرش کی خلوت سے اترے ہیں شرف ان کا

    مگر جو آدمی سرکار کی محفل سے آئے ہیں

    درود اس نورِ اول پر پڑھا ہے حال و ماضی نے

    سلام اس مرسلِ آخر پہ مستقبل سے آئے ہیں

    ہمیں ان کی فضائے نور میں تحلیل ہونا ہے

    سلاسل توڑ کر زندانِ آب و گل سے آئے ہیں

    الا اے سارباں ناقہ اسی وادی میں ٹھہرا دے

    کہ رکنے کے اشارے پردۂ محمل سے آئے ہیں

    مری کشتی کو اب اندیشۂ طوفاں نہیں عاصیؔ

    کہ بادِ شُرط کے جھونکے لبِ ساحل سے آئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے