میں کہاں فن کہاں کمال کہاں
میں کہاں فن کہاں کمال کہاں
نعت لکھوں مری مجال کہاں
عشق ان کا مسرتِ ابدی
اب میں آزردۂ ملال کہاں
ہم تو ہیں منزلِ حضوری میں
سفرِ فرقت و وصال کہاں
ان کا ہر حکم اک اٹل قانون
حکمِ حاکم میں قیل و قال کہاں
شہرِ طیبہ میں ارضِ ملتاں میں
کیا خبر ہوگا انتقال کہاں
جب اسے لوگ دیکھ سکتے تھے
لے اڑا طائرِ خیال کہاں
مری آنکھیں تو ہیں مری آنکھیں
تیرا نظارۂ جمال کہاں
جھولیاں بھر رہی ہیں آپ ہی آپ
یعنی گنجائشِ سوال کہاں
ہم تو جنت میں جائیں گے عاصیؔ
نارِ دوزخ کا احتمال کہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.