Font by Mehr Nastaliq Web

میں کہاں فن کہاں کمال کہاں

عاصی کرنالی

میں کہاں فن کہاں کمال کہاں

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    میں کہاں فن کہاں کمال کہاں

    نعت لکھوں مری مجال کہاں

    عشق ان کا مسرتِ ابدی

    اب میں آزردۂ ملال کہاں

    ہم تو ہیں منزلِ حضوری میں

    سفرِ فرقت و وصال کہاں

    ان کا ہر حکم اک اٹل قانون

    حکمِ حاکم میں قیل و قال کہاں

    شہرِ طیبہ میں ارضِ ملتاں میں

    کیا خبر ہوگا انتقال کہاں

    جب اسے لوگ دیکھ سکتے تھے

    لے اڑا طائرِ خیال کہاں

    مری آنکھیں تو ہیں مری آنکھیں

    تیرا نظارۂ جمال کہاں

    جھولیاں بھر رہی ہیں آپ ہی آپ

    یعنی گنجائشِ سوال کہاں

    ہم تو جنت میں جائیں گے عاصیؔ

    نارِ دوزخ کا احتمال کہاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے