اسی نے نقش جمائے ہیں لالہ زاروں پر
اسی نے نقش جمائے ہیں لالہ زاروں پر
اسی کے نور کی مہریں ہیں چاند تاروں پر
اسی سے پھول کھلے سطحِ ریگ پر کیا کیا
بہار ٹوٹ کے آئی ہے ریگ زاروں پر
درود اس پہ گلوں کا سلام کلیوں کا
وہ جس کے حسن کا احسان ہے بہاروں پر
میں ارضِ طیبہ ازل سے ہوں طالبِ دیدار
مری نگاہ کا حق ہے تیرے نظاروں پر
کبھی جو وحی کے انوار سے چمکتے تھے
سلام نوعِ بشر کا ہو ان مناروں پر
بہت ادب سے بہت احتیاط سے چلنا
کبھی چلو جو مدینے کی رہ گزاروں پر
مرا نظامِ طبیعت مرا اصولِ حیات
نظر جمائے ہوئے ہیں ترے اشاروں پر
تبھی تھمیں گے مرے اشک جب وہ چاہیں گے
کہاں ہے میرا تصرف ان آبشاروں پر
اسی کا فیضِ نظر ہیں یہ عظمتیں عاصیؔ
کہ بادشاہوں کا دھوکا ہے خاکساروں پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.