Font by Mehr Nastaliq Web

اسی نے نقش جمائے ہیں لالہ زاروں پر

عاصی کرنالی

اسی نے نقش جمائے ہیں لالہ زاروں پر

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    اسی نے نقش جمائے ہیں لالہ زاروں پر

    اسی کے نور کی مہریں ہیں چاند تاروں پر

    اسی سے پھول کھلے سطحِ ریگ پر کیا کیا

    بہار ٹوٹ کے آئی ہے ریگ زاروں پر

    درود اس پہ گلوں کا سلام کلیوں کا

    وہ جس کے حسن کا احسان ہے بہاروں پر

    میں ارضِ طیبہ ازل سے ہوں طالبِ دیدار

    مری نگاہ کا حق ہے تیرے نظاروں پر

    کبھی جو وحی کے انوار سے چمکتے تھے

    سلام نوعِ بشر کا ہو ان مناروں پر

    بہت ادب سے بہت احتیاط سے چلنا

    کبھی چلو جو مدینے کی رہ گزاروں پر

    مرا نظامِ طبیعت مرا اصولِ حیات

    نظر جمائے ہوئے ہیں ترے اشاروں پر

    تبھی تھمیں گے مرے اشک جب وہ چاہیں گے

    کہاں ہے میرا تصرف ان آبشاروں پر

    اسی کا فیضِ نظر ہیں یہ عظمتیں عاصیؔ

    کہ بادشاہوں کا دھوکا ہے خاکساروں پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے