Font by Mehr Nastaliq Web

آگے بڑھتا ہوں تو میں عرش سے ٹکراتا ہوں

عاصی کرنالی

آگے بڑھتا ہوں تو میں عرش سے ٹکراتا ہوں

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    آگے بڑھتا ہوں تو میں عرش سے ٹکراتا ہوں

    لوٹتا ہوں تو ستاروں پہ قدم رکھتا ہوں

    بے ہنر ہوں پہ مرے خون میں ہے ذوقِ ثنا

    پر تو رکھتا نہیں پرواز کا دم رکھتا ہوں

    میرے ماحول میں دنیا ہے مرے دل میں نہیں

    جسے رکھتا ہوں زیادہ اسے کم رکھتا ہوں

    ان سے ملنے کی خوشی ان سے نہ ملنے کا الم

    بس یہ رکھتا ہوں خوشی بس یہ الم رکھتا ہوں

    دل کو کب سے صنم آباد بنا رکھا ہے

    آج ڈھا کر اسے بنیادِ حرم رکھتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے