آگے بڑھتا ہوں تو میں عرش سے ٹکراتا ہوں
آگے بڑھتا ہوں تو میں عرش سے ٹکراتا ہوں
لوٹتا ہوں تو ستاروں پہ قدم رکھتا ہوں
بے ہنر ہوں پہ مرے خون میں ہے ذوقِ ثنا
پر تو رکھتا نہیں پرواز کا دم رکھتا ہوں
میرے ماحول میں دنیا ہے مرے دل میں نہیں
جسے رکھتا ہوں زیادہ اسے کم رکھتا ہوں
ان سے ملنے کی خوشی ان سے نہ ملنے کا الم
بس یہ رکھتا ہوں خوشی بس یہ الم رکھتا ہوں
دل کو کب سے صنم آباد بنا رکھا ہے
آج ڈھا کر اسے بنیادِ حرم رکھتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.