Font by Mehr Nastaliq Web

ہر طرف جب ترے انوار جھلکتے جائیں

عاصی کرنالی

ہر طرف جب ترے انوار جھلکتے جائیں

عاصی کرنالی

MORE BYعاصی کرنالی

    ہر طرف جب ترے انوار جھلکتے جائیں

    قافلے کیوں رہِ ہستی سے بھٹکتے جائیں

    زائرو کھلتے رہیں لب پہ درودوں کے چمن

    راستے ذکرِ محمد سے مہکتے جائیں

    دیدہ و دل پہ بڑی گرد ہے اے ابرِ کرم

    چند چھینٹے کہ یہ آئینے چمکتے جائیں

    ہم مسلسل پئیں وہ ہم کو لگاتار پلائیں

    مئے کوثر سے بھرے جام چھلکتے جائیں

    جس بھی صحرا میں ہو اس جانِ بہاراں کا گزر

    ذرے چھو چھو کے قدم اس کے چٹکتے جائیں

    اک توجہ کہ مرے دل میں ہوں جذبے روشن

    بجھ گئے ہیں جو ستارے وہ دمکتے جائیں

    اے شبِ ہجر تو ہے کتنے زمانوں پہ محیط

    کب تک آنسو مری پلکوں سے چھلکتے جائیں

    حشر میں نامۂ اعمال ہو جب پیشِ خدا

    ہم ترے پہلوئے رحمت میں سرکتے جائیں

    یوں چلیں مدح سرا سوئے مدینہ عاصیؔ

    جیسے طائر طرفِ باغ چہکتے جائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے