ہر طرف جب ترے انوار جھلکتے جائیں
ہر طرف جب ترے انوار جھلکتے جائیں
قافلے کیوں رہِ ہستی سے بھٹکتے جائیں
زائرو کھلتے رہیں لب پہ درودوں کے چمن
راستے ذکرِ محمد سے مہکتے جائیں
دیدہ و دل پہ بڑی گرد ہے اے ابرِ کرم
چند چھینٹے کہ یہ آئینے چمکتے جائیں
ہم مسلسل پئیں وہ ہم کو لگاتار پلائیں
مئے کوثر سے بھرے جام چھلکتے جائیں
جس بھی صحرا میں ہو اس جانِ بہاراں کا گزر
ذرے چھو چھو کے قدم اس کے چٹکتے جائیں
اک توجہ کہ مرے دل میں ہوں جذبے روشن
بجھ گئے ہیں جو ستارے وہ دمکتے جائیں
اے شبِ ہجر تو ہے کتنے زمانوں پہ محیط
کب تک آنسو مری پلکوں سے چھلکتے جائیں
حشر میں نامۂ اعمال ہو جب پیشِ خدا
ہم ترے پہلوئے رحمت میں سرکتے جائیں
یوں چلیں مدح سرا سوئے مدینہ عاصیؔ
جیسے طائر طرفِ باغ چہکتے جائیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.