ترا لطف جس کو چاہے اسے ضوفشاں بنا دے
ترا لطف جس کو چاہے اسے ضوفشاں بنا دے
جو بکھر رہے ہیں ذرے انہیں کہکشاں بنا دے
جو تری رضا ہو مولیٰ تو بہار ہی نہ جائے
جو کھلے ہوئے چمن ہیں انہیں بے خزاں بنا دے
مجھے روشنی عطا کر مجھے آگہی عطا کر
مرے دل کو دل بنا دے مری جاں کو جاں بنا دے
میں ہوں رزق پستیوں کا مجھے سرفراز کر دے
میں زمینِ مبتذل ہوں مجھے آسماں بنا دے
میں غبارِ نیستی ہوں تو نگاہِ مرحمت سے
مجھے بے پناہ کر دے مجھے بے کراں بنا دے
میں ہوں دشت دشت رسوا کڑی دھوپ کا سفر ہے
تو کرم کے بادلوں کو مرا سائباں بنا دے
جو عمل ہو مجھ سے صادر تو وہ خیر کا عمل ہو
جو عمل کی برکتیں ہوں انہیں جاوداں بنا دے
شبِ تیرہ کے جگر سے تو سحر ابھارتا ہے
مرا جہل دور کر دے مجھے نکتہ داں بنا دے
ترے اختیار میں ہیں سبھی حسن کے خزانے
مجھے خوش خیال کر دے مجھے خوش بیاں بنا دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.